Thursday, June 30, 2011

خون فوبیا، چوزہ فوبیا اور بچپن سے لڑکپن کی کچھ یادیں


ہو سکتا ہے کہ یہ کَٹر لکڑی کے ساتھ ساتھ میرا ہاتھ بھی کاٹ دے ، میرے یہ سوچتے سوچتے کَٹر میرے ہاتھ سے پھسلا اور لکڑی کو چیرتا ہوا میری شہادت کی انگلی پر ہلکا سا پِھر گیا ، انگلی سے نکلنے والا قطرہ دیکھ کر میرے منہ پر ناجانے کیوں ہلکی سی مُسکراہٹ آگئی ۔یہ کَٹر میں ویر ہاوس سے ہی لے آیا تھا ، اصل میں اسکو میں واپس آتے وقت اپنی جیب میں ہی بھول گیا تھا ، یہ اُن دنوں کی بات ہے جب گرمیوں کی چھُٹیوں میں مجھے ایک ویر ہاوس پر چند دن کی نوکری ملی تھی ، ڈبے کاٹنے کے لیے استعمال کرنے والا کٹر میں واپسی پر اپنی جیب میں ہی بھول گیا تھا ۔ گھر پہنچ کر دیکھا تو ثانی کا ایم ایس این پر آف لائن میسج تھا کہ کرِیک کے تیسرے پُل کے پاس چھ بجے ملو۔  میں نے جلدی جلدی کھانا کھایا ، میری سِکس پاکٹ بلیک پینٹ، جو اب ویر ہاوس میں کام کرنے کی وجہ سے گرد سے نہ صرف اَٹی ہوی تھی بلکہ اُسکا رنگ بھی بلیک سے براون ہو رہا تھا ۔  میرے بال بھی گرد سے اٹے ہوے تھے ، نیلے رنگ کی شرٹ بھی براونش ہو رہی تھی ، لیکن میرے پاس اِن چیزوں کے بارے میں سوچنے کا وقت نہیں تھا کیونکہ چھ بجنے میں کچھ ہی دیر رہ گئی تھی ۔ کھانے سے فارغ ہو کر میں نے اپنی سائیکل کو نکالا اور مِنی مارٹ کی طرف چل دیا جہاں سے رفلز کی چلی چیز خرید کر میرا ارادہ  کرِیک کی طرف  جانے کا تھا۔
 ابھی میں یہ ہی سوچ رہا تھا کہ کیا کروں  جب میں نے اچانک ایک خالص زنانہ چیخ سُنی ، اور یقیناً یہ ثانیہ کی طرف سے تھی ، میں سوچ رہا تھا کہ شاید وہ اس خرگوش کو دیکھنے میں کامیاب ہو گئی ہے جسکی وجہ سے وہ مجھے بھی اس اُونچی گھاس میں گھُما رہی ہے ۔ میں نے اپنے دائیں طرف دیکھا ثانیہ کی آنکھیں بہت گہری کھُلی ہوئی تھیں، اور اسنے اپنے دونوں ہاتھوں کو منہ پر رکھا ہوا تھا اسی دوران ثانیہ ہلکے ہلکے کانپ بھی رہی تھی ۔ میں نے اُسکی طرف بڑھنے کو قدم اُٹھایا تو اسکی حالت دیکھ کر جیسا تھا ویسے ہی جَم گیا ، میرا ایک پاوں زمین سے اُٹھے کا  اُٹھا ہی رہ گیا ، "کیا کوی سانپ دیکھ لیا کیا ؟ " میں نے اپنے خدشے کو سوالیہ انداز میں دوہرا کر نیچے کی جانب دائیں بائیں اور آگے پیچھے دیکھا لیکن سانپ کے کہیں بھی آثار نہ تھے ۔ اپنی طرف سے اطمینان کرنے کے بعد میں ثانیہ کی طرف بڑھا جو بلکل اُسی طرح کھڑی کانپ رہی تھی ۔جونہی میں اُسکی طرف بڑھا وہ پیچھے کو ہٹی میں نے پریشان ہو کر پھر نیچے اِدھر اُدھر دیکھا، میرا یقین پُختا ہونے لگا کہ پچھلی دفعہ کی طرح اب بھی یہ میرے ساتھ کوی ڈرامہ کر رہی ہے ۔
میں نے تسلی کرنے کے لیے پھر اُس سے پوچھا "ثانیہ کیا ہوا " اُسنے اپنے بائیں ہاتھ کی اُنگلی سے میری اُنگلی کی طرف اِشارہ کیا جس سے ابھی بھی خون کے قطرے گِر رہے تھے ۔ "اوہ یہ ، تم یہ دیکھ کر اتنا  ڈر رہی ہو ؟ ہی ہی ہی کِتنی پھٹُو ہو تم" ۔ ثانیہ کی اس حرکت سے مجھے پاکستان میں اپنے سکول کا وہ لڑکا یاد آگیا جسکو چوزا فوبیا تھا ، یعنی چوزوں سے بہت ڈر لگتا تھا ، اور مجھے چوزے پالنے کا جنون کی حد تک شوق تھا ، میرے ہمسائے مجھے دیکھ کر ہنسا کرتے تھے جب میں اپنے گھر کی چھت پر ایک کونے میں اپنے چوزے کو گود میں لیے اس سے باتیں کیا کرتا تھا ۔ ایک دِن وہ لڑکا میرے گھر آیا اور جب مجھے پتا چلا کہ اُسکو چوزہ فوبیا ہے تو میں نے اپنا چوزہ اسکے آگے کیا وہ پیچھے ہٹا اور مجھے یاد ہے کہ میں کافی دور تک اُسکے پیچھے چوزہ پکڑے بھاگتا رہا تھا ، اور آئندہ اُسنے مجھے کبھی تنگ بھی نہیں کیا تھا ۔ میں نے یہ ہی طریقہ ثانیہ پر آزمانے کا بھی سوچا ، میرا خیال تھا کہ مزا رہے گا جب ثانیہ خون کے قطرے سے ڈرتے ہوے بھاگے گی اور میں اپنی اُنگلی آگے کیے اسکے پیچھے پیچھے بھاگوں گا ، لیکن جیسے ہی میں تھوڑا آگے بڑھا ثانیہ پیچھے ہٹتی ہٹتی نیچے گِر گئی اور گھاس پر ہی پیچھے ہٹنے لگی ۔ تب مجھے خیال آیا کہ شاید یہ فوبیا اُس چوزہ فوبیا سے زیادہ سخت ترین ہے ۔ میں پیچھے ہٹا اور اپنی جیب سے " بینڈیج المعروف بہ سنی پلاس" نکالا ۔
کباڑیے کا کباڑیہ پن کبھی تو کام آہی جاتا ہے ، بقول امی کے میں ایک کباڑیہ ہوں اور کباڑیے کا خطاب مجھے بچپن ہی سے فضول چیزیں( جنکو اپنی طرف سے میں بڑٰ ی کام کی سمجھتا تھا ) جمع کرنے کی وجہ سے دیا گیا ، جسکو نانی اماں سے لے کر ماموں اور کاشف  ، عبداللہ غرض ہر ایک سے پذیرائی ملی ۔ یہ شوق تو خیر اب کافی حد تک بلکہ تقریباً ختم ہو چکا ہے لیکن اس دوران یہ نہ تو اتنا زیادہ تھا اور نہ ہی اتنا کم ، شاید اس وجہ سے کہ میرے کباڑ خانے کا ایک بڑا حصہ پاکستان رہ گیا تھا ، لیکن پھر بھی اپنی جیب میں دیگر کاٹھ کباڑ کے ساتھ ساتھ پچاس سینٹ (ایمرجنسی میں فون بوتھ استعمالنے کے لیے ) اور مختلف قسم کی بینڈیجز لازمی رکھتا تھا۔ خیر میں نے اپنی اُنگلی صاف کر کے ثانیہ کو دکھائی جو اب اپنے دونوں گھُٹنوں کو سینے کے ساتھ مضبوطی سے جکڑے ان پر اپنی تھوڑی رکھے سِسکیاں لے رہی تھی ۔" دیکھو اب بلکل بھی خون نہیں ہے ،  ثانیہ نے ایسے کیا جیسے اُسکو کچھ نہ تو سُنائی دیا ہے اور نہ ہی دِکھائی اور ویسے ہی بیٹھی سِسکارتی رہی ۔ میں پہلے ہی اُسکے فوبیا کی وجہ سے تھوڑا گھبرایا ہوا تھا ، اُسکے اِس حالت میں جانے کی وجہ سے اور پریشان ہو گیا۔ ایسی حالت میں نہ تو میں ثانی کے قریب جا سکتا تھا اور نہ ہی میرا اُسکو بہلانا اور خون کی غیر موجودگی کے ثبوت دینا کسی کام کا تھا۔
کیوں نہ فلمی ہیرو کی طرح کچھ ایکشن کیا جائے؟ ، میں نے دِل ہی دِل میں اپنے آپ سے پوچھا۔ ایسا سوچ کر ہی میرے رونگٹے خوشی سے کھڑے ہو جاتے، یعنی زور دار تھپڑ اور وہ بھی ثانی کے منہ پر ۔ لیکن کمبخت ایک تو وہ سچویشن ہی ایسی تھی کہ میں چاہتے ہوے بھی خوش نہیں ہو سکتا تھا دوسرا ثانی کے منہ پر تھپڑ ، اور وہ بھی میں ماروں گا ؟؟؟ ایک ایسی لڑکی کے منہ پر تھپڑ مارنا جو ویسے ہی  تھپڑ مار کر کہے کہ مذاق کر رہی تھی ۔ میرے خیال سے انجام کے بارے میں آپ اچھی طرح سوچ سکتے ہیں ۔ میری توجہ اچانک ثانی سے ہٹ کر سامنے چلنے والی گُلہری پر ہو گئی ، براون رنگ والی یہ گُلہری ادھر اُدھر دیکھتے ہوے ثانی کی طرف بڑھ رہی تھی ، آہستہ آہستہ چلنے کے بعد اُسنے اچانک اپنا منہ رفلز کے پیکٹ میں ڈال لیا(جو شاید ثانی سے فوبیا کی حالت میں گِر گیا تھا)  اور چپس کا ایک ٹُکڑا اٹھاے ہوے جس راستے آئی تھی اُسی طرف بھاگنے لگی میں مُسکراتے ہوے اسکی طرف دیکھ رہا تھا جب اچانک ثانیہ ہنسنے لگی ، پتا نہیں کب اُسکی توجہ گُلہری کی طرف ہو گئی تھی اور گُلہری کا چپس چوری کر کے بھاگنا اُسکوبے حد پسند آیا تھا ۔  
اُففففف، میں نے یہ ہی آواز نکالی تھی جب ثانی نے موے تھائی سٹائل  میں ایک فرنٹ کک میرے پیٹ پر ماری ، اور جب میں اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر اُفف کی آواز نکال کر جھُکا تو اُس نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر اپنا سارا وزن اُس پر ڈال دیا اور اگلے ہی لمحے میں منہ کے بل نیچے پڑا تھا ۔ ثانی نے اپنے کپڑے جھاڑنے کے بعد میرا رفلز کا پیک کھولتے ہوے کہا " یہ گُلہری کا منہ مارا ہوا اگر کھانا ہے تو تم ہی کھاو ، میں جانوروں کا جھوٹا نہیں کھاتی" ۔ میں نے گھر آکر گوگل پر بلِڈ فوبیا لکھ کر سرچ کی ، ملنے والی معلومات کو پڑھ کر میرے رونگٹے مزید کھڑے ہو گئے ، سوچتا ہوں کہ اگر اُس دن میں ثانیہ کو اپنے خون سے اُسی طرح ڈراتا جیسے چوزوں سے اُس لڑکے کو ڈرایا تھا تو انجام کیا ہوتا ، وہاں تو پاس کوی فون بوتھ بھی نہ تھا کہ ایک ایمبولینس ہی بُلا لی جاتی ۔ 

