Saturday, June 11, 2011

دنیا بڑی کتی چیز ہے

دنیا بڑی کتی چیز ہے
دنیا بہت کُتی چیز ہے جی ، ہر ایک یہاں کسی نہ کسی ایسے انسان، ایسی چیز یا ایسے واقعہ کی تلاش میں رہتا ہے جسکو وہ اپنی شہرت، اپنی بڑای وغیرہ کے لیے استعمال کر سکے ۔

اب کیا ہی کہوں لوگ انسانوں کے بیہیمانہ قتل کو بھی اپنے بلاگ کی شہرت بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، حالانکہ یہ واضح بات ہے کہ کوی بھی انسان کتنا ہی سنگ دل کیوں نہ ہو جائے ایسے بیہیمانہ قتل کو اپنے لیے استعمال نہیں کر سکتا ۔ لیکن کچھ بلاگر ایسے ہیں کہ چونکہ قتل کراچی میں ہوا ہے انہوں نے فوراً لسانیات اور نسلیات کو بنیاد بنا کر پوسٹ مار دی ۔ سارے پنچابیوں بلچیوں اور غیرانِ کراچیوں کو لتاڑ دیا ۔

بس اور کیا چاہیے تھا سارے مولوی نما مخالف انکے بلاگ پر ٹریف بڑھ گئ اور ایک الگ سے سارجنٹ کھڑا کرنا پڑا ۔ اب کچھ دن تک انکا بلاگ پھر سنسان گھاٹ کا منظر پیش کرے گا اور پھر ایک قتل ہو گا اور پھر پنجابیوں ، بلوچیوں ، کشمیریوں اور پٹھانوں کو لتاڑا جاے گا ۔

میں کچھ دن پہلے اس بلاگ کے پوسٹنگ پیٹرن پر غور کر رہا تھا تو ایک عجیب چیز پتا چلی کی ہر دو پوسٹ کے بعد تیسری پوسٹ میں کسی نہ کسی گروہ کو بحث کی دعوت دی گئی ہوتی ہے ۔ میرے خیال سے دیگر بلاگرانِ اردو کے لیے یہ ایک اچھا سبق ہے بلکہ میں اس بلاگ کو چلانے والے انسان سے درخواست  کروں گا کہ ایک پوسٹ  بنام بلاگ پر ٹریفک بڑھانے کے ایک سو ایک طریقے چھاپ دیں تو دیگر کا بھی فائدہ ہو جاے گا ۔ لیکن شاید ایسی پوسٹ نہ آے کیونکہ پھر اپنے بلاگ پر ٹریفک کے کم ہونے کا خطرہ ہو گا ۔


بہرحال جی ہر روز کوی نہ کوی ایسی کہانی ہوتی ہے کہ دل گنجان ہو جاتا ہے ، مَنا کہتا ہے کہ ان چیزوں سے بچنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو مصروف کر لے اور اپنے لیے ڈِسٹریکشن پیدا کر لے اور پھر اسی کے مشورے پر میں ایک سفرنامہ سپین مسصتنصر حسین صاحب کا اور ایک کتاب سعادت حسن منٹو کی بھی اٹھا لایا ، کتاب تو جی وہاں ایک اے حمید کی بھی تھی لیکن وہ کچھ زیادہ ہی آہو آہو جی میں تو بڑا ہی حیران ہوا کہ ان رائٹرز کو بھی بڑا اردو دان جانا جاتا ہے تو پھر لوگ امام دین 
گجراتی سے کیوں اتنا ڈرتے ہیں ۔

چلیں جی اب کیا بات کروں کہ موضوع ادھر سے ادھر ہونے لگا  لیکن میں لعنت بھیجتا ہوں ایسے لوگوں پر جو اس قسم کی واردات کو لسانیات کا موضوع بنا کر اپنی جماعت کی بڑائی کریں اور دوسروں کو لتاڑیں۔  

38 comments:

  1. "میں تو بڑا ہی حیران ہوا کہ ان رائٹرز کو بھی بڑا اردو دان جانا جاتا ہے تو پھر لوگ امام دین گجراتی سے کیوں اتنا ڈرتے ہیں" زبردست.
    ایک مرتبہ سکول میں غالبا کسی سبجیکٹ میں ٹاپ کرنے پر اے حمید کی ایک کتاب گفٹ میں ملی تھی اور وہی آہو آہو :). بندہ گھر والوں کو بتا بھی نہیں‌ سکتا کہ پوزیشن آنے پر یہ تحفہ ملا ہے. بہرحال مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے، مجبوری میں چھپ کر پڑھنی پڑ گئی، اور پڑھنے کے بعد ایک کلاس فیلو کو ھدیہ کر دی گئی.

