Tuesday, July 26, 2011

پاکستانیوں کا احساس کمتری اور انکل ٹام کی بے ربطگیاں

انسان اکثر باتیں اور فلسفیانہ یبلیاں اپنے ماحول سے متاثر ہو کر کہتا ہے قطع نظر اس سے کہ اسکا ماحول اس پر کس قسم کا تاثر قائم کرتا ہے ۔ سٹیج اور ناول نگاری کی دنیا کے شیکسپیر کی طرف ایک جملہ کچھ اس طرح سے منسوب ہے کہ یہ دنیا ایک سٹیج ہے اور ہم سب اداکار ہیں جو یہاں اپنا کردار ادا کر کے چلے جاتے ہیں،  یقینیاً یہ بات شیکسپیر نے اپنے "سٹیجی ماحول" کے تاثر میں کہی لیکن میرے خیال سے اگر شیکسپیر اس معاشرے میں رہتا جس میں زندہ رہنے پر ہم مجبور ہیں تو ضرور دنیا کو ایک سٹیچ کہنے سے زیادہ اسکو رنڈی خانہ کہنے پر غور کرتا۔ اپنے سخت الفاظ پر معذرت کے ساتھ، لیکن ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ موجودہ دور میں جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہاں ہر ادارے میں رنڈی کا کردار ضرورت سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔ اگر ایک جسم فروش فاحشہ کو چند کاغذ کے ٹکڑوں کے عوض  اپنا جسم بیچنے پر رنڈی کا خطاب دیا جا سکتا ہے تو  میرے نزدیک بینک میں کھڑی شارٹ سکرٹ کے ساتھ کھلے گلے والی شرٹ پہنے وہ رسیپشنسٹ بھی اس خطاب کے لیے برابر کی امیدوار ہے ۔  ہم بحثیت انسان معاشرتی پستی میں ایسے گر چکے ہیں کہ عورت سے جسم فروشی کرواے بغیر ہمارے معاشرے کا ہر ادارہ عضو معطل کی حثیت رکھتا ہے ، لہذا مغرب اور اس سے متاثرہ دانشوروں کے نزدیک شعبہ ہاے زندگی میں ہر عورت کو رنڈی بنانے کو نہ صرف ایک ضرورت قرار دیا گیا بلکہ اسکو انسانی نظروں سے نیچے گرانے سے بچانے  کے علاوہ عوام کے لیے سحر انگیز بنانے کے لیے روشن خیالی کا نام دیا گیا۔

ایک دن میں لائبریری سے گھر واپس آرہا تھا ، میرے مخالف سمت سے ایک جوڑا آرہا تھا ، اچانک وہ لوگ رُکے اور سڑک کے درمیان میں ہی منہ سے منہ مِلا لیے ، بلکل ایسے ہی جیسے میراثی سُر سے سُر ملاتے ہیں ۔اب سائیڈ واک کے درمیان مجھے سمجھ نہیں آٰئی کہ کہاں سے گزروں ، گورے اخلاقی اقدار میں اتنی ترقی کر گئے کہ بس سٹاپ پر بھی اُنکے "پی ڈی اے" سے دنیا تنگ ہو گئی مسلمان تو مسلمان گورے بھی تنگ ہو گئے اور یوٹیوب پر بس سٹاپ پر کھڑے ہو کر "پی ڈی اے" استعمال کرنے والوں کو گالیاں دینا شروع کر دیں کہ یہ ہمیں "گروس آوٹ" کرتا ہے ۔ بس سٹاپ پر کھڑے ہو کر "پی ڈی اے" سے مزے کرنا کچھ حضرات کو تو کافی جیلس کر سکتا ہے ، اسی طرح مجھے اس بچے کی بیزار صورت بھی یاد ہے جسکے ماں باپ نے اچانک سڑک پر رُک کر نینوں کے علاوہ اور بھی بہت کچھ ملایا تھا اور وہ "کم آن ڈیڈ " کہہ کر اپنے "پی ایس پی" کے ساتھ شروع ہو گیا تھا، ان اخلاقی اقدار سے لوگوں کے دلوں کو فتح کرنے پر "وینکور  کسنگ کپل" کی بھی بڑی واہ واہ ہوئی تھی اسکے تو ابے نے بھی ایسے خوشی کا اظہار کیا تھا جیسے بیٹا ملک فتح کر کے آیا ہو ۔