Wednesday, June 29, 2011

دیسی اور غیر دیسی ماں باپ کا فرق


اگر آپ کبھی خریدادی پر جائیں تو ارد گرد کے لوگوں پر نظر رکھنے سے آپ کو بہت سے عجیب تجربات حاصل ہوں گے ، کچھ دن پہلے ایک دُکان پر ایک دیسی انکل اپنے دو بچوں کے ہمراہ دیکھے ، انکا بچہ کوی ایک ڈالر والی چیز اُٹھائے انکے پیچھے پیچھے پِھر رہا تھا اور رو رہا تھا کہ خرید دیں ، لیکن انکل نہ صرف اسکو ڈانٹ رہے تھے بلکہ چیز واپس رکھنے کا بھی کہہ رہے تھے ۔ اگر ایسا غربت کی وجہ سے بھی تھا تو ایک ڈالر سے انکی غربت کو کیا فرق پڑنے والا تھا ؟؟؟
آج اُسی دُکان میں ایک ہی وقت میں دو آنٹیاں آئیں ، دونوں کے ساتھ دو دو بچے تھے ، دیسی آنٹی کی دو بیٹیاں ساتھ تھیں ، جن میں ایک بہت پیاری سی سہمی ہوی صورت والی چھوٹی بچی تھی  اُسنے ایک چھوٹے بھالو پر ہاتھ رکھ دیا کہ یہ خریدنا ہے ، آنٹی نے جھڑکنے والے انداز میں کہا کہ "تمکو تو سب کچھ ہی خریدنا ہوتا ہے " بچی نے ہلکی سی ضد کی تو اسکو وال مارٹ سے بڑے والا خریدنے پر ٹرخا دیا گیا ، میں سوچ رہا تھا کہ جو ماں اپنی بچی کو ایک ڈالر والا بھالو خرید کر نہ دے رہی ہو وہ وال مارٹ سے بڑا اور مہنگا کیسے اور کیونکر خرید کر دے گی ۔
خیر یہ آنٹی تو اپنا سامان خرید کر چلی گئیں ، دوسری آنٹی جو شکل و صورت سے کینیڈین ہی لگتی تھیں لیکن لہجے سے کچھ اور معلموم ہوتی تھیں ، وہ اپنا سامان خرید رہی تھیں کہ انکے چھوٹے بیٹے نے انہی بھالوں میں سے ایک کو پکڑ کر دیکھنا شروع کر دیا ، آنٹٰی نے اس سے پکڑ کر وہ بھی سلیز مین کے آگے کر دیا کہ یہ بھی دے دو ، بچے نے واپس لے کر رکھ دیا کہ مجھے چاہیے نہیں میں تو ویسے ہی دیکھ رہا تھا ۔

Monday, June 27, 2011

دوغلہ پن اور اسکا علاج

دوغلہ پن اور اسکا علاج
مجھے اس حرکت سے سخت چڑ ہے ، بلکہ جتنی چڑ مجھے اس سے شاید ہی کسی اور چیز سے ہو گی ۔ جب میں اپنے معاشرے میں یہ ہوتا دیکھتا ہوں تو دل کرتا ہے بندہ لا لئے لِتر تے ایناں دی آہو آہو سیک چھڈے ۔ بس جی لیکن ایسا نہیں کیا جا سکتا ۔
آجکل ہماری بلاگی دنیا میں بھی دوغلہ پن عروج کو پہنچا ہوا ہے  مثال کے طور پر مجاہدین کو بنیاد بنا کر مخصوص مذہبی فرقوں کو لتاڑنا تو عام ہو چکا ہے ۔ اسکے لیے گالیوں والی سرکار فکرِ پاکستان صاحب کی بھی چند پوسٹیں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں اسکے علاوہ آجکل میں ایک نئی سرکار نے ایسی ہی پوسٹ ماری ہے ۔
دوغلہ پن جو دوسرا ہے وہ یہ کہ آپ مخصوص اشخاص کا نام لے کر مخصوص سوچ کو لتاڑیں، جیسا کہ ضیاء الحق کا نام لے کر اپ کسی بھی داڑھی والے کو لتاڑ سکھتے ہیں ، چاہے وہ خود ضیاء الحق کو غلط سمجھتا ہو ۔ اب میری ہی مثال لے لیں ، مجھے ضیاء الحق کے بارے میں اس سے زیادہ پتا نہیں کہ وہ ایک جرنیل تھا جسنے دیگر کی طرح حکومت پر قبضہ کر کے ایک نااہل حکمران کو ہٹا دیا ، وہ خود اہل تھا یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے ۔ لیکن میری داڑھی دیکھ کر مجھے بھی اسکا نام لے کر خوب لتاڑا جاتا ہے ۔  
ایک قسم دوغلے پن کی یہ ہے کہ ہم کریں تو ناچ وہ کریں تو مجرا ، جی ہاں یعنی اگر آپ اپنے موقف پر ڈٹ جائیں اور وہ دینی لحاظ سے جائز ہو تو آپ شدت پسند ہو جائیں گے ، لیکن اگر وہ اپنے موقف پر اڑ جائیں جو کنجر پنے پر ہو تو اسکو براڈ مائینڈنیس اور روشن خیالی کہا جائے گا ۔ یہ بھی ایک دوغلہ پن ہے اور اس میں عموماً نئے نئے امیر جو ڈیفینس میں بنگلہ خریدتے ہیں یا پھر احساس کمتری کے مارے ہوے غریب غربا شامل ہوتے ہیں ۔
دوغلے پن کی ایک اور قسم یہ بھی ہے کہ اگر کوی گالیاں دے رہا ہے کسی ایسے شخص کو جس سے آپ کی عزت پر کوی فرق نہیں پڑتا تو خوب سنیں اور اسکو آزادی اظہار راے کا نام دیں لیکن اگر کوی آپ کی ماں بہن کو گالی دے تو آپ اسکو گالی دیں  ۔
علاج
اسکا علاج مجھے خود پتا کونی تھا ، ایک دن میں بور ہو رہا تھا کسی نے کہا اوے شانے کلَا ہے ، میں نے کہا کیا ؟؟؟ کالا نہیں ہوں یار سانولہ ہوں ، اس نے کہا نہیں میرا مطبل تھا تو اکیلا ہے ۔ میں نے کہا ہاں ، اسنے کہا کوی لڑکی پھسا لے چیٹ روم میں جا کر ۔
میں نے اسکے مشورے کو سراہا اور ایک چیٹ روم مین چلا گیا ۔ لیکن کمبخت وہ مسلمانوں کا نکلا وہاں چل رہی تھی لڑائی جیسا کہ کسی بھی پاکستانی گروپ میں ہوتی ہے ۔ اور لڑائی ہو اور میں وہاں بیٹھ کر چسکے نہ لوں ، یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ تو جی میں بیٹھ گیا وہاں ، اور دیکھنے لگا ۔
ایک شخص دوسرے کے بارے میں کہتا تھا کہ یہ صحابہ کو گالیاں بکتا ہے ، تمہیں پتا نہین صحابہ کون تھے ، کیا تھے ۔ اور ہو گیا فضائل بتانے ۔ دوسرے نے کہا اگر بکتا ہے تو کیا تجھے کیا تکلیف اسکو خود گناہ ملے گا تجھے کیا۔
وہاں جی ایک میرے جیسا بھی بیٹھا تھا جو صرف سن رہا تھا ۔ اسنے چھال ماری اور جو کہتا تھا کہ تمہیں کیا ، اسکی ماں بہن ایک کر دی جی ۔ جواب میں اس نے اسکی ماں بہن ایک کر دی ۔ پھر وہ چھال مارنے والے نے دوسری چھال ماری اور کہا جب وہ اس ماں کو گالیاں دیتا تھا جسکو قرآن نے ماں کہا (یعنی حضرت عائشہؓ ) تو تیری بولتی بند تھی ، تو قیامت والے دن حساب کی بات بتاتا تھا ۔ جب میں نے تیری اس ماں کو گالی دی جسکو تیرے باپ نے تیری ماں کہا تھا تب تیرے سے رہا کیوں نہیں گیا ؟؟؟؟
بس اس دن میں سمجھ گیا کہ دوغلے پن کا یہ ہی علاج ہے ۔

اور مجھے پتا ادھر کوی کمنٹے گا نہیں ، وجہ علاج والے پیرا میں ہے ، اور یہ بھی ایک دوغلہ پن ہے ۔ 
پس ثابت ہوا کہ یہ دنیا دوغلے لوگوں سے بھری پڑی  

Sunday, June 26, 2011

پاکستان میں حکمرانی

پرانی روایت ایک طاقتور خاندان دوسرے طاقت ور خاندان سے مزید طاقت حاصل کرنے کے لیے رشتہ جوڑتا ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک دوست کو بتایا تھا کہ پاکستان مین چاہے مارشل لا لگے یا کوی بھی حکومت آیے جو لوگ حکومت میں ہوتے ہیں انکو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچتا اور جو وجہ میں نے اسکو بتائی تھی وہ آپ مندرجہ ذیل تصویر مین دیکھ سکتے ہیں ۔

 مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے ملک ریاض کی بیٹی اور پیپلز پارٹی کے رہنما ملک سہیل کے بیٹے کی شادی کے موقع پر حمزہ شہباز اور جہانگیر بدر ایک دوسرے سے مسکراتے ہوے مصافحہ کر رہے ہیں