    ReplyDelete
  2. بعض لوگ ذہنی مریض ہوتے ہیں بھائی جو ہر ایسے موقع کو اپنی تیزابی نظریات کے پرچار کے لیے استعمال کرنے سے نہیں چوکتے۔۔۔۔

    لوگ کہتے ہیں کہ کہتے ہیں کہ ہم بھائی لوگوں کے حوالے سے کسی خبر پر جب موقع ملے پوسٹ مارتے ہیں تو یار موقع تو اچھا ہے۔ ابھی تک ان میں سے کسی کنجر نے اس واقعے کی کھلے الفاظ میں مذمت نہیں کی۔
    :D

    ReplyDelete
  3. بابا جی سے لےکر جتنے یہاں تعصب تعصب کی ڈگڈگی پیٹ رہے ہیں،
    دراصل اپنا تعصب چھپانے کی کوشش کررہے ہیں،یہ سب اس وقت تک خاموش بیٹھے رہے جب تک یہ مرنے والے کو بلوچی یا اردو اسپیکنگ سمجھ رہے تھے مگر جیسے ہی انہیں پتہ چلا کہ مرنے والے کا تعلق کشمیر سے ہے،
    ان کے بین شروع ہوگئے!
    رہے افتخار اجمل ، تو یہ بندہ ہر بات میں لاہور پنجاب اٹھا لاتا ہے،
    اور جہاں موقع ملے کراچی والوں کو ذلیل کرنے اور نیچا دکھانے کی کوشش کرتا ہے،
    پتہ نہیں اس کو کراچی والوں سے کیا بغض ہے،
    اپنی پوسٹ وطن معاشرہ اور دہشت گردی میں لکھتا ہے،

    کراچی کے پُر رونق علاقہ ميں ايک نوجوان کو عوام کے محافظين نے نہائت سفّاکی کے ساتھ قتل کر ديا ۔ ميں سوچتا ہوں کہ کلفٹن کا علاقہ جہاں آدھی رات تک گہما گہمی رہتی ہے وہاں مقتول ۔ 6 وردی والوں اور دلير کيمرہ والے کے علاوہ کوئی انسان موجود نہ تھا کہ اس بے بس نوجوان کی جان بچانے کی کوشش کرتا ؟ کيا ميرے سب ہموطن اپنے جسم کے علاوہ کچھ اور سوچنے کے اہل نہيں رہے ؟ اس لحاظ سے تو لاہوری قابلِ تحسين ہيں کہ اُنہوں نے ريمنڈ ڈيوس کو گھير کر پوليس کے حوالے کر ديا تھا ورنہ وہ دو جوانوں کو ہلاک کرنے کے بعد بھاگ گيا ہوتا

    عام کراچی والے جانتے ہیں کہ اگر وہ مداخلت کرتے تو ڈاکوؤں کی تعداد ایک سے زیادہ ہوجاتی،اور رینجرز کی واہ واہ میں مزید اضافہ،
    اور انکو شائد علم نہیں کہ کلفٹن میں پنجابیوں کی اکثریت ہے،ورنہ شائڈ الفاظ کچھ اور ہوتے!
    یہ تو کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس واقعے کی وڈیو بن رہی ہے رینجرز بھی نہیں کیونکہ وہاں کچھ فاصلے پرکسی اور پروگرام کی ریکارڈنگ چل رہی تھی اور ٹی ؤی کے کیمرے اتنے پاور فل ہوتے ہیں کہ دور سے بھی کسی چیز کو صاف ریکارڈ کرسکتے ہیں،
    رہی لاہوریوں کی حب الوطنی کی بات تو یہ دو ایجینسیوں کی لڑائی تھی ،جس میں ایک نے دوسرے کومات دینے کی کوشش کی!
    لاہوری اربوں روپوں کا کاروبار روزانہ کرتے ہیں اور ٹیکس کے نام پر لاکھوں دیتے بھی مصیبت پڑتی ہے،ایسی ہوتی ہے حب الوطنی؟؟؟؟؟

