Thursday, June 30, 2011

خون فوبیا، چوزہ فوبیا اور بچپن سے لڑکپن کی کچھ یادیں


ہو سکتا ہے کہ یہ کَٹر لکڑی کے ساتھ ساتھ میرا ہاتھ بھی کاٹ دے ، میرے یہ سوچتے سوچتے کَٹر میرے ہاتھ سے پھسلا اور لکڑی کو چیرتا ہوا میری شہادت کی انگلی پر ہلکا سا پِھر گیا ، انگلی سے نکلنے والا قطرہ دیکھ کر میرے منہ پر ناجانے کیوں ہلکی سی مُسکراہٹ آگئی ۔یہ کَٹر میں ویر ہاوس سے ہی لے آیا تھا ، اصل میں اسکو میں واپس آتے وقت اپنی جیب میں ہی بھول گیا تھا ، یہ اُن دنوں کی بات ہے جب گرمیوں کی چھُٹیوں میں مجھے ایک ویر ہاوس پر چند دن کی نوکری ملی تھی ، ڈبے کاٹنے کے لیے استعمال کرنے والا کٹر میں واپسی پر اپنی جیب میں ہی بھول گیا تھا ۔ گھر پہنچ کر دیکھا تو ثانی کا ایم ایس این پر آف لائن میسج تھا کہ کرِیک کے تیسرے پُل کے پاس چھ بجے ملو۔  میں نے جلدی جلدی کھانا کھایا ، میری سِکس پاکٹ بلیک پینٹ، جو اب ویر ہاوس میں کام کرنے کی وجہ سے گرد سے نہ صرف اَٹی ہوی تھی بلکہ اُسکا رنگ بھی بلیک سے براون ہو رہا تھا ۔  میرے بال بھی گرد سے اٹے ہوے تھے ، نیلے رنگ کی شرٹ بھی براونش ہو رہی تھی ، لیکن میرے پاس اِن چیزوں کے بارے میں سوچنے کا وقت نہیں تھا کیونکہ چھ بجنے میں کچھ ہی دیر رہ گئی تھی ۔ کھانے سے فارغ ہو کر میں نے اپنی سائیکل کو نکالا اور مِنی مارٹ کی طرف چل دیا جہاں سے رفلز کی چلی چیز خرید کر میرا ارادہ  کرِیک کی طرف  جانے کا تھا۔
 ابھی میں یہ ہی سوچ رہا تھا کہ کیا کروں  جب میں نے اچانک ایک خالص زنانہ چیخ سُنی ، اور یقیناً یہ ثانیہ کی طرف سے تھی ، میں سوچ رہا تھا کہ شاید وہ اس خرگوش کو دیکھنے میں کامیاب ہو گئی ہے جسکی وجہ سے وہ مجھے بھی اس اُونچی گھاس میں گھُما رہی ہے ۔ میں نے اپنے دائیں طرف دیکھا ثانیہ کی آنکھیں بہت گہری کھُلی ہوئی تھیں، اور اسنے اپنے دونوں ہاتھوں کو منہ پر رکھا ہوا تھا اسی دوران ثانیہ ہلکے ہلکے کانپ بھی رہی تھی ۔ میں نے اُسکی طرف بڑھنے کو قدم اُٹھایا تو اسکی حالت دیکھ کر جیسا تھا ویسے ہی جَم گیا ، میرا ایک پاوں زمین سے اُٹھے کا  اُٹھا ہی رہ گیا ، "کیا کوی سانپ دیکھ لیا کیا ؟ " میں نے اپنے خدشے کو سوالیہ انداز میں دوہرا کر نیچے کی جانب دائیں بائیں اور آگے پیچھے دیکھا لیکن سانپ کے کہیں بھی آثار نہ تھے ۔ اپنی طرف سے اطمینان کرنے کے بعد میں ثانیہ کی طرف بڑھا جو بلکل اُسی طرح کھڑی کانپ رہی تھی ۔جونہی میں اُسکی طرف بڑھا وہ پیچھے کو ہٹی میں نے پریشان ہو کر پھر نیچے اِدھر اُدھر دیکھا، میرا یقین پُختا ہونے لگا کہ پچھلی دفعہ کی طرح اب بھی یہ میرے ساتھ کوی ڈرامہ کر رہی ہے ۔
میں نے تسلی کرنے کے لیے پھر اُس سے پوچھا "ثانیہ کیا ہوا " اُسنے اپنے بائیں ہاتھ کی اُنگلی سے میری اُنگلی کی طرف اِشارہ کیا جس سے ابھی بھی خون کے قطرے گِر رہے تھے ۔ "اوہ یہ ، تم یہ دیکھ کر اتنا  ڈر رہی ہو ؟ ہی ہی ہی کِتنی پھٹُو ہو تم" ۔ ثانیہ کی اس حرکت سے مجھے پاکستان میں اپنے سکول کا وہ لڑکا یاد آگیا جسکو چوزا فوبیا تھا ، یعنی چوزوں سے بہت ڈر لگتا تھا ، اور مجھے چوزے پالنے کا جنون کی حد تک شوق تھا ، میرے ہمسائے مجھے دیکھ کر ہنسا کرتے تھے جب میں اپنے گھر کی چھت پر ایک کونے میں اپنے چوزے کو گود میں لیے اس سے باتیں کیا کرتا تھا ۔ ایک دِن وہ لڑکا میرے گھر آیا اور جب مجھے پتا چلا کہ اُسکو چوزہ فوبیا ہے تو میں نے اپنا چوزہ اسکے آگے کیا وہ پیچھے ہٹا اور مجھے یاد ہے کہ میں کافی دور تک اُسکے پیچھے چوزہ پکڑے بھاگتا رہا تھا ، اور آئندہ اُسنے مجھے کبھی تنگ بھی نہیں کیا تھا ۔ میں نے یہ ہی طریقہ ثانیہ پر آزمانے کا بھی سوچا ، میرا خیال تھا کہ مزا رہے گا جب ثانیہ خون کے قطرے سے ڈرتے ہوے بھاگے گی اور میں اپنی اُنگلی آگے کیے اسکے پیچھے پیچھے بھاگوں گا ، لیکن جیسے ہی میں تھوڑا آگے بڑھا ثانیہ پیچھے ہٹتی ہٹتی نیچے گِر گئی اور گھاس پر ہی پیچھے ہٹنے لگی ۔ تب مجھے خیال آیا کہ شاید یہ فوبیا اُس چوزہ فوبیا سے زیادہ سخت ترین ہے ۔ میں پیچھے ہٹا اور اپنی جیب سے " بینڈیج المعروف بہ سنی پلاس" نکالا ۔