Friday, June 24, 2011

اسلام وہ جو من چاہے من بھائے


ہمارے ایک دوست ہیں انکے ابا کا انکے گھر والوں کے ساتھ رویہ کچھ اچھا نہ تھا ، اور حقوق بھی مکمل طور پر پورے نہیں کیے جا رہے تھے ۔ میرے خیال سے انکے ابا اپنے خاندان یعنی بھائی بہن وغیرہ کے ہاتھوں استعمال ہو رہے تھے اور انکی باتوں میں آکر اپنے گھر والوں کے حقوق میں کمی کر رہے تھے ۔ بالآخر انکے بھائی بہن کو کامیابی ہوی اور انکے ابا نے دوسری شادی کر لی ۔ ہمارے یہ دوست اپنے ابا کی حرکتوں پر پہلے ہی اچھی طرح تپے ہوے تھے ، دوسری شادی پر اور بھی تپ گئے مجھ سے پوچھنے لگے کہ کیا اسلام میں مرد پہلی بیوی  سے پوچھے بغیر دوسری شادی کر سکتا ہے ، میں نے کہا کہیں پڑھا تو نہیں لیکن پوچھ کر بتا سکتا ہوں ۔ کچھ دن بعد میں نے انکو بتایا کہ مرد اپنی پہلی بیوی سے پوچھے بغیر دوسری شادی کر سکتا ہے، اور تو انہوں نے جو کچھ کہا سب تو مجھے یاد نہیں ، ہاں انکی ایک بات ضرور یاد ہے کہ انہوں نے زرا تیز لہجے میں کہا کہ "یار پھر تو ہمارا مذہب ہی غلط ہوا نہ"۔
لیں جی ایک شخص کے عمل کی وجہ سے پورا مذہب غلط ہو گیا ، یہ صرف ایک شخص کی بات نہیں ہے ہمارا پورا معاشرہ اس طرف زور لگانے پر تُلا ہوا ہے کہ اسلام ہماری مرضی کے مطابق ہو ، یعنی انکو اللہ کے بناے ہوے پر عمل نہ کرنا پڑے بلکہ جو انکا عمل ہو اسکو اسلام کا نام دے دیا جائے ۔
اسی طرح ایک اور صاحب ہیں ، ان کو بچپن میں گھر والوں کی طرف سے کوی دینی تعلیم دینے کا اہتمام نہیں کیا گیا ، صرف ناظرہ قرآن اور وہ بھی مسجد کے مولوی صاحب سے اسکے بعد انڈیا پڑھنے چلے گئے اور بعد میں کینیڈا میں وارد ہو گئے ۔ جب تک بنگلہ دیش میں تھے اسلامیات کے امتحان بھی بقول انکے نقل مار مار کر پاس کرتے رہے ۔ اس سے آپ انکی سوچ کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کتنی اسلام موافق ہو گی ، بات چلی تھی گستاخ رسول کی سزا موت ہے کہ حوالے سے ، صاحب کہنے لگے کہ ایسا نہیں ہو گا اسلام میں ایسی سزا نہیں ہو گی کیونکہ انکی عقل نہیں مانتی ۔ میں نے کہا صاحب آپکی عقل اسلام میں حجت کب سے ادھر تو دلائل و براہین پر جانچا اور پرکھا جاتاہ ے ۔ نیز بتلانا مقصود یہ ہے کہ لوگ اپنی عقلوں کو بنیاد بنا لیتے ہیں ۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عقل و فہم انسان کے علم  اور فن میں مہارت پر مبنی ہوتا ہے ، اس سے یہ مراد نہین کہ آپ اپنی عقل کو استعمال نہیں کر سکتے بلکل کر سکتے ہیں ۔ لیکن آپ اپنی عقل کو اسلامی اور شرعی مسائل کو جج کرنے کے لیے استعمال نہیں کر سکتے اسکی وجہ صرف اتنی ہی ہے  کہ آپ کے پاس نہ تو اس فن کا علم ہے نہ ہی آپ اس فن میں کسی قسم کی مہارت رکھتے ہیں ۔ بلکل ایسے ہی جیسے ایک موچی کسی ٹاپ سرجن کو مشورہ نہیں دے سکتا کہ آپ ٹانکے صحیح نہیں لگاتے میں جوتوں کو دس سال سے سی رہا ہوں مجھے زیادہ تجربہ ہے لہذا مریض کو ٹانکے لگانے کے معاملے میں آپ سے بہتر میں جانوں گا ۔ تو اس موچی کو سکیورٹی والے لاتیں مار کر باہر نکال دیں گے کہ صاحب آپ موچی ہیں یہ بات آپ کسی موچی سے جا کر کر سکتے ہیں سرجن پر اعتراض سرجن ہی کرے گا ۔ بلکل اسی طرح چاہے آپ نے لینکس یا ونڈوز کے اردو ترجمے کر دیے یا پھر کیمیسٹری یا بیالوجی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لے لی ، آپ کی مہارت اسی فن میں ہے   لہذا آپ اپنی چولیاں اسی فن میں ماریں ، اس فن کے ماہر موجود ہیں لہذا اگر اس فن میں کوی غلطی پر ہے تو اسکو ٹوکنے کا حق بھی اسی فن کے ماہر کو ہے ۔
کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ کیمسٹری کے معاملے میں ایک مولوی آپکو ٹوکتا پھرے جو کیمیسٹری کی الف بے تک نہیں جانتا ؟؟؟ بلکل بھی نہیں بس یوں ہی سمجھ لیں کہ مولوی بھی نہیں چاہتا کہ آپ شرعی معملات میں انکو ٹوکیں جنکے اصول و ضوابط کی بھی الف بے آپ نہیں جانتے ۔ بلاگی دنیا میں ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ بھئی کیمسٹری سے میری آنے والی زندگی کو کوی فرق نہیں پڑتا لیکن اسلامی معملات سے پڑتا ہے لہذا مجھے حق ہے کہ میں ان معملات میں اپنی راے کا اظہار کروں ۔
ٹھیک ہے بھائی آپ کی زندگی پر اثر پڑتا ہے ، لیکن اگر آپ کو ہم ایک موچی تسلیم کر لیتے ہیں ، اب آپ کی بیٹی کو آپریشن ہے تو کیا آپ شور مچائین گے کہ ٹانکے لگانے کی اجازت آپ کو دی جائے کیونکہ آپ اپنی بیٹی سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں اور ڈاکٹر پر محبت کی بنا عدم اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔
پرسوں اسلم سے گفتگو ہو رہی تھی اور گفتگو کا موضوع وہی تھا کیا شادی سے پہلے بیوی کی اجازت ضروری ہے یا نہیں ، چونکہ میں اس حوالے سے پہلے معلومات حاصل کر چکا تھا لہذا میں نے اسکو واضح انداز میں کہہ دیا کہ اجازت کی کوی ضرورت نہیں ہاں اگر وہ اخلاقی طور پر لینا چاہے تو بہت اچھی بات ہے ۔ اسلم صاحب تھوڑے سے اڑیل انسان ہیں ، وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو اور کانفیڈینس کا شکار ہوتے ہیں ۔ انہوں نے برے زبردست انداز میں کہا کہ میں علماء اور مفتیوں کو جانتا ہوں جو تمہارے مخالف بات کہتے ہیں ،
 میں: ٹھیک ہے مجھے بتاو کون کہتا ہے
اسلم: میں نے سُنا اور پڑھا ہے
میں: بھائی کس سے سنا ہے اور کہاں پڑھا ہے زرا علماء اور کتابوں کے نام بتاو میرے علم بھی اضافہ ہو
اسلم: بھای میں نے ٹی وی کے کسی پروگرام میں سُنا تھا ایک علامہ صاحب سے اور وہ فلاں ڈائجسٹ کا پتا ہے تمہیں اس میں پڑھا تھا ۔
اب ایسے میں ، میرے پاس واہ واہ کرنے کے علاوہ کوی چارہ نہیں تھا میں اس وقت گہری سوچ میں ڈوب کر یہ سوچنے لگا کہ جس شخص کو یہ ہی نہ پتا ہو کہ مسائل کا حل ٹی وی اور ڈائجسٹ کی بجاے مفتیان اور کتب فتاویٰ سے نکالنا ہے اس سے اب میں کیا بحث کروں ۔ لہذا میں نے بات ختم کرتے ہوے کہا کہ تم مجھے اہلسنت کے کسی ایک عالم کا حوالہ یا کتاب کا نام دے دینا میں دیکھ لوں گا ۔ اگلے روز اسلم صاحب سے بات چیت ہوی ، وہ اس مسئلے کو مفتی گوگل سے پہلے ہی پوچھ چکے تھے ۔
میں: یہ دیکھو یہ فتاویٰ ہے جامعہ اشرفیہ لاہور کا مشہور اور بڑا مدرسہ ہے انکا فتویٰ ہے
اسلم: ہاں تمہاری بات ٹھیک تھی کہیں اور سے بھی تصدیق ہو گئی تھی
میں: کہاں سے ہو گئی تھی ؟
اسلم: وہ فلانے عالم ہیں نہ (جنکی ایک سائٹ ہے) وہ بھی کہتے ہیں جو تم کہتے ہو
میں: یار وہ تو تمہارے نزدیک چند مسائل میں گمراہ نہیں ؟؟؟
اسلم : ہاہاہاہاہاہا
لو جی یہ ان لوگوں کا دماغ ہے اپنی عقلی یبلی کو ثابت کرنے کے لیے مفتی گوگل کے پاس جائین گے اور مفتی گوگل اگر کسی للو پنجو کے پاس بھی پہنچا دیں گے تو اسکی بات پر آنکھیں بند کر کے یقین کر کے سمجھیں گے کہ ہم امام ابو حنیفہؒ، امام شافعیؒ ، امام احمد بن حنبل اور امام مالکؒ کے درجہ کے محقق ہو گئے ۔ 

Thursday, June 23, 2011

کراو مَگَا Krav Maga

کراو مَگَا

کراو مَگَا ہاتھوں کو استعمالتے ہوے لڑنے کا ایک طریقہ کار  ہے جسکو اسرائیل میں بنایا گیا ۔ اس میں کُشتی ، گریپلنگ (جسکو جو جوٹسو بھی کہا جاتا ہے ، شاید) اور حملہ کرنے کی تکنیک ین ہیں۔ زیادہ تر یہ اپنے شدید قسم کے  موثر ،سفاکانہ جوابی حملوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے  جیسا کہ اسکو دنیا بھر میں ایلیٹ سپیشل فورسس (پولیس اور فوج کے خاص گروہ)کو سکھایا جاتا ہے ۔ اِمی لِچٹینفیلڈ نے اسکو گلی محلوں میں ہونے والی لڑائیوں سے اخذ کیا ، اسنے اپنی باکسنگ اور کُشتی کی تربیت کو انیس سو تیس کے وسط سے اخیر تک بارٹیسلاوا میں فاشسٹ گروہوں کے خلاف یہودیوں کے بچانے کے طور پر استعمال کیا۔ اخیر انیس سو چالیس میں جب اسنے اسرائیل میں ہجرت کی تو اسنے خالی ہاتھوں سے لڑنے کی اس تکنیک کو  اُس ٹیم کو سکھانا شروع کیا جسکو بعد میں "آی ڈی ایف" بننا تھا۔ اس تکنینک کو ایک عام شہری اور آرمی دونوں کے لیے تیار کیا گیا ہے ۔
کراو مَگَا کے اندر ایک فلسفہ ہے جس میں خطرے کو بے اثر کرنے پر شدید زور دیا گیا ہے ، دفاعی اور جارحانہ مشق کا مرکب، اور غصہ۔  کراو مَگَا آی ڈی ایف سپیشل فورسز یونٹس کی طرف سے استعمال کیا جاتا ہے اور کئی قریبی تعلق رکھنے والی حالتوں کو تیار اور مختلف قانون نافذ کرنے والی تنظیوں کی جانب سے اپنایا گیا ہے جیسا کہ موساد، شِن بیٹ، ایف بی آی ، اے ٹی ایف، ڈی ای اے، آی سی ای، ایس ڈبلیو اے ٹی (المعروف بہ سواٹ) جو کہ این واے پی ڈی (نیو یارک پولیس ڈیپارٹمنٹ) کے دستوں، اور امریکہ کی سپیشل آپریشنز فورسز اور فرنچ آرمی سپیشل فورسز ۔
اہم عناصر
جیسا کہ کراو مَگَا میں کوی اصول نہیں ہیں، کیونکہ یہ ایک دفاعی لڑائی کی تکنیک ہے جسکو ریگیولیٹ نہیں کیا جاتا  یہ ذاتی دفاع کے لیے مثالی ہے ۔ یہ صارف کو محفوظ رکھنے اور مخالف کو کسی بھی قسم کے میسر زرائع سے ناکارہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔اس کو سیکھتے ہوے مردوں اور عورتوں کا یکساں قسم کی مشق سے گزرنا پڑتا ہے ۔ دیگر مارشل آرٹس تکنیکوں (جیسا کہ موے تھائی، تائی کوانڈو، جو جوٹسو وغیرہ) کی طرح اسکو کوی بھی کھیلوں کی تنظیم رگیولیٹ نہیں کرتی لہذا اسکے لیے کوی خاص قسم کے کپڑے اور وردی نہیں ہے (جیسا کہ تای کوانڈو، کُنگ فو اور دیگر میں ضروری ہے ) لیکن مختلف تنظیموں کی طرف سے  درجہ بندی کے لیے بیلٹس، بیج وغیرہ کو استعمال کیا جاتا ہے ۔
عام اصول
۱۔ جوابی حملہ جتنا جلدی ممکن ہو سکے
۲۔ جسم کے خاص اور نازک حصوں پر حملے کرنا ، جیسا کہ آنکھ، جبڑا،گلا، گھٹنا ، کہنی اور سامنی شرمگاہ وغیرہ۔
۳۔ مخالف کو جوابی حملوں کے مسلسل بہاو سے دشمن کو جلد سے جلد غیر موثر بنانا اور اگر ضروری ہو تو نیچے گرانا، جوڑ توڑنا اور اسکا دماغ ہلا دینا (عمومی طور پر دماغ کے اس حصے پر مکا مار کر جو آنکھوں سے ملتا ہے)۔
۴۔ ارد گرد کے بارے میں شعور رکھتے ہوے دشمن سے نمٹنا اور فرار کے راستوں کو تلاش کرنا، مزید حملے کرنا، اور ان چیزوں کو تلاشنا جنکو دفاع اور حملے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
کسی بھی حملے سے پہلے اکثر ممکنہ طور پر اکثر پُر خطر حالات پیدا ہو جاتے ہیں لہذا  تربیت کے دوران اپنے ارد گرد کے حالات کے بارے میں شعور حاصل کرنا بھی شامل ہے ۔یہ ممکنہ  طور پر  پُر تشدد حالات سے نمٹنے کے طریقوں کا احاطہ کرتا ہےا ور سب سے بہتر بات یہ ہے کہ اس میں  زبانی اور جسمانی طریقوں کو استعمالتے ہوے پُر تشدد حالات سے جب بھی ممکن ہو اجتناب کرنے پر زور دیا گیا ہے ۔