    اور ان کی اس قتل پر تکلیف کی شدت کا یہ عالم ہے کہاسی واقعے کے حوالے سے ایک خوامخواہ جاپا نی کے ذہریلے پوسٹ پر ،
    خوش دلی سے تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں،
    افتخار اجمل بھوپال کا کہنا ہے:
    جون ۱۰ ، ۲۰۱۱ at ۱۲:۵۶ شام
    بھا جی ۔ اے ظلم نہ کرو ۔ ٹکا ٹک کراچی والياں دا مرغوب کھانا نئيں اے ۔ لاہور لکشمی چوک دا مشہور کھانا اے

    جیسے اگر اس اہم بات کی وضاحت نہ ہوتی تو پتہ نہیں کونسا غضب ہوجاتا !

    اور اب آپ کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے بھی انہوں نے اپنا اصلی رنگ دکھانا بے حد ضروری سمجھا!
    جاوید ہاشمی اور حامد میر تو ان کی ایجینسیوں کے ظلم سہے ہوئے لوگ ہیں ،
    انہیں اپنے جیسا گندہ پنجابی،اور جاگیر دار وڈیرے کی گالی دینے کی ضرورت نہیں ،
    وہ ہم میں سے ہیں اور ہم اپنوں کو اچھی طرح پہچانتے اور ان کی قدر کرتے ہیں،
    رہی خوش بخت کے نہ رونے کی بات تو کون جانے وہ گھر سے کتنے آنسو بہا کر نکلی ہو،
    یوں بھی ہم کراچی والوں کے آنسو تو ا ن مظالم پر اتنے بہے ہیں کہ اب خشک ہی ہوگئے ،
    اب ہماری آنکھیں نہیں ہمارا پورا وجود روتا ہے ،جو ظالموں کو نظر نہیں آتا!
    ساٹھ سال سے ہم سمیت پورا پاکستان ان ایجینسیوں،فوج اور پولس کے ظلم سہتا رہا ہے،اوریہ ان مظالم پر ڈگڈگیاں بجاتے رہے ہیں،
    اور مارو اور مارو کی صدائیں لگاتے رہے ہیں،
    ہمیں چوستے رہے ہیں ہمارے ٹیکسوں پر عیاشیاں کرتے رہے ہیں
    یہ سب جو آج کراچی اور کراچی والوں کے ہمدرد بنے بیٹھے ہیں۔

    Abdullah

    ReplyDelete
  4. یہ جتنے زہنی مریض ہیں یہ سب اپنے باپوں کے یا استادوں کے مظالم کا شکار لوگ ہیں،
    ایسے مردوں کی بیویاں بھی ذہنی مریضائیں بن جاتی ہیں ،جو بچوں کے لیئے مرے پر سو درے ثابت ہوتے ہیں!

    Abdullah

    ReplyDelete
  5. عبداللہ تم نے صحیح نشاندہی کی ہے ، تم اور تمہارے یار دوست سارے کے سارے اپنے باپوں کے اور استادوں کے اور ہو سکتا ہے کسی دو نمبر مولوی کے بھی ظلم کا زبردست شکار ہیں ، اسی لیے تم لوگوں کی بیویاں بھی ذہنی مریضائیں بن چکی ہیں ۔۔۔ میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ تمہارے لیے کسی اچھے سے ماہرِ نفسیات کا بندوبست کریں جو تم لوگوں کا علاج مفت میں کرے ۔

    اور یہ بات ہم بھی جانتے ہیں کہ کراچی میں پنجابی ، سندھی بلوچی وغیرہ سب بستے ہیں اور اجمل چاچا نے سب کو بیچ میں لتاڑا ہے ، ہمیں تو انکے الفاظوں میں صرف اردو والے نظر نہیں آرہے ۔۔۔ تمہاری باتوں سے پتا چلتا ہے کہ چور کی داڑھی مین تنکا ہے ۔