کل میں کچھ لڑکوں کے ساتھ ایک بیچ کے پاس واک کرتے ہوے گزر رہا تھا  تو اسلم صاحب جیسے نادان شخص کو میں یہ بات سمجھانا چاہتا تھا کہ لوگ پیسے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوتے ہیں ، اور میں نے جوشِ خطابت میں کہہ دیا کہ "لوگ پیسے کے پیچھے ننگا ہونے سے بھی گریز نہیں کریں گے" اب اسلم صاحب کو موقع چاہیے ہوتا ہے دوسروں پر یہ ثابت کرنے کا کہ یہ صاحب اپنی بات کو ثابت نہیں کر سکتے لہذا انہوں نے مجھ سے مثالیں مانگنا شروع کر دیں، اب میری بولتی بند ہونے ہی والی تھی کہ عبداللہ نے "پورن سٹار" کہہ کر میری زندگی بچا لی  اور کہا کہ " وہ پیسے کے لیے ننگے ہو جاتے ہیں"  اچانک ہی سامنے سے ایک حسینہ دو چیتھڑوں میں آتی دکھائی دی تو جہاں سردار کرتار سنگھ نےایک لمبی اور ٹھنڈی آہ بھری ، میرے نظریں جھکاتے جھکاتے ہی عبداللہ نے ایک اور بات کہی " اور یہ بغیر پیسے کے ہی ننگی ہو گئی ہے " ۔
جیسا کہ میں نے اپنی ایک دو پوسٹس میں بتایا ہے کہ شان نامی ایک لڑکے سے میری گفتگو رہی ، وہ بہت چھوٹی عمر کا ہے لیکن میرے سامنے اُس نے سگریٹ پینے کا بھی اقرار کیا ، جس طرح "ویڈ" کے حق میں وہ دلائل دیتا تھا اُس سے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ اگر کبھی وہ ایک دو کَش اُسکے بھی مار لیتا ہو تو کوی بڑی بات نہیں ۔ جب میں نے اُس سے "ویڈ" کے نقصان کی بات تو اُس نے فوراً جوش میں آکر "ویڈ" کی افادیت پر لیکچر دینا شروع ہو گیا، اس دوران کب اُسکی آواز اونچی ہو گئی اُسکو معلوم بھی نہیں ہوا ۔ یہ ایک انسانی نفسیات ہے ، وہ یہ کہ اکثر انسان تو ایسے ہوتے ہیں کہ اگر کسی بُرائی میں مبتلا ہوں تو اُسکو برائی ہی سمجھتے ہیں ، بلکہ پتا نہیں کب رات کو جاگ کر اُس پر روتے بھی ہوں گے ۔ جبکہ دوسری طرف کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی بُرائی کو "جسٹیفائی" کرنا چاہتے ہیں ، بلکل ایسے ہی جیسے شان نے کیا ۔