کراو ماگا کی تراکیب
کراو ماگا مشرقی یورپ، گلی محلوں میں ہونے والی لڑائیوں، آرمی کی لڑائی، باکسنگ، موے تھای،مغربی کُشتی اور جوجوٹسو  کی تراکیب کو اپنے اندر شامل کرتا ہے ۔
ہاتھ اور بازو کی تکنیک
کراو مگا میں مکوں پر کافی اہمیت دی جاتی ہے اور انکو حملے کا بنیادی حصہ سمجھا جاتا ہے جو کسی بھی صورت حال میں استعمال ہو سکتے ہیں ۔ کراو مگا میں باکسنگ میں مہارت حاصل کرنے کو کافی تعریفی نظروں سے دیکھا جاتا ہے جیسا کہ لِچفیلڈ خود ایک قومی لیول کا باکسر تھا ۔سیدھا مُکا،ہتھیلی کا وار،نچلا مُکا،ہتھوڑا مُکا، ہُک،اپر کٹ، چاپ، اور ہینڈ اور اسکی قسم کے دیگر مُکوں میں سے یہ چند ایک ہیں جو کراو مگا کی  ہاتھ اور بازوں کی تکنیک میں شامل ہوتے ہیں ۔
کِکِس (ٹانگوں) کی تکنیک
کراو مگا ککس کو استعمال کرتا ہے لیکن اصل اہمیت کم خطرے کی حامل ککس کو دی جاتی ہے ، مزید اعلیٰ درجہ اور خطرے کی حامل ککس کو اعلیٰ درجوں میں پڑھایا جاتا ہے لیکن انکے استعمال  کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے ۔انکو بنیادی طور پر اس لیے سکھایا جاتاہ ے کہ تربیت حاصل کرنے والے طلباءایسے شخص سے مقابلے میں استعمال کر سکیں جسکی تای کوانڈو جیسے مارشل آرٹس میں تربیت رہی ہو۔ٹانگوں کی کچھ  تکنیک میں فرنٹ(سامنے سے) کک،سائیڈ کک، بیک کک، ہیل کک، سلیپ کک،ایکسس کک اور اسکی قسم کی گھٹنے کےحملے اور سویپنگ شامل ہے۔

دفاعی تراکیب
سب سے بہترین دفاع سب سے بہترین حملہ ہے کے اصول کے تحت کراو مگا کے طلباء کو دفاع سے حملہ کی طرف جتنی جلدی ہو سکے جانا سکھایا جاتا ہے ۔حملے کر مسدود کرنے والی زیادہ تر تکنیک جلد سے جلد دفاع سے حملہ کی طرف جانے کی سہولت کے ساتھ بنائی گئی ہیں۔طلباء کو کک اور مکوں کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ ایک زاویے سے کیے گئے حملے کا دفاع بھی سکھایا جاتا ہے ۔
زمینی لڑائی
کراو مگا میں اس پر شدید زور دیا جاتا ہے کہ ہر صورت میں زمین سے بچا جائے لیکن اگر کوی اور صورت نہ ہو تو زمین پر لڑنے کو بھی قبول کیا گیا ہے۔طلباء کو زمین پر لڑنے کے لیے بہترین طریقہ اور زاویہ رکھنے کے ساتھ ساتھ ، کس طرح کچھ ککس کو زمین پر ہوتے ہوے مارنا ، ہاتھوں اور بازوں سے جکڑنا ، تثلیثی  طریقے سے گلا گھونٹنا اور گردن توڑنا سکھایا جاتا ہے۔جکڑے ہوے کس طرح مکوں کا دفاع کرنا ہے، گلا گھونٹنے  اور  گردن کے جکڑے جانے کے ساتھ ساتھ اگر کلائیاں جکڑی جائیں تو ایسے موقع پر کیا کرنا ہے بھی سکھایا جاتا ہے ۔
گرانا اور پھینکنا
کراو مگا میں بہت زیادہ گرانا اور پھینکنے پر زیادہ زور نہیں دیا جاتا کیونکہ یہ طریقہ کار زمین سے دور رہنے پر زیادہ زور دیتا ہے۔کچھ تراکیب  جو اس حوالے سے سکھائی جاتی ہیں ، جیسا کہ رَسٹ لاک (کلای کو جکٹر کر انسان  کو ناقابل عمل بنانا)،ایک ٹانگ یا دونوں کو جکڑ کر نیچے گرانا،ہپِ تھرو اور ایک ہاتھ اور کندھے کو استعمال کرتے ہو ے گرانا۔
بندوق، چاقو  اور چھڑی کا دفاع
کراو مگا تفصیلی طور پر مختلف طریقہ کار کے زریعے خود کو بہت سے عام ہتھیاروں  کے خطرے سے بچانے کے طریقہ کار بتاتا ہے ، جیسا کہ یہ آرمڈ سروسز کے لیے بنایا گیا تھا۔کراو مگا کی ان تراکیب میں شامل ہیں: بندوق کے دفاع کی تراکیب، چاقو کے دفاع کی تراکیب،  اور زیادہ تکلیف پہنچانے والے ہتھیار جیسا کے چھڑی وغیرہ۔



بندوق کے مقابلے میں دفاع کرنے کی تعلیمات پر مبنی
 کروا مگا کی ایک تکنیک کی ویڈیو
یہ مضمون اس مضمون کا ردو ترجمہ ہے ۔



کراو مگا کے بارے میں مزید جاننے کے لیے میں آپکو اس ڈاکیومینٹری کو دیکھنے کا مشورہ دوں گا ۔

Wednesday, June 22, 2011

زندگی مجھے اب یوں ستانے لگی

ویسے میں شاعر نہیں، لیکن  کل  کچھ الفاظوں نے دماغ میں آنکھ مچولی کھیلی تو بستر سے اٹھ کر انکو نزدیکی کاغذ پر پاس پڑی پینسل سے لکھ ڈالا ، اگلے دن شام کو گھر واپس آیا تو وہ کاغذ جہاں ہونا چاہیے تھا وہاں نہ تھا، امی سے پوچھنے پر وہ کہیں اور سے ملا ،امی نے مذاق اڑانے کے واسطے میری شاعری کا مذاق اڑایا ۔ میں نے الفاظوں کے جوڑ توڑ اور اشعار کی صحت کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگیں ، انسان جن حالات میں پُہنچتا ہے ویسی شاعری بھی شُروع کر دیتا ہے ۔ اب میں یہ سوچ رہا ہوں کہ یہ تعریف ہوی یا بستی ، کیونکہ کاشف نے بھی ایک زمانے میں عشقیہ شاعری شروع کی ہوی تھی جی ، اور وہ بھی بڑی زور دار قسم کی ۔ بہر حال اشعار ملاحظہ فرمائیں۔

زندگی مجھے اب یوں ستانے لگی
خواہشوں سے دور لیجانے لگی
فیصلوں سے پختگی بھی جانے لگی
جو ہنساتی تھی مجھکو رُلانے لگی
اور
 میں نے خوابوں کو دیکھنا چھوڑ دیا
جب حسرتیں آنکھوں میں بھر آنے لگی
عظیم شاعر و ادیب انکل ٹام

Tuesday, June 21, 2011

چیٹا ڈاڈو کھاڈا ٹاپے

چیٹا  ڈاڈو  کھاڈا  ٹاپے
ماموں تو جی ہمارے سارے ہی ہمیں بڑا پیارتے  ہیں ، لیکن دو مامووں سے ہماری بڑی فرینکنس ہے جی ، ماموں نصیر بھی ان دو میں سے ایک ہیں۔ وہ جی شاید کوی سٹیج ڈرامہ تھا جس میں اس طرح کے بول کہے  گئے تھے ، چیٹا ڈاڈو کھاڈا ٹاپے ، ٹاپ او چیٹے ڈاڈو وا، بس جی وہ ایسے مخولیے کلمات بنے کہ ہمارے اور ماموں کے درمیان ہنس ہنسائی کا ڈرامہ مارکہ نشان بن گئے ۔بس پھر جی جب بھی ہم مامے بھانجے ایک دوسرے کو ملتے بات بعد وچ ہوتی پہلے زور زور سے چیٹا ڈاڈو کھاڈا ٹاپے ٹاپ او چیٹے ڈاڈو وا ، کی گردان دہرای جاتی جسکے  درمیان اور بعد اونچے قہقہوں کا دور ہوتا اور پھر ہور کچھ ۔ کنیڈا میں پھینکے جانے کے بعد وچ بھی جی جب کبھی ماموں نصیر سے فونو فونی ہونی ہم نے اس پر بھی یہ ہی گردان دہرایا کرنی ۔ اس وجہ سے ڈڈو ہمارے دماغ پر ایسا چڑھا کہ ہم مینڈک بھول گئے اور ڈڈو ہمارا تکیہ کلام سے لے کر ہر چیز بن گیا۔
ہم نے ڈڈو کے نام پر بڑی شرارتیں بھی کی ہیں جن میں سے ایک کا نام ہے "میں کالا ڈڈو ہوں" لیں جی ملاحظہ کریں۔
یہ جی ان دنوں کی بات ہے جب ہم بچے ہوا کرتے تھے اور نئے نئے کنیڈا میں وارد ہوئے تھے ۔ اور جی بچے تو تھے ہی لہذا شرارتوں کا خوب شوق تھا اور اسکو بڑے ذوق کے ساتھ پورا کیا کرتے تھے۔  ہماری حساب کی کلاس ہوتی تھی، اور کاشف اور میں ایک ہی کلاس میں تھے، ہماری کلاس کافی چھوٹی تھی جس میں دو تین لڑکیاں اور چار پانچ لڑکے تھے جن میں سے ایک دو اکثر ہی غیرحاضری کے دورے پر رہا کرتے تھے ۔  ہماری کلاس میں ایک لڑکا ہوتا تھا جسکا نام شاید کے سے کچھ ہوتا تھا خیر جی وہ کالا تھا یہ اسکی خامی نہیں نہ ہی ہمارے ریسسٹ  ہونے کی نشانی ہے لیکن کہانی کے مزے واسطے اس  لڑکے کے بارے میں یہ جاننا ضروری ہے۔ بس جی اسکو اردو سیکھنے کا بڑا شوق تھا۔ وہ جی اکثر میرے سے اردو سیکھا کرتا تھا اور میں ٹھیک کے ساتھ ساتھ چسکے بازی کے واسطے اسکو کچھ کچھ غلط بھی سکھایا کرتا تھا جی ۔ ایک دن اس کو  میں نے " میں ایک خوبصورت لڑکا ہوں" کا انگریزی سے اردو ترجمہ ایسے کیا کہ " میں کالا ڈڈو ہوں" کاشف نے جی ہنستے اور ڈرتے ہوے ہمیں بڑا منع کیا کہ اسکو یہ نہ سکھاوں لیکن جی ہم پھر بھی باز نہ آے ۔ کلاس میں ایک لڑکی دیسی اردو جاننے والی تھی ہم نے اسکی بھی پرواہ نہ کی اور اسکو اچھی طرح رٹوا دیا۔ اب وہ ہر روز ملیں اور ہمیں "میں ایک کالا ڈڈو ہوں" کی گردان سنا کر ثابت کریں کہ انکی یاداشت کمزور نہیں اور ہم سے تلفظ کی غلطیوں کی اصلاح چاہیں۔ کاشف صاحب ہم پر ایک سرد نگاہ ڈالیں اور ہم منہ نیچے کر کے کھی کھی کیا کریں ۔
پہلا جھٹکا ہمیں اس وقت لگا جب ایک دن سکول سے چھٹی پر وہ مجھے ایک جاپانی حسینہ کے ساتھ باہر نکلتے ہوے ملے۔ مجھے جی انہوں نے راستے میں ہی روک لیا کہ پائی کھتے چلے ہو زرا انکی طرف نظرِ کرم بھی کرو ۔ ہم نے پوچھا کیا ہوا انکو سرخاب کے پر لگے ہیں ؟؟؟ اور    بھای معذرت کے ساتھ ہم وہ "ہاے ہاے " والے لڑکے نہیں جو لڑکیوں میں شوق نہ رکھیں لیکن مجبوری یہ ہے کہ  ایک پاکستانی شریف زادے ہیں لڑکیوں پر نظر کرنا سکھایا نہیں گیا  ۔  اسنے جی ہمیں ایسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو "آہو آہو پتا مینوں تو کَنا شریف ایں " (ہاں ہاں مجھے پتا ہے تم کتنے شریف ہو) جناب  پھر ہمیں کہنے لگے یہ وجہ نہیں وجہ یہ ہے کہ انکو بھی تمہاری زبان آتی ہے ، ہم نے کھسیانہ ہوتے ہوے کہا "ڈڈو یار تنگ نہ کر"۔  اسنے کہا نہیں نہیں تم اس کا امتحان لے سکتے ہو ۔ ہم نے لڑکی سے اردو میں پوچھا کُڑیے کدھر جانے لگی ہو ، کڑی نے لائبریری کہتے ہوے درست جواب دے کر ہمارے آدھے طوطوں کو پھُر پھُر کر دیا ۔ ہم نے جی اپنے بائیں کندھے پر دائیاں ہاتھ رکھ کر کہا ٹامیا پریشان نہ ہو، جاپانی گُڑیا بڑی شانی ہے تُکا صحیح لگ گیا ہو گا۔ ہم نے پھر دوسرا حملہ کرتے ہوے اردو میں پوچھا تمہیں یہ زبان کیسے آتی ہے ۔ اسنے فیر صحیح جواب دیتے ہوے کہا کہ ہمارے ماپے یہ زبان بولتے ہیں آپس وچ اور ساتھ میں انڈیا کی فلمیں بھی ویکھتے ہیں تو بس ہمیں ساری زندگی سنتے سنتے آگئی ، بے شک ہم بول سکتے نہیں لیکن سمجھ پوری پوری آتی ہے ۔
بس جی اسکے بعد وچ ہمیں بھی پوری پوری سمجھ آچکی تھی اسی لیے ہم تو کھسک لیے وہاں سے اور وہ بھی پتلی گلی سے جو کہ ہمارے علاقے میں ہوتی نہیں ہے ۔ خیر جی یہ تو پہلا جھٹکا تھا ، دوسرا جھٹکا ہمیں سال کے آخر وچ لگا جی ، وہ یہ کہ سکول کا آخری دن تھا اور ہو رہی تھی گرمیوں کی چھُٹیاں ، گھر جاتے ہوے سکول کے باہر ہمیں وہ ہی "ڈڈو"صاحب مل گئے پوچھنے لگے  میاں گرمیاں کیسے گزارو گے ہم نے کہا دیکھ بھائی ہم ہیں پاکستانی ہم پہلے سے کوی ارادے نہیں بناتے سب قسمت پر چھوڑ دیتے ہیں جو ہو سو ہو ۔ پھر پوچھا تم کیا کرنے والے ہو ، اسنے کہا میرے ابا جان چاہتے ہیں کہ میں انکے کراٹے کی جِم میں بچوں بلونگڑوں کو کراٹے سکھایا کروں۔ ہم نے پوچھا کیا تم بھی کراٹے شراٹے جانت ہو ، اسنے کہا بڑی اچھی طرح ابا جان نے ہی سکھاے تھے ۔ بس جی وہ دن آخری تھا پھر ہم نے کبھی انکو اردو نہیں سکھائی ۔ اور اگلے سال تک وہ " میں کالا ڈڈو ہوں " مکمل طور پر بھول چُکے تھے ۔ 