    اسی سے تمہاری سوچ میں گندے نالے کا پتا چلتا ہے ۔

    میں آگے ہی تین چار واقعات کیو جہ سے بھرا بیٹھا ہوں اسی لیے میرے بلاگ پر یا کہیں اور بھی آئیندہ پوسٹ کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچنا ورنہ جب تم نے پچھلی دفعہ اجمل چاچا کے بارے میں بکواس کی تھی تو میں نے پوسٹ لکھی تھی کہیں اس دفعہ اس سے بھی برا نہ ہو ۔

    ReplyDelete
  6. فکر نہ کرو تم سب کو تمھارے برے کرتوتوں کی سزائیں مل رہی ہیں اورآگے بھی ملیں گی!
    تم جیسے غلیظ لوگوں سے برائی کے علاوہ اور کس بات کی توقع کی جاسکتی ہے،اجمل چاچا کے بھتیجے!!!

    Abdullah

    ReplyDelete
  7. کاکے شانے اللہ اپنے بندوں پر آزمائیشیں لاتا ہے ، اور مسلمانوں پر آزمائیشوں کی تاریخ میں بہت سی مثالیں موجود ہیں ، حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کا پیٹ پر پتھر باندھنا، طائف میں پتھر سے لہو لہان ہو جانا ۔ لیکن اس سب کے بعد فتح مکہ ۔۔۔

    ReplyDelete
  8. اللہ ہم سب پر رحم کرے

    ReplyDelete
  9. انکل ٹوم
    عبد اللہ بیچارے کو ڈانٹنا چھوڑ دیں۔
    یہ بیچارہ باپ کا ڈسا ہے۔
    بعض لوگ قابل ترس ہوتے ہیں۔
    یہ ان میں سے ہے

    ReplyDelete
  10. اوئے۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ کیا؟

    کیا یہ وہی تو نہیں جسے اسکا مظلوم ابا ڈھونڈتا پھرتا ہے۔ ویسے اس کے ابا نے نے بھہر بھی اسکا لحاظ کیا ہے یہ تو اس بڑھ کر ناخلف اور بے غیرت ہے۔

    اور ایک اور بات۔ ۔ ۔ دوسروں کے نام سے گالیاں دینا بھی اسی کا کروبار ہے۔

    جہاں تک اسکی باجی کی بات ہے ۔ تو وہ ایک ہی چکاری مارتی ہیں اور بندہ زبان سے چپکا سیدھا اندر۔۔۔ باقی کام رگوں میں دوڑتا اور منہ میں بھرا تیزاب پورا کر دیتا ہے۔

    اللہ رے تیری پارسائی کے دعوے۔ بوری بند مافیا ٹریڈ مافیا آف کراچی کے چیلے۔

    ReplyDelete
  11. لو جی بغل میں چھورا اور پورے بلاگستان میں ڈھنڈورا، ابوعبداللہ کو خبر کرے کوئی کہ تیرا لخت جگر ادھر پھر رہا ہے۔۔۔۔۔

    ویسے یہ بڑا ہی ڈھیٹ اور بے غیرت ہے۔ ہر جگہ سے مارکھاتا ہے لیکن اس کی مستقل مزاجی دیکھیں کہ گھستا ضرور ہے دوبارا منہ پہ گھونسا کھانے کے لیے بھائی اور چاچی ہندہ کے غم میں۔

    یہ غلیظ خیال باراسنگھا پہلے ایم کیو ایم کے حوالے سے وکی لیکس کی لیک کو تسلیم نہیں کررہا تھا کہ ایسی کوئی خبر نہیں پھر جب اس کنجر کو خود اس کے ہی لنک میں سے خبر نکال کر دی گئی تو اس ملعون کا سانپ سونگھ گیا۔ اگر غیرت مند ہوتا تو پتلی گلی سے نکل لیتا لیکن اس کے باوجود دوسروں کے بارے میں ہانکے لگا۔ ویسے بھی ان بے غیرت بریگیڈ والوں کے پاس غیرت کا کیا کام؟ ;)

    صاحبو اب آپ اس کے اوپر کاپی پیسٹ کیے گئے تبصرے کوہی دیکھ لیں۔ جن کے غم میں یہ پاگل ہوکر بھونکتا پھرتا ہے وہ حامد میر کو دہشت گردوں کا ساتھی بتاتے ہیں۔ ان کی اس پوسٹ پر باراسنگھا بھی خوب بھونک رہا تھا۔ لیکن یہاں اسے حامد میر اپنا اپنا لگ رہا ہے۔ یہ کم بخت اپنے لندن والے بھائی پر گئے ہیں۔ پل میں تولہ، پل میں ماشہ۔۔۔۔
    لنک یہ رہا۔۔۔۔
    http://anqasha.blogspot.com/2010/05/blog-post_15.html