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب امی ڈرائیونگ لیسنز لے رہی تھیں ، ایک اشارے پر گاڑی رُکی تو تھوڑی دیر میں ایک اور گاڑی اُنکے پاس آکر رُکی اس میں ایک گوری تھی ، اُس نے امی کے نقاب کو دیکھتے ہوے اونچی آواز میں سوال پوچھا کہ "تم یہ چہرہ کیوں چھپاتی ہو؟" گو کہ اشارہ کھلنے کی وجہ سے وہ جواب حاصل کیے بغیر ہی چلی گئی ، انسٹرکٹر نے امی سے کہا کہ پاکستان میں ایسا نہ ہوتا ، امی کا جواب تھا کہ پاکستان میں اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے ، جو عورتیں برقع نہیں کرتیں وہ زیادہ اس طرح کی باتیں کرتی ہیں کہ "برقع پہننے والیاں تو پارکوں میں جا کر برقع پرس میں رکھ لیتی ہیں  وغیرہ وغیرہ"  اسی طرح ایک گروہ کو اس چیز سے خاص تکلیف رہتی ہے ۔
زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ، پاس میں ہی ایک بلاگی آنٹی  نے کہہ دیا کہ " جس کا دل زیادہ جلتا ہے وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑا کر رہ جاتا ہے" گو کہ ہو سکتا ہے آنٹی نے کسی کو بڑبڑاتے دیکھا ہو لیکن میں نے ایسا نہیں دیکھا ، میرے تجربے کے مطابق دو قسم کے لوگوں میں سے پہلے تو وہ ہوتے ہیں جو ایسے موقع سے خوب فائدہ اٹھا کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی گرم کرتے ہیں سردار کرتار سنگھ تو نہ صرف ایک ٹھنڈی آہ بھرتا ہے بلکہ ٹانگوں کے علاوہ جسم کے دیگر حصوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیتا ہے ۔ کاشف کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں کی نظریں ایسی تیز ہوتی ہیں کہ وہ اوپر والا چیتھڑا دیکھ کر یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ اندر والا کس رنگ کا ہو گا ۔ کچھ میرے جیسے ہوتے ہیں جو اپنی نظریں جھکانے کے چکر میں ہوتے ہیں ۔ 
اگر کوی ایسے ملک گیا ہے تو وہ جانتے بوجھتے گیا ہے ، کسی نے اسکو زور زبردستی بھیجا نہیں تھا شاید یہ ہی وجہ ہے کہ جو سب کے سب "مسلمان" ہیں، حدیث کے مطابق دل میں بُرا جان کر اپنے آپ کو کسی نہ کسی طرح ایمان کے دائرے میں رکھنے کی فکر میں ہیں۔ پاکستانی آنٹیوں کا حال انہی عورتوں کی طرح ہے جنکو میری والدہ کے برقع سے تکلیف ہے اس وجہ سے کہ بجائے میری والدہ انکو برقع کی ترغیب دیں وہ برقع سے اپنے بغض کا اظہار پہلے کر دیتی ہیں ۔ ایک تو وہ گروہ تھا کہ جو دین کی خاطر ہجرت کر کے پاکستان آیا تھا ، بقول وجیہ الدین صاحب کے یہ اُن لوگوں میں سے ہیں جو یہ سُن کر آئے تھے کہ "اُدھر کلیم کر کے زیادہ زمین مل جائے گی " کراچی میں کواٹروں پر ہونے والے قبضوں کے کچھ قصے میری نانی اماں نے بھی مجھے سنائے ہیں ۔ اگر کوی شخص ایسی بات کرے تو مجھ کو وجیہ الدین صاحب کی بات سمجھ میں آتی ہے ۔