Monday, June 20, 2011

حمیدہ

حمیدہ
ٹام میں نے تمہیں کتنی دفعہ منع کیا ہے کہ جس جگہ میں پوچا مارتی ہوں تم وہاں نہ پھرا کرو تم پھر بھی باز نہیں آتے ، حمیدہ کو چڑانے کے لیے میں دوبارہ اسی جگہ الٹے قدموں  جاتے ہوے کہتا ٹھیک ہے ٹھیک ہے اگر میری وجہ سے تمہاری صفائی خراب ہوتی ہے تو میں ادھر آتا ہی نہیں۔ ایسے موقع پر جہاں اماں ہنستی تھیں وہیں اکثر حمیدہ جھاڑو اٹھا کر مجھے مارنے بھی لپکا کرتی تھی۔ لیکن مجھے اس سے کبھی جھاڑو کھانا یاد نہیں ہاں تھپڑ بہت سے یاد ہیں جو میرے منہ پر وقتی لالی اور اسکے لیے اماں کی ڈانٹ کا سبب بنا کرتے تھے۔ شاید وہ کسی کے اوپر گزرنے کی وجہ سے قد کے چھوٹے رہجانے کے ساتھ ساتھ جھاڑے مارنے سے جُڑی کسی حماقت پر بھی یقین رکھتی ہو جسکا مجھے کبھی علم نہ ہوا۔  کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر آج حمیدہ زندہ ہوتی تو میں اسکے بچوں کو ضرور نصیحت کرتا کہ " بھئی اپنی امی سے بچ کر رہا کرو ، اسکے ہاتھوں کے وزن کو مجھ سے زیادہ کوی نہیں جانتا" ۔
اسکے باوجود بھی کہ حمیدہ کی اور میری عمروں میں بہت بڑا فرق تھا، میں حمیدہ کے ساتھ تو تڑاک کر کے بات کیا کرتا تھا، اسکا یہ مطلب نہیں کہ میرے دل میں اسکی عزت نہ تھی۔ شاید جتنی عزت میرے دل میں اسکے لیے تھی کسی اور کے لیے کبھی نہ تھی۔ میں نے کئی دفعہ کوشش کی کہ اسکو آپی ، باجی ، سسٹر وغیرہ بلاوں لیکن  چند دن سے زیادہ میں اس پر عمل نہ کر سکا، شاید بچپن میں اسکے تھپڑوں کی وجہ سے ہونے والے جھگڑوں نے مجھے اس تکلفی عزت سے بے نیاز کر دیا تھا، حمیدہ نے کبھی بھی اس پر نہ مجھے تنبیہ کی اور نہ ہی بُرا منایا ہاں جب مجھے چند دن آپی، باجی اور سِس کا دورا پڑتا تھا وہ مجھے سراہا ضرور کرتی تھی۔
مجھے یاد نہیں کہ اس وقت میں کتنے سال کا تھا، ہاں اتنا ضرور یاد ہے کہ سارا دن ادھر ادھر آوارہ گردی کیا کرتا تھا ،ہو سکتا ہے کہ چھوٹی کلاس میں ہونے کی وجہ سے مجھے جلدی چھٹی ہو جاتی ہو اور میں باقی وقت آوارہ گردی کر کے گزارا کرتا ہوں، بہرحال حمیدہ ان دنوں ہائی سکول میں پڑھا کرتی تھی۔ ایک دن وہ سکول سے آئی اور میں اسکی کمیض کو پیچھے سے پکڑ کر چھلانگیں مارتا ہوا چلنے لگا اور اسنے ٹھپاک کر کے میرے منہ پر تھپڑ جڑ دیا ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اماں نے حمیدہ کی بتائی ہو جائز وجوہات سننے کے باوجود بھی میری ہی سائیڈ لی تھی۔
حمیدہ میری غلط حرکتوں پر باقیوں سے زیادہ سختی کا مظاہرہ کرتی تھی، سکول کا کام کرواتے ہوے مجھے اس سے مار کھانا بھی یاد ہے۔ اکثر میری فرمائش پر جب اماں مجھے روٹی میں آلو ڈال کر رول بنا دیتیں تب بھی وہ میرے ساتھ ساتھ اماں کو بھی ڈانٹا کرتی تھی کہ آپ اسکو یہ رول کیوں بنا کر دیتی ہیں، اسکا خیال تھا کہ ایسے کُتے کھاتے ہیں اور چونکہ ہم انسان ہیں ہمیں انسانوں کی طرح روٹی کھانی چاہیے ۔  میرے لیے عید کے کپڑوں کی فکر اسی کو سب سے زیادہ ہوتی تھی لہذا وہ شاپنگ پر جانے سے ایک ہفتہ پہلے ہی مجھے مطلع کر دیتی تھی کہ فلانے دن ہمیں عید کے کپڑے خریدنے جانا ہے لہذا میں تیار رہوں۔  یہ سچ ہے کہ مجھے خریداری کرنا بلکل بھی پسند نہ تھا لیکن پھر بھی حمیدہ مجھے گھسیٹ کر لے جاتی تھی اور عید والے دن اپنی پسند کے کپڑے مجھ پر دیکھ کر اسکو خاص خوشی ہوا کرتی تھی۔
حمیدہ مجھ سے بہت محبت کیا کرتی تھی ، اسی لیے ڈرائنگ روم میں موجود پکچر فریم میں میری ہی تصویر لگی رہتی تھی، حمیدہ نے نہ تو کبھی میری تصویر کو وہاں سے ہٹنے دیا اور نہ ہی کسی اور کی تصویر لگنے دی۔ مجھے ہر وقت ہڈ حرامی کے طعنے دینے کے باوجود بھی وہ میرے کام خود کیا کرتی تھی،شاید میری ہڈ حرامی کا باعث بھی وہ خود تھی ۔ پاکستان میں مجھے کبھی اپنے کپڑے خود استری کرنا یاد نہیں ہر دفعہ حمیدہ خود ہی یہ نیک کام کیا کرتی تھی۔
حمیدہ کو علم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا، وہ اکثر میرے پاس بیٹھ کر شکوہ کیا کرتی تھی کہ کوی میرے کالج کی فیس نہیں دیتا ورنہ میں بھی کالج میں داخلہ لے لیتی۔ حمیدہ کو دینی علم حاصل کرنے اور دین پر چلنے کا بھی شوق ہوتا تھا ، اسی لیے وہ اکثر اپنی چادر کو منہ پڑ لپیٹ کر پردہ کر لیا کرتی تھی،  ایک دفعہ اسنے جب چہرہ چھپانا شروع کیا تو ایک دن مجھے کہنے لگی کہ سلو آج ہنس رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ بچپن سے اب تک تو ہم تمہیں دیکھتے رہے اب منہ چھپانے کا کیا فائدہ اور میں نے اسکو یہ کہہ کر تسلی دی تھی کہ سلو تو جاہل ہے اسکی باتوں کی طرف توجہ نہ دیا کرو۔  حمیدہ اپنی نمازیں پابندی سے پڑھا کرتی تھی، اپنے دینی علم کے شوق کو پورا کرنے کے لیے وہ اکثر "خواتین کا اسلام" بھی ادھار اُٹھا لاتی تھی۔

اس دن میں پتا نہیں کیوں بہت خوش تھا، ملنڈا سے جان چھڑا کر میں سکول سے باہر نکلتے ہوے مُسکرا رہا تھا جب میں نے مخالف سمت سے کاشف کو آتے ہوے دیکھا۔   میرا خیال تھا کہ یہ اپنی کلاس سکپ کر کے آوارہ گردی کرتا رہا اوراب شاید اپنی سہیلیوں کو باے باے کہنے جا رہا ہے ، یا اسکی کسی سہیلی کا کوی مسئلہ ہو گیا ہے جسکی وجہ سے یہ اتنا تیز تیز چل رہا ہے ، یا شاید کوی لڑائی ہونے والی ہے جسکی وجہ سے اسکے چہرے پر اتنی سنجیدگی ہے۔ لیکن وہ دوسری طرف جانے کی بجاے سیدھا میری طرف ہی آیا ، اور مجھے کندھے سے پکڑ کر کہنے لگا کہ مجھے ابھی ابھی شوکی کا فون آیا ہے کہ حمیدہ فوت ہو گئی ، تو ایسا کر سیدھا سیدھا گھر جا اور میں شاک کی کیفیت میں ہی گھر کی طرف چل دیا مجھے نہیں علم کہ میں اس شاک کی کیفیت سے کب نکلا ، شایدمیں ابھی بھی اسی شاک کی کیفیت میں ہی ہوں۔
اب جب کبھی ماضی کی یہ یادیں مجھے تنگ کرتی ہیں تو بے اختیار میرے منہ سے نکلتا ہے
یادِ ماضی عذاب ہے یا رب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
میرے اپنے جاننے سے پہلے حمیدہ مجھے جانتی تھی، اپنی تام تر خامیوں کے باوجود وہ ایک آئیڈیل بہن تھی جسکی کوی بھائی خواہش کر سکتا ہو۔  عامر بتاتا ہے کہ فوت ہونے سے پہلے اسنے اپنی مستقل نمازوں کے ساتھ ساتھ نوافل کی بھی کثرت کر لی تھی۔ اللہ تعالیٰ اسکی مغفرت کریں اور اسکے گناہون کو نیکیوں میں بدل دیں اور اسکو جنت میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائیں۔