    ReplyDelete
  12. عبداللہ۔۔۔ کس چیز کا بدلہ ہے رہا ہے تو ہم سے۔۔۔ بیٹا کیا قصور ہے ان بلاگروں کا جہاں تو اپنا گند بکھیر رہا ہے۔۔۔

    آج میں اعلان کرتا ہوں کہ میں سب کو اجازت دیتا ہوں کہ عبداللہ جہاں ملے، اس کو سو لتر مارے جائیں، اور وہ بھی کھوتا بنا کر۔۔۔ اور اگر لتر سے بھی نا سمجھے تو ڈنڈے پر تیل اور مرچیں لگا کر "جو کرنا ہے کر لیں"۔۔۔ میری آنکھوں سے ایک قطرہ بھی نہیں گرے گا اپنے بیٹے کے لیے۔۔۔

    انکل ٹام۔۔۔ پہلے میں شرمندہ تھا عبداللہ کی حرکات کی وجہ سے۔۔۔ لیکن جب اس نے دیگر بلاگز پر مجھے ہی یعنی اپنے باپ کو ہی گالیاں دینی شروع کر دیں تو پھر کاہے کا باپ۔۔۔ اس کے ساتھ جتنی پیڑی کر سکتے ہو کرو۔۔۔ یہ کتے کی دم ہے۔۔۔ سیدھا نہیں ہوگا۔۔۔ اس لیے چھتر مارتے رہو۔۔۔ اور ثواب کماتے رہو۔۔۔

    ابو عبداللہ

    ReplyDelete
  13. خچر خومخواہ،
    گوندل گند،
    کنجر اعظم،(میں یہ لفظ استعمال نہ کرتا مگر تم نےپہلے کہہ کر مجھے اجازت دی)
    اور ہر کسی کا باپ بننے کا شوقین پنجابی عرف عمران کمینہ،
    تم سب کو مبارک ہو،دنیا کے سب سے خبیث انسان بننے کا ایوارڈ!!!!!

    Abdullah

    ReplyDelete
  14. اللہ سب پر اپنا کرم کرے
    ايک بات سکول کے زمانہ کی ياد آئی ۔ ايک بزرگ نے بتايا کہ جس شخص کو کوئی گالی ديتا ہے تو اس کی کوئی نا کوئی غلطی اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی معاف فرماتے ہيں اور گالی دينے والے کا ايک گناہ فرشتے لکھ ليتے ہيں ۔ اس لئے اس عبداللہ نام شخص کو اس کے حال پر چھوڑ ديں اور شر سے اللہ کی پناہ مانگتے رہا کريں

    ReplyDelete
  15. عبداللہ۔۔۔ تو مر کیوں نہیں جاتا۔۔۔ کیوں شریف لوگوں کو رسوا کر رہا ہے۔۔۔ سچ سچ بتا کہ بھیا جی نے تجھے کیا کھلایا ہے جو تیرے پاس دید لحاظ بھی نہیں کسی سے بات کرنے کا۔۔۔ کچھ تو عقل کر پتر۔۔۔ تیرا باپ بھی پنجابی ہے۔۔۔ لیکن تجھے تو باپ کی عزت نہیں تو پنجابی کی کیا کرے گا۔۔۔
    میرے باقی بلاگر بیٹو۔۔۔ مارو اس کتے کو۔۔۔
    ابو عبداللہ

    ReplyDelete
  16. @افتخار اجمل،
    بڑے میاں جب یہ آپ کے چیلے چانٹے اپنے اندر کی غلاظت اگل رہے ہوتے ہیں اس وقت آپکو کوئی نصیحت یاد کیوں نہیں آتی؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

    Abdullah

    ReplyDelete
  17. چھوٹے میاں عرف عبداللہ۔۔۔ انسان دا پتر بن۔۔۔ ورنہ تیری بینڈ پہلے ہی بج رہی ہے۔۔۔ اور بجا دیں گے۔۔۔ سمجھا کیا۔۔۔