میرے دادا کے والد صاحب کا انتقال ہو گیا تھا پاکستان کے بننے سے پہلے ، جو کہانیاں میرے دادا سناتے ہیں اُن سے پتا چلتا ہے کہ کافی صاحبِ حثیت لوگ ہوا کرتے تھے ، میرے دادا کو زیادہ تو یاد نہیں لیکن ٹانگیں دبواتے ہوے انہوں نے مجھے اپنے سفید گھوڑے کا ضرور بتایا تھا جو تالاب میں گھٹنوں تک پانی میں جا کر پھر پانی پیا کرتا تھا۔ پاکستان آنے کے بعد انکو غربت بھی دیکھنی پڑی ، لیکن میرے والد صاحب آج بھی پاکستان کے وجود کا سختی سے دفاع کرتے ہیں ۔ وجہ یہ ہی ہے کہ اُن لوگوں نے ہجرت  زمین جائیداد کے لیے نہیں کی تھی ، بلکہ ایک بڑے مقصد کے لیے کی تھی ، چونکہ پاکستان کا مقصد لا الہ الا اللہ تھا اسی لیے وہاں پر خواتین کو اخلاقی پاسداریوں کا سبق دیا جاتا ہے  کہ جس مقصد کے لیے قربانیاں دی تھیں اسکو تو پورا ہونے دو ، کینیڈا میں لب سینے کی وجہ یہ ہی ہے کہ ہم نے کینیڈا کو مذہبی سے زیادہ معاشی سہولت کے لیے اپنایا ہے اور نہ ہی یہ اسلامی ملک ہے کہ یہاں اسلامی قوانین کو لاگو کرنے کی بات کی جائے  ، لہذا یہاں مقصد ہی اور ہے ۔ لیکن بات تو یہ ہے کہ سوال آپکو ہم سے نہیں کرنا تھا ہمیں آپ سے کرنا تھا ، کہ چلیں آپ کے بڑوں نے ہجرت کر کے غلطی کی ، آپ لوگ پاکستان سےچلے کیوں نی جاتے ؟؟؟ اگر آپ کو ننگ پنے میں رہنے کا اتنا ہی شوق ہے تو یورپ کے کسی ملک میں یا تھائی لینڈ کی کسی "گلی" میں ایک فلیٹ خرید لیں زندگی اچھی گزرے گی  اور اگر آپ کو وجودِ پاکستان سے ہی تکلیف ہے تو ممبئی کے ریڈ لائٹ ڈسٹرک میں شاید آپ کی ہی کمی ہے ۔
ایک فقیر صاحب کو تکلیف ہے کہ پاکستان میں یہ کام چھپ چھپا کر کیوں ہوتے ہیں؟ یعنی انکی خواہش ہے کہ  پاکستان میں یہ کام بلکل اسی طرح سڑکوں پر سرِ عام ہونے چاہیں تاکہ پاکستانی عوام اور قوم منافقت کے ٹھپے سے بچ جائے ۔ لگتا ہے موصوف کا تعلق ننگی ٹانگیں دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی گرم کرنے والے لوگوں کی قسم سے ہو تبھی جناب چھپا چھپی کرنے کے مخالف ہیں ، میرے خیال سے یہ ہی وہ لوگ ہیں جن  کی وجہ سے پاکستان میں پبلک پلیسیز پر گندی بدبو آتی ہے ۔ خیر یہ انہی لوگوں کی مہربانی ہے کہ اب پاکستان بھی مغرب کے رنگ میں ڈھلتا جا رہا ہے ۔بات ہے ایک چیز کو گناہ سمجھنے کی اور اسکو برا سمجھ کر کرنے کی ، یہ ہی بات میں کہتا ہوں کہ آپ جو یہ بات کرتے ہیں ، یہ اسی بات کی دلیل ہے کہ گو پاکستانیوں کے ایمان کمزور ہیں اور وہ یہ گناہ اور برائیوں کے مرتکب ہو رہے ہیں لیکن وہ بہرحال ان چیزوں کو گناہ اور برائی ہی سمجھتے ہیں ۔