Thursday, June 16, 2011

شوکی اور میں

شوکی اور میں
بابا کی وفات کے بعد پاکستان کی بہت یاد آرہی ہے ، میں نے دو دن پہلے کوی تقریباً تین سال بعد پاکستان فون کیا اور سب سے ہی بات ہوی ، حمیدہ کی وفات کے بعد سے میرا دل مکمل طور پر ٹوٹ چکا تھا ، اسی لیے میں نے کبھی کسی کو فون نہیں کیا نہ ہی کوی رابطہ کرنے کی کوشش کی ۔ بہت سے لوگوں نے کاشف کے زریعے مجھے پیغام پہنچایا کہ فون کر لیا کرو لیکن میں نہ کبھی دھیان نہیں دیا ، سچ تو یہ ہے کہ میں دھیان دینا چاہتا ہی نہ تھا ۔ ایک دفعہ تو شوکی نے فون کر کے میرے بارے میں کچھ سخت الفاظ بھی استعمال کیے تھے اور کاشف سے کہا تھا کہ اس ٹوں ٹوں ٹوں کو کہیں کہ کبھی فون ہی کر لیا کر ، لیکن میں نے پھر بھی کسی کو فون نہ کیا ۔
شوکی کا اور میرا رشتہ بھی بڑا عجیب تھا وہ مجھ سے فاصلہ رکھتے ہوے بھی بہت محبت کرتا تھا ، شاید اسکی وجہ ہماری عمروں کا فرق تھا ۔ شوکی مجھ سے کئی سال بڑا ہے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں چھوٹا تھا تو مجھے اماں کے بعد شوکی کے ساتھ ہی سونا پسند تھا ، اسکی وجہ شاید یہ ہے کہ اماں اور بابا کے بعد وہی واحد شخص تھا جسکے پاس میں خود کو محفوظ تصور کرتا تھا ۔ عبدالمعیض کی طرح وہ پکڑ کر میرے گال نہیں کاٹتا تھا نہ ہی مجھے ہواوں میں اچھالتا تھا ، لہذا مجھے کبھی اس سے کسی قسم کا ڈر محسوس نہ ہوا۔ مکمل واقعہ تو مجھے یاد نہیں لیکن ایک دفعہ میں نے اماں سے روتے روتے شکایت کی تھی کہ شوکی نے مجھے اپنے ساتھ سونے سے انکار کر دیا تھا میں نے اماں کو روتے ہوے بتایا تو انہوں نے ڈانٹنے کے انداز میں شوکی سے وجہ پوچھی تو اسنے بتایا کہ میں سوتے میں اپنے دانت رگڑتا ہوں جسکی وجہ سے کافی آواز پیدا ہوتی ہے اور اسکی نیند خراب ہوتی ہے ، لیکن چونکہ میں اماں کا بہت لاڈلہ تھا لہٰذا ہار شوکی کی ہی ہوی ۔
میں نے کبھی شوکی کو اپنی عمر کے لحاظ سے جو لڑکے کرتے ہیں وہ کبھی کرتے نہ دیکھا ، مجھے یاد نہیں کہ میں نے کبھی محلے کے لڑکوں کے ساتھ اسکو کرکٹ کھیلنے جاتے دیکھا ہو۔ محلے میں بھی شاید وہ ایک دو دفعہ ہی کھیلا ہو گا ۔ اس زمانے میں پانی والی پستول بہت چلتی تھی اور شوکی دو خرید کر لایا تھا ، ایک اپنے لیے اور ایک میرے لیے اور مجھے شوکی کے ساتھ جنگ کرنا بھی اچھی طرح یاد ہے ۔
مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب شوکی بابا کو کھانا دینے جا رہا تھا اور میرے رونے پر اور اماں کے اصرار پر اسنے مجھے بھی سائیکل پر بٹھا لیا ۔ راستے میں ایک جگہ پنجرے میں سانپ بند کر کے رکھے ہوے تھے ، میرے اصرار پر شوکی نے وہاں سائیکل روک کر مجھے سانپ بھی دکھائے ۔ وجہ جگہ تھوڑی سنان تھی اور گرمیوں کے دن تھے اور میرا خیال ہے کہ شوکی مجھے اس جگہ لیجانے سے تھوڑا ڈر رہا تھا شاید خوفناک صورت والے اور بڑی بڑی مونچھوں والے آدمیوں کی موجودگی کی وجہ سے ۔
شوکی ہر طرح سے میرا خیال رکھنے کی کوشش کرتا تھا ، مجھے بچپن میں سکے  اور پرانی کرنسی جمع کرنے کا بہت شوک تھا ۔ اس زمانے میں میں دو روپے والے سکے جمع کر رہا تھا میرے پاس انیس سو چھیانوے والے دو سکے موجود تھے جبکہ انیس سو ستناوے والا کوی نہ تھا ، میں ادھر ادھر دیکھتا ہوا باہر گیا جہاں شوکی اپنے چند دوستوں کے ساتھ کھڑا ہوا تھا ۔ میں نے جا کر شوکی کو اپنا مدعا سنایا تو اسکے ایک دوست نے کہا کہ ہاں ہاں مونچھ لے پیسے مونچھ لے ، شوکی کو یہ بات شاید پسند نہ آی ، مجھے اسکے الفاظ ابھی تک من و عن یاد ہیں ، اسنے کہا تھا کہ "اگر ہمارے پیسے ہمارے بھائی کے لیے ہی نہیں تو کس کام کے" یہ کہتے ہوے اسنے اپنی جیب میں ہاتھ ڈال کر جتنے سکے تھے نکال کر میرے ہاتھ پر رکھ دیے ، اور میں اسکے دوست کو منہ چڑاتا ہوا چل دیا ۔
 جب میں نے پاکستان فون کیا اور شوکی کو بتایا کہ میرے پاس موبائل نہیں ہے  لہذا میں اسکو اپنا کوی نمبر نہیں دے سکتا ، اس پر شوکی نے کہا کہ اگر ایسا ہی ہے تو وہ مجھے ایک سیٹ ٹی سی ایس کر سکتا ہے ۔ جس پر میں نے انکار کر دیا ۔ حمیدہ کی وفات کے بعد شاید میرا وہ تعلق شوکی سے نہ رہے جو تھا لیکن محبت اب بھی باقی ہے ۔ 