    ReplyDelete
  18. ابوعبداللہJune 12, 2011 at 3:53 AM

    عمران صاحب میں اس ابھاگن کے تبصرے پر آپ سے معافی کا طلبگار ہوں۔ آپ کا تو پتہ نہیں لیکن میں ہر کسی کا باپ نہیں۔ غلطی صرف ایک بار ہوئی کہ اتنے سارے لوگوں کے بقول بارا سنگھا جنوادیا۔ مجھے اس بھانک جرم کی پاداش میں بھلے سولی چڑھا دو لیکن مجھے معاف ضرور کردو۔ روز محشر اپنے رب کو کیا منہ دکھائونگا کہ ایک ہی انڈہ اور وہ بھی گندا۔

    ReplyDelete
  19. یہ کیا عبداللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم کیا سبکو اپنا ابا سمجھ کر بات کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ تم تو مکھی گدھے والی وہ لائن پڑھو جس میں اسکو خود شک ہے کہ جسکو اسکی اماں نے اسکا ابا بتایا ۔۔۔۔ وہ سچ ہے یا جھوٹ :))

    ہونے والا ابا :))

    ReplyDelete
  20. ہاہاہاہا، ہر کسی باپ۔۔۔۔۔یار عمران آپ نے بتایا ہی نہیں کہ باراسنگھے کا جنم آپ کے مرہون منت ہے۔۔۔D:

    ReplyDelete
  21. @عمران اقبال ،
    تم کیاکسی کی بینڈ بجاؤ،تم سے تو اپنی ہی بانسری نہیں سنبھالی جاتی،
    اچھا ہے اور زیادہ گند گھولو ،تاکہ جن لوگوں کو تمھارے اور تمھاری چنڈال چوکڑی کے شریف انسان ہونے کے بارے میں کچھ تھوڑی بہت غلط فہمی ہے وہ بھی دور ہوجائے!!!

    اللہ اسلام اور مسلمانوں کو تم لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے آمین

    Abdullah

    ReplyDelete
  22. بھائیو۔۔۔اس بیچارے بارہ سنگھے کے ساتھ واقعی ظلم ہوا۔
    ابا بیچارے کا پنجابی تھا جس نے اسے اور اس کی والدہ محترمہ کو پھینک دیا۔پٹھانوں نے جو کچھ کیا۔وہ اس کے اپنے الفاظ میں میرے بلاگ پر پڑھ لیں۔
    بلوچیوں اور سندھیوں نے بھی کچھ ظلم ہی کیا ہوگا۔
    اور سب سے زیادہ تو ہمارے پاکستان کے قابل احترام کراچی کے اردو سپیکر جو پڑھا لکھا طبقہ ہونے کی وجہ سے دوسرے پاکستانیوں میں سب سے اعلی اخلاق اور تعلیم یافتہ ہیں انہوں نے بھی کوئی ظلم ہی کیا ہوگا۔
    اس لئے بیچارے کو معاف کردو۔

    ReplyDelete
  23. جو کچھ اپنے بلاگ پر میرے نام سے اس خچر نے لکھا ہے وہ دراصل اس خچر کی آپ بیتی ہے،
    اور خچر تو سب جانتے ہی ہیں کس طرح پروڈیوس ہوتا ہے،
    تو یہ ذرا وکھری قسم کا خچر ہے،
    اس لیئے اپنے دونوں باپوں کا ذکر کرتا رہتا ہے ،
    مگر مارے شرمندگی کے اپنا نام نہیں لیتا دوسرے شرفا کو بدنام کرتا رہتا ہے،
    شریف لوگ اس خچر نما سے ہوشیار رہیں،
    اطلاع عام!!!!