جب میں کینیڈا نیا نیا آیا تو بہت سی چیزیں میرے لیے نئی تھیں، اور مجھے معلوم نہ تھا کہ انکے ساتھ کیسے ڈیل کرنا ہے ، مثال کے طور پر میری عادت ہے کہ جب مجھ پر کچھ سوچ طاری ہوتی ہے تو میں سب کچھ چھوڑ کر اس سوچ میں گُم ہو جاتا ہوں ، مجھے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ میں کہاں بیٹھا ہوں اور کیا کر رہا ہوں ۔ ایک دفعہ میں لائبریری میں کمپیوٹر استعمال کر رہا تھا ، اور مجھ پر اچانک سوچ طاری ہو گئی اب میں اپنی سوچ میں گُم ہو گیا لہذا مجھے صحیح طرح یاد نہیں کیا ہوا تھا لیکن مجھے کچھ اونچی آواز سنائی دی تھی اور اُسکے بعد کاشف مجھے جھنجھوڑ کر کہہ رہا تھا اُسکی طرف نہ دیکھ ، کاشف کے جھنجھوڑنے کے بعد میں خیالی دنیا سے واپس آچکا تھا بعد میں معلوم ہوا کہ میں اپنی سوچوں میں گُم تھا اور جس طرف میرا منہ تھا اُس طرف ایک موٹا تازہ کالا بیٹھا تھا ، اُسکو یوں لگا جیسے میں اُسکو گھور رہا اور اور وہ کہہ رہا تھا " وٹ دا ایف آر یو سٹیرنگ ایٹ" ۔ گو کہ اخلاقیات صرف شراب پینے اور زنا کاری تک ہی محدود نہیں ہے لیکن "ایف" کا لفظ یہاں ایسا ہی عام ہے جیسے پاکستان میں "ب چ" ،لیکن چونکہ آپ احساس کمتری کے مارے ہوے "ذہنی فقیر " ہیں لہذا آپکو گورے کی اس حرکت پر اخلاق  یاد نہیں آئیں گے ۔
بات ہوئی تھی اخلاقی پستی کی ، سچ بتاوں تو اخلاقی پستی ہر جگہ لیول کے حساب سے ہوتی ہے ، اور معیشیت کے مطابق عوام کے اخلاق ہوتے ہیں ، ورنہ حکومتی عہدیدار تو کینیڈا میں بھی اپنی ٹیکسی کا خرچہ بھی حکومتی جیب سے نکلواتے پکڑے گئے ہیں ۔ پاکستانی عوام کے بارے میں اگر کہا گیا ہے کہ ٹریفک سگنل پر کھڑے ہو کر دیکھ لو تو آپ کو بھی دعوت دی جاتی ہے ، یہاں اگر عوام کے اخلاق اتنے ہی اعلیٰ ہیں تو انہوں نے دکانوں میں کیمرے شو مارنے کے لیے لگا رکھے کیا ؟؟؟ بلکہ یاد آیا کہ یہاں جتنے بڑے بڑے سٹور ہوتے ہیں ان میں ایک انڈر کور سکیورٹی آفیسر بھی گھوم رہا ہوتا ہے ، اگر آپ کسی چیز کو دیکھ رہے تھے اور آپ کے پیچھے دروازے تک کوئی بندہ آتا رہا تو بچ کر رہنا کہیں وہ آپ کی تلاشی کا وارنٹ نہ نکال لے ۔ ورنہ اگر ادھر بھی سکون نہیں تو کسی ایسی دکان میں گھس جانا جدھر کیمرا نہیں لگا ہوتا ، آپ کو جگہ جگہ شلیف پر کھلے ہوے ڈبے ملیں گے ، سیلز مین بتائے گا کہ کوی کسٹمر چیز نکال کر جیب میں ڈال کر خالی ڈبہ ادھر رکھ گیا ، پیسے تو دیے نہیں اس نے لیکن چونکہ وہ پاکستانی اور مسلمان نہیں تھا اسی لیے ہم اسکے اخلاق پر انگلی نہیں اٹھائیں گے ، ورنہ کچھ تو ایسے شیر دل بھی ہوتے ہیں کہ آدھی چاکلیٹ کھا کر باقی وہیں رکھ جائیں ۔