Tuesday, June 14, 2011

بے حِس کتوں کی بستی

بے حِس کتوں کی بستی
نوٹ :۔کمزور دِلحضرات اس پوسٹ کو  نہ پڑہیں۔
میں شاید اس وقت چار یا پانچ سال کا تھا ، اور نرسری کلاس میں پڑھتا تھا ، ہاں مجھے یاد ہے کہ تب تک میری بہن بھی پیدا نہیں ہوی تھی۔ ہمارا خاندان ایک جوائنٹ فیملی سسٹم کا حصہ تھا، چار منزلہ مکان میں تین خاندان رہتے تھے جبکہ نیچے کا حصہ سرونٹ کوارٹر کے طور پر استعمال ہوتا تھا اسی لیے بھی کہ وہ اتنا بڑا نہ تھا۔ ہمارے گھر میں جو نوکر تھے انمیں سے ایک گاوں سے آی ہوی پندرہ سال کی لڑکی تھی ۔ انہیں دنوں ہمارے گھر میں کوی زیور چوری ہو گیا ، لٰہذا سب کا شک اسی نوکرانی پر گیا ۔ میری دادی نے کہا ٹھیک ہے اسنے کیا ہے یا نہیں اسکو واپس گاوں بھیج دو ہمیں ویسے بھی نوکر کی ضرورت نہیں رہی ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے دوپہر کا وقت تھا ، سب مرد کام پر تھے اور خواتین سو رہی تھیں، میں کارٹون دیکھ رہا تھا ۔ اچانک کسی چیز کے گرنے کی آواز آئی میں نے جا کر دیکھا کہ اس نوکرانی کے منہ سے جھاگ نکل رہی ہے ۔ میں چونکہ بچہ تھا لٰہذا مجھے کچھ سمجھ نہ آیا اور واپس آکر کارٹون دیکھنے لگا۔ آواز سن کر میری امی اٹھیں اور نوکرانی کو دیکھ کر فوراً حرکت میں آئیں ۔ اسکو ہسپتال لیجایا گیا ، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکی اور فوت ہو گئی ۔ مجھے اپنی زندگی کے اس زمانے کی اور کوی بات یاد نہیں لیکن یہ واقعہ ایسا میرے دماغ میں بیٹھ گیا کہ مجھے اب پچیس سال بعد بھی یاد ہے کہ اس لڑکی نے کپڑے کس رنگ کے پہن رکھے تھے اور ان پر کس قسم کے ڈئزائن بنے ہوے تھے ۔
مندرجہ بالا واقعہ  مکمل طور پر سچا ہے جو کہ انسانوں کی ایک قسم کو ظاہر کرتا ہے ، دوسری قسم کے انسان وہ ہیں جو مکمل طور پر بے حس ہیں جنکے بارے میں ، میں "دنیا بڑی کُتی چیز ہے" میں بھی لکھ آیا ہوں۔  کراچی میں پچھلے دن ایک پاکستانی نوجوان کا بے ہیمانہ قتل ہوا اور اس پر جس طرح میڈیا اُٹھ آیا اور گلی گلی شور مچ گیا سب ہی جانتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کراچی کے مخصوص علاقوں میں رہنے والوں کے لیے یہ کوی بڑی بات نہیں نہ ہی یہ واقعہ اتنی اہمیت کا حامل تھا کہ اسکو اتنی کوریج دی جاتی ۔ اسکی وجہ یہ نہیں کہ وہ بھی بے حس کتوں کی فہرست میں شامل ہوتے ہیں بلکہ اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی روزانہ کی زندگی میں جو کچھ دیکھتے اور جن حالات سے گزرتے ہیں وہ اس سے بھی کہیں زیادہ بدترین ہیں۔
ایک واقعہ کراچی میں ہوا میں آپکو اسی شخص کی زبانی سنانے کی کوشش کرتا ہوں جسکے ساتھ پیش آیا ۔
میرا ایک دوستے مارکیٹ سے کچھ خریدنے جا رہا تھا اسنے اپنے دوسرے دوست (جو کہ میرا بھی دوست ہے) کے بھتیجے کو بھی ساتھ بائیک پر بٹھا لیا ۔ راستے میں بائیک کو ٹرالر نے ٹکر مار دی اور بائیک چلانے والا موقعہ پر ہی جاں بحق ہو گیا ۔ بچے کو ہسپتال لیجایا گیا ، مجھے ایس ایم ایس ملا کہ خون کی ضرورت ہے فوراً ہسپتال پہنچو ، میں سمجھا کہ معاملہ اتنا سنگین نہیں ہے کہ صرف خون کی ہی ضرورت ہے اسی لیے میں ہسپتا پہنچا ۔ بچے کی حالت انتہای تشویش ناک تھی ، اسکا سینہ چھلنی پڑا تھا ۔ اسکے چاچے کہ چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔
میں:ایک منٹ ، میں آپکی بات سے یہ سمجھا ہوں کہ بچا بیڈ پر اکیلا پڑا تھا ، کیا کوی ڈاکٹر اور نرس اسکے نزدیک نہ تھے ؟
وہ: نہیں کوی ڈاکٹر اور نرس بچے کے قریب نہ تھے ، وہاں بہت زیادہ شور تھا اور کوی ڈاکٹر توجہ دینے کو بھی تیار نہ تھا ۔اصل میں جس ہسپتال میں ہم اسکو لے کر گئے تھے وہ ایک حکومتی ہسپتال ہے سروسز ہسپتال وہاں بہت زیادہ رش ہوتا ہے ۔ میں بڑی مشکل سے ایک ڈاکٹر کی منت سماجت کر کے اسکو پکڑ کر لایا اسنے بچے کو دیکھا اور بڑے اعتماد کے ساتھ مجھے کہا کہ معمولی زخم ہیں انکی ڈریسنگ کرتے رہیں اور میں یہ ایک دو سیرپ لکھ کر دے رہا ہوں اسکو دیں بچہ ٹھیک ہو جائے گا۔ میں اسکے اتنے اعتماد کے کافی حد تک مطمئن ہو گیا تھا ، لیکن تسلی کی خاطر ہم اسکو ایک پرائیویٹ ہسپتال لے گئے وہاں یعنی پرائیویٹ ہسپتالوں میں حادثات وغیرہ کے کیسیز نہیں لیے جاتے کیونکہ کافی قانونی کاروای ہوتی ہے جس سے یہ لوگ بچپنا چاہتے ہیں۔ لیکن  پھر بھی ہم ایک ہسپتال لے گئے وہاں ڈاکٹر نے دیکھتے ہی کہا کہ بچے کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے، اسکو آپریشن کی ضرورت ہے تم اسکے فلانے ہسپتال لے جاو۔ ہم نے کہا ابھی ہم وہاں سے ہی آرہے ہیں اور وہ لوگ کچھ نہیں کر رہے ۔ بہرحال ہم ایک دوسرے ہسپتال لے گئے جو کہ خاص بچوں کا ہسپتال تھا اور راستے میں پڑتا تھا ، انہوں نے تو دیکھتے ہی ہاتھ اٹھا لیے کہ اس معاملے میں ہم کچھ نہیں کر سکتے ، تم اسی ہسپتال لے جاو۔ ابھی ہم اسی ہسپتال لے جا رہے تھے کہ بچے کا راستے میں ہی انتقال ہو گیا ۔ اِنّا لِللہ ِ وَ اِنّا اِليہِ راجِعُون
پولیس ٹریلر والے کو پکڑ چکی تھی ، یہاں پاکستان میں میڈیا بہت بلیک میلنگ کرتا ہے ۔ میڈیا والے بھی ایک نمبر کے بے غیرت ہیں ، بہرحال جو اصل میں ٹریلر کا مالک تھا وہ تو نہیں آیا لیکن اسکی جگہ ایک اور شخص جو علاقے کی چوہدری کی طرح ہے وہ ٹریلر کا مالک بن کر آگیا اور اسی نے سارے معاملات سنبھالے ۔ بچے کے گھر والوں نے تو کہا کہ ہمیں کچھ نہیں چاہیے ہم یہ معاملہ اللہ پر چھوڑتے ہیں ، جبکہ دوسرے خاندان نے کہا کہ ٹھیک ہے ہمارے خاندان کا ایک فرد تو اس دنیا سے چلا گیا اسکی تلافی نہیں ہو سکتی ، لیکن اسکی ایک بیوہ اور چار بچے ہیں لٰہذا تمہیں انکے لیے کچھ کرنا ہو گا ۔ تو بات یہ طے پائی کہ وہ ان بچوں کے نام ایک چھوٹا سا مکان سستے سے علاقے میں بنا کر دے گا ، لیکن جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ  میڈیا والے بھی بڑے بے غیرت ہیں ، ایک میڈیا والے نے پتا نہیں کیا چکر چلایا اور کیا بات کی لڑکے کے باپ سے کہ انکو تھوڑے پیسے دے کر معاملہ نمٹا دیا ۔ اور سارا معاملہ رفع دفع ہو گیا ۔
کراچی کے ایک خاص علاقے میں ابھی کچھ دن پہلے ہی ایک خاص گروہ نے اپنے مخالفین کے دو بندوں کو کھلی سڑک پر قتل کیا ، یہ نوجوان کا قتل انکے مقابلے میں کسی حثیت کا نہیں، قاتلوں نے پہلے قتل کیا ، پھر انکے ناک کان کاٹے ، اور پھر انکے اوپر سے اپنی موٹر سائیکلیں گزاریں، لیکن یہ بات میڈیا میں نہیں آے گی ، کیونکہ میڈیا کو اسکی اجازت نہیں ہے ۔ اس خاص گروہ کو حکومت کی طرف سے خاص چھٹی ملی ہوی ہے ۔ اس گروہ کے سیکٹر ہیں علاقے میں ۔آر پی جی  اور ایل ایم جی انکے پاس دیکھنا تو معمول کی بات ہے (میں نے آر پی جی اور ایل ایم کے جی نام صرف ایکس باکس گیم "دی آرمی آف ٹُو" جو کہ ایک دوست کھیلتا ہے میں سنے تھے اور میں ان ہتھیاروں کے بارے میں کچھ نہ جانتا تھا لیکن یہ باتیں سننے کے بعد میں نے وکی پیڈیا پر سرچ کی) انکے ایک سیکٹر کے پاس میں اکثر ایک لڑکے کو دیکھتا ہوں جسکی عمر تقریباً پندرہ یا سولہ سال ہو گی وہ ایم سِک سٹین (جو کہ امریکی اور اسرائیلی آرمی استعمالتی ہیں)پکڑے کھڑا ہوتا ہے ، ایک جگہ پر وہ پہرا دے رہا ہوتا ہے ۔
یہ خبریں میڈیا میں نہیں  آئیں گی ،اس قسم کے واقعات پاکستان میں جس ترتیب سے ہوتے ہیں وہ ایک معمول کی حثیت رکھتے ہیں، لیکن عوام انکے بارے میں نہیں جانتی، بہت سے واقعات سے متعلق عوام مکمل طور پر علم بھی رکھتی ہے ، لیکن میڈیا ایک مداری کی طرح ہے جو کسی بھی واقعہ پر اپنی ڈگڈگی  کو استعمالتے ہوے جس طرح چاہے عوام کو نچاتا ہے ۔سرفراز شاہ کے قتل پر جتنا افسوس آپ لوگوں کو ہے اتنا ہی مجھے بھی ہے ، لیکن سوال یہ ہے کہ ہمیں صرف سرفراز شاہ کے قتل پر ہی اتنا افسوس کیوں ہے ؟؟ اسکا جواب بھی میں ہی آپکو دے دیتا ہوں اسکی وجہ یہ ہے کہ اس خبر کو میڈیا نے کوریج دے دی ، میں آپکو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ سرفراز شاہ کا واقعہ کچھ بھی نہیں اس میں یہ شور بھی مچایا جا سکتا ہے کہ رینجرز کو شہری علاقوں میں کام کرنے کی تربیت نہیں۔ میری ایک خفیہ پولیس کے افسرسے بات ہوی اسنے بتایا کہ ہمیں جس انداز سے تربیت دی جاتی ہے اس میں اگر لگے کہ مجرم تمہاری گَن پر قبضہ کرنا چاہتا ہے تو بلا جھجھک اسکو گولی مار دو، اور ویڈیو کو غور سے دیکھنے سے پتا چلتا ہے سرفراز شاہ معافی مانگنے کے واسطے اسکے قریب جا رہا تھا ، اسی لیے رینجر یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ وہ صورتِ حال کیو جہ سے ڈر گیا تھا ۔(لیکن یہ بلکل اسکے کسی کام نہ آے گی کیونکہ اس سے پہلے ہی پیچھے سے کوی آوازیں لگا رہا تھا کہ مار دے اسکو ) اسکے علاوہ اسی پولیس والے نے مجھے ایک دو ایسے واقعات بھی سنائے جہاں ایک پولیس والے حالات سے کنفیوژ ہو کر گولی چلا دی جس سے کوی مر گیا اور عدالت نے اسکو کوی سزا نہ دی وغیرہ وغیرہ ۔
لیکن یہ ویڈیو دیکھیں ، جو کہ اب تک یوٹیوب نے ہٹای نہیں ہے  ۔ اس میں پاکستانی آرمی کچھ لوگوں کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر انکو قتل کر دیتی ہے ۔ میں نہیں جانتا یہ لوگ کون ہیں ، نہ ہی میں جاننا چاہتا ہوں اور نہ ہی مجھے اس سے غرض ہے ۔ چاہے یہ بدترین قسم کے دہشت گرد ہیں ، لیکن کسی بھی طرح  آپ انکو ایسے آنکھوں پر پٹی باند ھ کر قتل نہیں کر سکتے جیسے پاکستانی فوج نے کیا ۔لیکن سوال یہ ہے کہ مجھے اور آپکو اس پر اتنا دُکھ کس وجہ سے نہیں ؟؟؟ اسکا جواب پھر میں آپکو دیتا ہوں ،کہ اسکو  نہ تو جیو نے کوریج دی ، نہ ہی اے  آر  وای   نے  کوریج دی اور نہ ہی ، وقت اور دنیا نے لہذا ہمارے لیے یہ واقعہ کبھی ہوا ہی نہیں نہ ہی ہم اس پر افسوس کا اظہار کریں گے ۔ روشن خیال لوگ جنہوں نے اپنے بلاگوں پر بہت شور مچایا کہ اس قتل پر غیرانِ کراچیوں کو افسوس نہیں کہ یہ واقعہ اردو سپیکنگ کراچیے کے ساتھ  ہوا (جو کہ بلکل غلط ہے ہمیں اس پر اتنا ہی افسوس ہے جتنا کراچی والوں کو یا اردو سپیکنگ کو۔ لیکن لعنت ہے ایسی گھٹیا سوچ پر)۔ میں ایسے خواتین و حضرات سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ کیوں اس پر لا علم ہیں ؟؟؟ آپکو کیوں اس پر افسوس نہیں ۔ آپ کی لاعلمی دیگر معاملات پر تو نہیں انہی معاملات پر کیوں ؟؟؟؟
آپ لوگوں کو سیالکوٹ میں جو دو بھائیوں کے ساتھ ہوا وہ تو یاد ہو گا نا بے شک میڈیا نے اسکی کوریج بند کر دی ہے لیکن وہ ذہن کے کسی نہ کسی گوشے میں موجود ضرور ہو گا، بہت معذرت کے ساتھ مزید کچھ پڑھنے سے پہلے میں چاہوں گا کہ آپ اس کو دوبارہ ایک دفعہ اپنے دماغ کے خانے میں کر لیں تاکہ مزید کچھ پڑھنے سے پہلے ہی آپکے دل اتنے مکدر ہو جائیں کہ جو کچھ آگے آپ پڑھیں گے اسکو پڑھتے ہوے آپ اپنے دل میں اتنی زیادہ تنگی محسوس نہ کریں۔
مارچ ڈی جے خان  میں ایک واقعہ ہوا کہ ایک شخص ایک مذہبی گروہ کی معزز شخصیات کو گالیاں دیا کرتا تھا ، ایک بوڑھا شخص جسکا نام حافظ عبداللہ تھا وہ برداشت نہ کر سکا اسنے پولیس کو رپورٹ کی جس پر پولیس نہ کوی ایکشن نہ لیا ، آخر میں تنگ آکر حافظ عبداللہ نے اس شخص کو قتل کر دیا اور تھانے میں جا کر خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ۔ پولیس نے اسکو گرفتار کر لیا اور جس گروہ کے شخص کو قتل کیا گیا تھا انکے حوالے کر کر دیا ، ان لوگوں نے حافظ عبداللہ کو اینٹیں اور پتھر مار مار کر ہلاک کر اسکے بعد انہوں نے حافظ عبداللہ کی لاش کو موٹر سائیکل کے ساتھ باندھ کر گھسیٹا اور بالآخر جلا ڈالا۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ  جمال لغاری جو کہ سینٹ کا میمبر تھا اسنے اسکی خبر سینٹ میں حکومت تک پہنچائی اور حکومت نے اس پر صرف ایک ہی ایکشن لیا کہ میڈیا کو یا میڈیا تک اس خبر کی تشہیر پر پابندی لگا دی ، یوٹیوب نے یہ ویڈیو اپنے پیغام کے ساتھ ہٹا دی ۔
The video has been removed as a violation of YouTube’s policy on shocking and disgusting content.
دعویٰ کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ اکاسی لوگوں کے خلاف اف آی آر درج کی جا چکی ہے جو کہ سب کے سب ایران بھاگ گئے ہیں ۔  اس واقعے  کی  خبر بالآخر اخبار کے چھوٹے چھوٹے حصوں میں  اکتوبر میں شائع ہوی یعنی تقریباً سات سے آٹھ مہینے بعد ، (لعنت ہے میڈیا والوں پر بھی ) امت کی اس پر رپورٹ یہاں دیکھی جا سکتی ہے ، اس واقعے کی تصویریں یہاں دیکھی جا سکتی ہیں اور کچھ ویڈیوز یہاں دیکھی جا سکتی ہیں ۔

کل حامد میر نے جنگ میں ایک مضمون لکھا ہے ، جس میں اسنے میڈیا  والوں کی شان میں زمین اور آسمان کے قلابے ملا دیے ہیں ، اسی میں اسنے میڈیا کی شان میں جو قصیدہ گایا ہے اس میں اس چیز کا بھی ذکر کیا ہے کہ میڈیا ہی نے سب سے پہلے سوات میں لڑکی کو کوڑے پڑنے والی ویڈیو جاری کی ۔ میں اس کی تفصیل میں نہیں جاتا ، بلکہ جاتے جاتے آپ لوگوں کے لیے سوال چھوڑ جاتا ہوں کہ جب یہ ثابت ہو چکا کہ وہ ویڈیو جعلی اور سٹوڈیو میڈ تھی اسکے بعد بھی حامد میر اتنی ہٹ دھرمی سے کیوں اسکو مییڈیا کی جھوٹی شان کے قصیدے میں شامل کر رہا ہے ۔ 