    Abdullah

    ReplyDelete
  24. ابے بھونکے تو اطلاع عام نہیں کہتے نطفہ مشکوکہ۔ سالے کہہ کر اور لکھ کر مکر جانا تم جیسے پنجابی پٹھان مکس کا ٹریڈ مارک ہے۔

    اوئے ابو عبداللہ اسے لے جا اور جاکر اپنی بیوی کے حوالے کر کے اسے اس کے اصلی باپ تک پہچا آئے۔۔۔۔
    D:

    ReplyDelete
  25. ک،ن،ج،ر،ا،ع،ظ،م
    تمھارا اصل نام
    میں بار بار لے کر اپنی زبان گندی نہیں کرنا چاہتا
    تیری اپنی زبان توہے ہی غلیظ،دوسروں کو تہذیب کی نصیحت کرنے والے
    ویب منتظم اصلی چمار،
    کیوں بار بار بھونک کر ہم کوبھی گناہ گار کرتا ہے بد بخت!!!!
    مرچیں تو تجھے ایسے لگ رہی ہیں جیسے تو اور خچر جاپانی ایک ہی نطفہ ہیں!!!!!

    ہو بھی سکتے ہیں دونوں ایک جیسے غلیظ اور گھٹیا ہیں اور دونوں ہی کو بات بے بات بھونکنے کی بیماری ہے!!!!!

    Abdullah

    ReplyDelete
  26. اپنے باپ کا نام خوب یاد رکھا ہے تو نے۔۔۔۔
    اب میں تیرے لیے کا زبان گندی کروں، چوہڑے چمار سالے اپنے باپ پر بھونک رہا ہے۔ ;)

    چل اور بھونک۔ باپ کی تربیت کا اثر ہے یا بھائی کی ___ بازی کا؟ یارو ابوعبداللہ سے پوچھو کے بیگم کدھر سے لے کر آیا تھا۔ گندی چیز کا گندا ہی اثر ہونا ہے۔۔۔
    D:

    ReplyDelete
  27. اور کچھ پتا چلا نہ چلا یہ ضرور پتا چل گیا کہ نام بدل کر بکواسی گالیاں دینا عبداللہ صاحب کا ہی کام ہے

    ReplyDelete
  28. میں تم بزدلوں کی طرح نام بدل بدل کوئی کام نہیں کرتا،
    جوکرتا ہوں ڈنکے کی چوٹ پر کرتا ہوں،
    تم تو ایسے معصوم بن رہے ہو جیسے ان خبیثوں کی لکھی ہوئی گالیاں تمھارےاندھی آنکھوں کو نظر ہی نہیں آرہیں؟؟؟
    جو بھی سیکھا ہے تم سے اور تمھارے بھائی بندوں سے ہی سیکھا ہے اور اب ان ہی پر آزما رہا ہوں کیونکہ گالیوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے،
    شرفاء کی عزت اچھالنا جن کمینوں کا شیوہ ہو ان کے لیئے یہ گالیاں جو میں نے لکھی ہیں،بہت ہی کم اور نہ ہونے کے برابر ہیں!!!!!
    مگر کیا کروں میں ان نیچ لوگوں کی نیچ ذہنیت کی برابری نہیں سکتا!!!!
    یہ تو نیچ پن میں پی ایچ ڈی ہیں!!!!!

    Abdullah

    ReplyDelete
  29. عبداللہ یہ بات تو میں نے اس پر حیران ہو کر لکھی تھی کہ نام بدل کر گالیاں دینے والے کے انداز اور طریقہ تمہارے انداز اور طریقہ جیسا ہی ہے مکمل طور پر ۔

    ReplyDelete
  30. پھر تو تمھیں آنکھوں کے ساتھ ساتھ اپنے دماغ کا بھی علاج کروانا چاہیئے!!!!!

    Abdullah

    ReplyDelete
  31. کاکے صحیح کہہ رہا تو، یہ کتے کا پلا آج پکڑا گیا کہ الٹے سیدھے ناموں سے آنے والی گالیاں یہ کنجر ہی دیتا ہے۔۔۔ اس کی معصومیت تو دیکھو کہتا ہے کہ گالیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بھائی کی صحبت میں جس ماحول میں رہتا ہے وہاں گالیاں تو معیوب نہیں سمجھی جاتی ہونگی۔۔۔۔
    ;)