کباڑیے کا کباڑیہ پن کبھی تو کام آہی جاتا ہے ، بقول امی کے میں ایک کباڑیہ ہوں اور کباڑیے کا خطاب مجھے بچپن ہی سے فضول چیزیں( جنکو اپنی طرف سے میں بڑٰ ی کام کی سمجھتا تھا ) جمع کرنے کی وجہ سے دیا گیا ، جسکو نانی اماں سے لے کر ماموں اور کاشف  ، عبداللہ غرض ہر ایک سے پذیرائی ملی ۔ یہ شوق تو خیر اب کافی حد تک بلکہ تقریباً ختم ہو چکا ہے لیکن اس دوران یہ نہ تو اتنا زیادہ تھا اور نہ ہی اتنا کم ، شاید اس وجہ سے کہ میرے کباڑ خانے کا ایک بڑا حصہ پاکستان رہ گیا تھا ، لیکن پھر بھی اپنی جیب میں دیگر کاٹھ کباڑ کے ساتھ ساتھ پچاس سینٹ (ایمرجنسی میں فون بوتھ استعمالنے کے لیے ) اور مختلف قسم کی بینڈیجز لازمی رکھتا تھا۔ خیر میں نے اپنی اُنگلی صاف کر کے ثانیہ کو دکھائی جو اب اپنے دونوں گھُٹنوں کو سینے کے ساتھ مضبوطی سے جکڑے ان پر اپنی تھوڑی رکھے سِسکیاں لے رہی تھی ۔" دیکھو اب بلکل بھی خون نہیں ہے ،  ثانیہ نے ایسے کیا جیسے اُسکو کچھ نہ تو سُنائی دیا ہے اور نہ ہی دِکھائی اور ویسے ہی بیٹھی سِسکارتی رہی ۔ میں پہلے ہی اُسکے فوبیا کی وجہ سے تھوڑا گھبرایا ہوا تھا ، اُسکے اِس حالت میں جانے کی وجہ سے اور پریشان ہو گیا۔ ایسی حالت میں نہ تو میں ثانی کے قریب جا سکتا تھا اور نہ ہی میرا اُسکو بہلانا اور خون کی غیر موجودگی کے ثبوت دینا کسی کام کا تھا۔
کیوں نہ فلمی ہیرو کی طرح کچھ ایکشن کیا جائے؟ ، میں نے دِل ہی دِل میں اپنے آپ سے پوچھا۔ ایسا سوچ کر ہی میرے رونگٹے خوشی سے کھڑے ہو جاتے، یعنی زور دار تھپڑ اور وہ بھی ثانی کے منہ پر ۔ لیکن کمبخت ایک تو وہ سچویشن ہی ایسی تھی کہ میں چاہتے ہوے بھی خوش نہیں ہو سکتا تھا دوسرا ثانی کے منہ پر تھپڑ ، اور وہ بھی میں ماروں گا ؟؟؟ ایک ایسی لڑکی کے منہ پر تھپڑ مارنا جو ویسے ہی  تھپڑ مار کر کہے کہ مذاق کر رہی تھی ۔ میرے خیال سے انجام کے بارے میں آپ اچھی طرح سوچ سکتے ہیں ۔ میری توجہ اچانک ثانی سے ہٹ کر سامنے چلنے والی گُلہری پر ہو گئی ، براون رنگ والی یہ گُلہری ادھر اُدھر دیکھتے ہوے ثانی کی طرف بڑھ رہی تھی ، آہستہ آہستہ چلنے کے بعد اُسنے اچانک اپنا منہ رفلز کے پیکٹ میں ڈال لیا(جو شاید ثانی سے فوبیا کی حالت میں گِر گیا تھا)  اور چپس کا ایک ٹُکڑا اٹھاے ہوے جس راستے آئی تھی اُسی طرف بھاگنے لگی میں مُسکراتے ہوے اسکی طرف دیکھ رہا تھا جب اچانک ثانیہ ہنسنے لگی ، پتا نہیں کب اُسکی توجہ گُلہری کی طرف ہو گئی تھی اور گُلہری کا چپس چوری کر کے بھاگنا اُسکوبے حد پسند آیا تھا ۔  
اُففففف، میں نے یہ ہی آواز نکالی تھی جب ثانی نے موے تھائی سٹائل  میں ایک فرنٹ کک میرے پیٹ پر ماری ، اور جب میں اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر اُفف کی آواز نکال کر جھُکا تو اُس نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر اپنا سارا وزن اُس پر ڈال دیا اور اگلے ہی لمحے میں منہ کے بل نیچے پڑا تھا ۔ ثانی نے اپنے کپڑے جھاڑنے کے بعد میرا رفلز کا پیک کھولتے ہوے کہا " یہ گُلہری کا منہ مارا ہوا اگر کھانا ہے تو تم ہی کھاو ، میں جانوروں کا جھوٹا نہیں کھاتی" ۔ میں نے گھر آکر گوگل پر بلِڈ فوبیا لکھ کر سرچ کی ، ملنے والی معلومات کو پڑھ کر میرے رونگٹے مزید کھڑے ہو گئے ، سوچتا ہوں کہ اگر اُس دن میں ثانیہ کو اپنے خون سے اُسی طرح ڈراتا جیسے چوزوں سے اُس لڑکے کو ڈرایا تھا تو انجام کیا ہوتا ، وہاں تو پاس کوی فون بوتھ بھی نہ تھا کہ ایک ایمبولینس ہی بُلا لی جاتی ۔ 