Sunday, June 12, 2011

رَن مُریدیت ۔۔۔ زنخار ٹھرکیوں کا مستقبل


رَن مُریدیت ۔۔۔ زنخار ٹھرکیوں کا مستقبل
ایک سالی لڑکی آدمی کو مرد سے ہجڑا بنا دیتی ہے صرف ایک سالی لڑکی ۔  اور ایسا آدمی پھر زندگی بھر کے لیے ایک رَن مرید بن کر رہ  جاتا ہے ۔ رَن مُرید کا شادی شُدہ ہونا ضروری نہیں ہے ۔ عظیم فلسفی و دانشور انکل ٹام نے جو رَن مُرید کی تعریف کی ہے اسکے مطابق کوی بھی ایسا شخص جس پر اقبال کے شعر کا آخری مصرعہ پورا  اترتا ہو کہ اسکے سر پر عورت ہے سوار ایسا شخص رَن مُریدوں کے زُمرے میں آتا ہے ۔ رَن مُرید صرف اور صرف ایک رَن مُرید ہوتا ہے اور مکمل مرد بھی نہیں ہوتا ، ایسی مخلوق زندہ و جاوید روبوٹ کی مثال پیش کرتا ہے ۔ ہمارے دوست و بزرگ چوہدری صاحب جو کہ خود ایک مکمل رَن مُرید ہیں، کا کہنا ہے کہ یونی میٹ نامی روبوٹ کو بنانے آئیڈیا جارج ڈیوئیل کو ایک رَن مُرید کو دیکھ کر ہی آیا تھا،  چوہدری صاحب نے مزید روشنی ڈالتے ہوے فرمایا کہ اسکے ہمسائے میں ایک عورت رہتی تھی جسنے شوہر کم اور رَن مُرید زیادہ رکھا ہوا تھا بس وہ انگلی سے اشارہ کرتی تو اسکا شوہر فوراً وہ کام کرنے لگتا ، اسکو کام کی تفصیل بھی بتانی نہ پڑتی تھی، بس اسی کو دیکھ کر جارج کے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ میں بھی ایک ایسی ہی مشین بناوں جو انسانوں کے اشارے پر اسکے کام کرے۔
 مرد کے لیے سر پر عورت کی سواری سے زیادہ بدترین چیز کوی نہ ہو گی، اسکی بنیادی وجہ یہ ہی بتائی جاتی ہے کہ اپنے سر پر انسان مستقل اگر اتنا بوجھ اُٹھاے تو اسکا دماغ اگر ختم نہ ہو تو اسکے پینچ پنجر ضرور ہِل جاتے ہیں۔ بٹ صاحب کہتے ہیں کہ یہ ہی مردوں میں رَن مُریدیت کا نقطہ آغاز ہے ۔ اسی لیے بٹ صاحب جو کہ دنیا میں نام کمانے کے واسطے اردو کی ایک ویب سائٹ بنا رہے ہیں "التعریفات" جس میں ہر چیز کی تعریف  (یعنی ڈیفینیشن)  ہو گی ،اس میں انہوں نے رَن مُریدیت کی تعریف کے تحت عظیم فلسفی و دانشور انکل ٹام سے منسوب رَن مریدیت کی تعریف کے متعلق  ایک قول نقل کیا ہے کہ
"عورت کو مستقلاً سر پر سوار رکھنے کی وجہ سے دِماغ کا کام کرنا بند کر دینا یا اُسکے پینچ اور نَٹ بولٹ کے اِدھر سے اُدھر ہو جانے کی وجہ سے وجود میں آنے والی مخلوق کو رَن مُرید کہا جاتا ہے"
 رَن مُریدیت کے نقطہ آغاز پر بحث کرتے ہوے عظیم فلسفی و دانشور انکل ٹام مزید فرماتے ہیں کہ
 "رَن مُرید وہ زنخار ٹھرکی ہوتے ہیں جو اپنی پسند کی شادی کروانے میں کامیاب رہتے ہیں، چونکہ انکو اپنے لڑکپن سے ہی عورتوں کی انگلیوں پر ناچنے کی عادت ہوتی ہے اسی لیے یہ مستقبل میں بڈھے ٹھرکی بننے کی بجائے رَن مُرید بن جاتے ہیں۔"
ہمارے چوہدری صاحب رَن مُریدوں کو بڈھے ٹھرکیوں سے زیادہ مظلوم سمجھتے ہیں، اسکی وجہ یہ ہے کہ نہ تو انکو بیوی کی محبت ملتی ہے نہ ہی بڈھے ٹھرکیوں کی طرح اِدھر اُدھر بنٹنے والی محبت سمیٹ سکتے ہیں۔چوہدری صاحب نے مزید خیالات کا اظہار کیا کہ سجاد علی کا گانا "پیار کہاں بکتا ہے پتا بتا دو"بھی کسی رَن مُرید دوست کی فرمائش پر تھااسی لیے اس میں پیار کے بکنے کی بات کی گئی تھی کیونکہ اکثیرت رَن مریدوں کی بیویاں انکے ساتھ بھی میاں بیوی سے زیادہ کاروباری پارٹنر شپ کا تعلق رکھتی ہیں۔
رَن مُریدوں کی نفسیات کے بارے میں ہمارے عظیم ماہرِ نفسیات انکل ٹام کا فرمانا ہے کہ 
"رَن مُرید اپنی  بیویوں سے اسی طرح ڈرتے ہیں جس طرح کوی مومن بندہ اللہ سے ڈرتا ہے ، بیوی سے ڈرنے کی وجہ سے رَن مُریدوں میں ایسا ہجڑا پن پیدا ہو جاتا ہے کہ پھر وہ ہر کسی عورت سے ڈرتاہے ۔ لہٰذا کوی بھی عورت  کہیں بھی کیسی بھی اور کسی بھی صورت حال میں ہو ،اسکی مدد کرنا رَن مُرید کے لیے ہر فرض سے اہم فرض ہے ۔"
عظیم ماہرِ نفسیات انکل ٹام نے رَن مُریدیوں کی نفسیات پر روشنی ڈالتے ہوے مزید فرمایا کہ
  " رَ ن مُرید چونکہ خود ایک بہت مظلوم انسان ہوتا ہے اسی لیے وہ اپنے جیسے دیگر رَن مُریدوں کو بھی مظلوم سمجھتا ہے ، اسی لیے رَن مُرید کی دوستی صرف  اپنے جیسے رَن مُریدوں سے ہوتی ہے ، اسکے علاوہ بڈھے ٹھرکیوں سے کہ وہ اسکو زمانہ زنخار ٹھرکیت کی یاد دلاتے ہیں ، اور عورتوں سے کہ انسے دوستی کرنا اسکی رَن مُریدیت کے لیے نہایت ضروری ہے"
رَن مُرید ان تمام وجوہات کی بنا پر عام لوگوں سے جنکا بیویوں کے ساتھ رَن مُریدی کی بجاے محبت کا رشتہ ہوتا ہے بہت جلتے ہیں،ایسی جلن میں یہ جہاں موقعہ ملا ان کے ساتھ پھڈا کرنا اور اپنے سینگ پھسانے پر محنت کرتے ہیں۔
بلاگی دنیا کے رَن مُرید
رَن مُرید بلاگی دنیا میں بھی محدود تعداد میں پائے جاتے ہیں،یہ اکثر روشن خیال آنٹیوں کے بلاگوں پر اپنی باسی بیویوں کا حکم پورا کرتے پاے جاتے ہیں۔مولوی نما بلاگروں کے بلاگز پر انکی یہ ڈیوٹی ہوتی ہے کہ کہیں بھی کسی بھی آنٹی کے خلاف کچھ لکھا نظر آے تو وہاں حملہ کرنا، نام بدل بدل کر گالیاں نکالنا ، اور پھر جھوٹی اخلاقیات کے وعظ و دروس کرنا ۔بلاگی دوستوں کو انسے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنے بلاگ پر کبھی انکا تبصرہ شائع نہ کریں کیونکہ آپکو بلاگ پر بھی مہنگے پرفیوم کا سپرے کرنا پڑے گا اور کسی دوسرے بلاگ میں اگر انکا تبصرہ نظر آجاے تو انسے الجھنے سے حتیٰ الامکان گریز کریں۔

  

Saturday, June 11, 2011

دنیا بڑی کتی چیز ہے

دنیا بڑی کتی چیز ہے
دنیا بہت کُتی چیز ہے جی ، ہر ایک یہاں کسی نہ کسی ایسے انسان، ایسی چیز یا ایسے واقعہ کی تلاش میں رہتا ہے جسکو وہ اپنی شہرت، اپنی بڑای وغیرہ کے لیے استعمال کر سکے ۔

اب کیا ہی کہوں لوگ انسانوں کے بیہیمانہ قتل کو بھی اپنے بلاگ کی شہرت بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، حالانکہ یہ واضح بات ہے کہ کوی بھی انسان کتنا ہی سنگ دل کیوں نہ ہو جائے ایسے بیہیمانہ قتل کو اپنے لیے استعمال نہیں کر سکتا ۔ لیکن کچھ بلاگر ایسے ہیں کہ چونکہ قتل کراچی میں ہوا ہے انہوں نے فوراً لسانیات اور نسلیات کو بنیاد بنا کر پوسٹ مار دی ۔ سارے پنچابیوں بلچیوں اور غیرانِ کراچیوں کو لتاڑ دیا ۔

بس اور کیا چاہیے تھا سارے مولوی نما مخالف انکے بلاگ پر ٹریف بڑھ گئ اور ایک الگ سے سارجنٹ کھڑا کرنا پڑا ۔ اب کچھ دن تک انکا بلاگ پھر سنسان گھاٹ کا منظر پیش کرے گا اور پھر ایک قتل ہو گا اور پھر پنجابیوں ، بلوچیوں ، کشمیریوں اور پٹھانوں کو لتاڑا جاے گا ۔

میں کچھ دن پہلے اس بلاگ کے پوسٹنگ پیٹرن پر غور کر رہا تھا تو ایک عجیب چیز پتا چلی کی ہر دو پوسٹ کے بعد تیسری پوسٹ میں کسی نہ کسی گروہ کو بحث کی دعوت دی گئی ہوتی ہے ۔ میرے خیال سے دیگر بلاگرانِ اردو کے لیے یہ ایک اچھا سبق ہے بلکہ میں اس بلاگ کو چلانے والے انسان سے درخواست  کروں گا کہ ایک پوسٹ  بنام بلاگ پر ٹریفک بڑھانے کے ایک سو ایک طریقے چھاپ دیں تو دیگر کا بھی فائدہ ہو جاے گا ۔ لیکن شاید ایسی پوسٹ نہ آے کیونکہ پھر اپنے بلاگ پر ٹریفک کے کم ہونے کا خطرہ ہو گا ۔


بہرحال جی ہر روز کوی نہ کوی ایسی کہانی ہوتی ہے کہ دل گنجان ہو جاتا ہے ، مَنا کہتا ہے کہ ان چیزوں سے بچنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو مصروف کر لے اور اپنے لیے ڈِسٹریکشن پیدا کر لے اور پھر اسی کے مشورے پر میں ایک سفرنامہ سپین مسصتنصر حسین صاحب کا اور ایک کتاب سعادت حسن منٹو کی بھی اٹھا لایا ، کتاب تو جی وہاں ایک اے حمید کی بھی تھی لیکن وہ کچھ زیادہ ہی آہو آہو جی میں تو بڑا ہی حیران ہوا کہ ان رائٹرز کو بھی بڑا اردو دان جانا جاتا ہے تو پھر لوگ امام دین 
گجراتی سے کیوں اتنا ڈرتے ہیں ۔

چلیں جی اب کیا بات کروں کہ موضوع ادھر سے ادھر ہونے لگا  لیکن میں لعنت بھیجتا ہوں ایسے لوگوں پر جو اس قسم کی واردات کو لسانیات کا موضوع بنا کر اپنی جماعت کی بڑائی کریں اور دوسروں کو لتاڑیں۔