    ReplyDelete
  32. وقار بھائی۔۔۔ میرا عبداللہ جیسا بیٹا ہوتا۔۔۔ تو میں اس کے ےپیدا ہوتے ہی مار دیتا۔۔۔ اتنا کمینہ بندہ، جو اپنے باپ کے بارے میں اتنی غلیظ زبان استعمال کر رہا ہے اس سے اور توقع کیا کی جا سکتی ہے۔۔۔ ابوعبداللہ بے چارہ صحیح کہتا ہے کہ اس سے غلطی ہو گئی کے بارہ سنگھا جن دیا۔۔۔ ابھی تو ابوعبداللہ سامنے آیا ہے۔۔۔ جب ام عبداللہ سامنے آئے گی تو پتا نہیں اس بے چاری کے کیا کیا رونے ہوں گے۔۔۔ مجھے تو رحم آ رہا ہے دونوں ماں باپ پر۔۔۔ لعنت ہے ایسے کنجر پر۔۔۔

    ReplyDelete
  33. خالد حمیدJune 13, 2011 at 1:48 AM

    اللہ رحم کرے۔
    کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے، کیا کہنا چاہئیے،
    اگر آپ سب لوگ تہذیب اختیار کریں تو اچھا ہوگا،
    اور برائی کہنے سے برائی پھیلتی ہے۔
    کچھ تو شرم و حیا کریں،

    ReplyDelete
  34. جو اختلاف رائے پر گندی گالیاں دیں اور دوسروں کے ماں باپ تک پہنچ جانے میں دیر نہ لگائیں ،ان سے آپ شرافت کی امید رکھتے ہیں؟؟؟؟؟

    Abdullah

    ReplyDelete
  35. گالیاں تو تم دے رہے ہو عبداللہ۔۔۔ ہم نے تو صرف جواب دیا ہے۔۔۔

    دوسروں کے ماں باپ پر بات بھی تم نے شروع کی۔۔۔ ہم نے یہاں بھی صرف تمہارا جواب ہی دیا ہے۔۔۔

    ReplyDelete
  36. تم واقعی ذہنی مریض ہو !!!!
    ایسا ذہنی مریض جو اپنی غلاظتیں کر کے بھول جاتا ہے ،
    دوسرے بلاگس پر کیئے اپنے گالیوں بھرے تبصروں کو تو چھوڑو،ذرا ایک تفصیلی دورہ اپنے بلاگ کا ہی کرلو،
    مگر میں جانتا ہوں کہ تم اتنے بے غیرت ہو کہ پھر بھی یہاں آکر یہی بھونکو گے کہ تم مومن ہو اور باقی سب گناہ گار،
    اس وقار چمار ،جسے تم اپنا بھائی کہتے ہو،
    اس کی اور تمھاری گندی ذبان آج سے نہیں بہت پہلے سے لوگ دیکھ رہے ہیں،
    اسی لیئے تم لوگوں کے بلاگ پر کوئی سمجھدار انسان تبصرے کرنے سے بھی گریز ہی کرتا ہے،
    چاہے وہ تمھارا ہم قوم ہی کیوں نہ ہو!!!!!!!

    Abdullah

    ReplyDelete
  37. جولوگ میرے مرحوم والد اور میری محترم والدہ کے بارے میں گند پھیلا رہے ہیں انہیں میں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ یاد رکھیں انشاء اللہ وہ بہت جلد اپنے کیئے کا مزا چکھیں گے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی،
    میرے والدین نے خشگوار ازداجی زندگی کے تیس سال ایک ساتھ گزارے ،اورپھر قضائے الہی سے والد صاحب کے انتقال کے بعد ہماری والدہ محترمہ نے ہم سات بھائی بہنوں کو ہمت اور حوصلے کے ساتھ سنبھالا،
    میں اپنے ساتھ کیئے ہوئے ہر سلوک کو معاف کرسکتا ہون مگر اپنے محترم والدین کے بارے میں کی ہوئی بکواس کا ایک لفظ بھی معاف نہیں کروں گا!!!!!!!!

    Abdullah

    ReplyDelete
  38. ایک ضروری اطلاع ،
    مجھے ابھی ابھی پتہ چلا ہے کہ جو خبیث بار بار میرا گوگل اکاؤنٹ ہیک کرتا رہا ہے اس نے میرا ای میل ایڈریس
    track_meو الا
    بھی ہیک کرلیا ہے،
    میرے ای میل ایڈریس سے اگر کوئی گندے تبصرے کرے تو وہ میں نہیں بلکہ وہی خبیث ہوگا!!!!

    Abdullah

    ReplyDelete

Note: Only a member of this blog may post a comment.