5 comments:

  1. خوب تحریر است ۔۔
    ویسے مجھے کتوں سے بہت ڈر لگتا تھا
    ایک روز با امر مجبوری ایک پہاڑی علاقے میں رات کا سفر اکیلے اور پیدل کرنا پڑا ۔
    اس دن میرا نشانہ بھی پکا ہو گیا اور کتوں سے خوف بھی ختم ہو گیا۔

    ReplyDelete
  2. خالد حمیدJune 30, 2011 at 11:57 PM

    بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو بات کواتنے بہترین اسلوب میں بیان کر پاتے ہیں

    ReplyDelete
  3. bohat khoob or good memory ka saboot k itni choti choti baton ko yad rakhna amazing ha or creativity or sensitivity ka bahtreen namoona.

    ReplyDelete
  4. کاکا ہمارا شیر ہے۔۔۔
    باقی ہیر پھیر ہے۔۔۔

    ReplyDelete
  5. بہت خوب لکھا ہے انکل جی بہت خوب

    آپ کی بہت سی عادتیں میرے ساتھ ملتی ہیں۔ میں بچپن سے ہی مکینکی کرنا شروع ہو گیا تھا۔ اس لیے میں بھی اپنے پاس اوزار وغیرہ رکھتا تھا اور آپ کی طرح سنی پلاسٹ اب بھی میرے پاس ہوتا ہے

    ReplyDelete

Note: Only a member of this blog may post a comment.