ہر ایک نے اپنی اپنی حثیت کے مطابق قانون کو رنڈی بنایا ہوا ہے ، ہاں رنڈی سے مجھے یاد آیا کہ آپ کبھی ادھر کی رنڈیوں کا انٹرویو سیشن تو ضرور کریں ، کچھ تو آپ کو ایسی سٹوریا بھی سنائیں گی جب انکو ایک ہی دن "ہول سیل" میں بزنس کرنے کی آفر ہوئی اور لوگ مال خرید کر بھاگ گئے اور بعد میں موٹل کا بل بھی ان کو ہی بھرنا پڑا ، لیکن اسکے جواب میں آپ مجھے کارو کاری اور ونی جیسی کہانیاں سنائیں گے جو ایک صدی میں ایک ہی دفعہ ظہور پذیر ہوتی ہے ، چونکہ اسکے ظہور کی وجہ سے "این جی اوز" کو پیسے کھانے کا موقعہ ملتا ہے اسی لیے میڈیا پر مہم چلا کر خوب انویسٹ منٹ کی جاتی ہے ، لیکن یہ بیچاریوں کے ساتھ جو ونی اور کارو کاری ایک ہی دن ہو جاتی ہے اسکی کسی کو خبر نہیں ۔ اس سے مجھے یاد آیا کہ جس طرح مغرب میں ہر عورت کو چاہے پیشے کے اعتبار سے وہ "ہوکر" نہ ہو ، رنڈی بنایا ہوا ہے اس سے آپکی فکر کا محور پاکستان بلکل محفوظ ہے ۔
عرب شیخ کے پاس پیسہ ہے ، وہ عرب ہے ، اسکا عرب ہونا اسکے ماتھے پر ولی اللہ ہونے کی مہر ثبت نہیں کرتا ، آپ جیسے جاہل و اجہل پاکستانیوں کی طرف سے موصول ہونے والی ایسی مثالوں سے ایک لطیفہ یاد آیا کہ ایک "فقیر" پاکستان سے  سعودیہ حج کرنے گیا ، وہاں کسی دکان پر کچھ خریدنے لگا تو دکان دار سے لڑائی ہو گئی اس نے خوب گالیاں دیں" تیری ماں دی ، تیری بہن دی ، تیری فلاں تے ڈھمکان" جواب میں عرب نے بھی خوب عربی میں گالیاں دیں، یہ بندہ پاکستان واپس آکر لوگوں کو بتاتا پھرے کے عرب تو بڑے نیک ہوتے ہیں ، میں اسکو گالیاں دیتا تھا وہ مجھے قرآن سناتا تھا ۔ یہ ہی حال آپکا ہے ، بھلا جس شخص نے اپنے حرم میں دوسو عورتیں رکھی ہوں اسکو اچھا مسلمان سمجھے گا ہی کون ؟؟؟؟ اور آپ بھی ہمیں بتائیے گا کہ وہ کونسا ملک ہے جہاں ایک ہی شخص کو دو سو عورتیں حرم میں رکھنے پر محکمہ بہبود آبادی کچھ نی کہتا ۔ چلیں اسنے تو ان عورتوں کو پھر بھی اپنے حرم میں رکھ لیا انکی کچھ نہ کچھ زندگی پھر بھی بچی رہی ، لیکن یہاں آپ کے پسندیدہ مغرب میں جو عورت کو ایک سگریٹ  اور پیزا کے سلائس کے بدلے اپنے حرم کی زینت بناتے ہیں ان پر کوئی فتویٰ نہیں ؟؟؟ صرف اسی لیے کہ انکی چمڑی گوری ہے ؟؟؟ یا اس لیے کہ وہ انگریزی بولتے ہیں۔۔۔
جنت میں اسنے جانا ہے جسنے خاتم النبین کا کلمہ پڑھا ہے ، جو پکا مسلمان ہے اور یہ بات ہمیں پہلے بتا دی گئی ہے ، اسی لیے پہلے بھی یہ ہی کہا تھا کہ جو ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی جنت کے باغوں میں گزارے گا وہ ہی سب سے اچھا اور صاف ستھرا ہے ، اور جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم کی وادیوں میں کوڑے کھائے گا وہ نہ صرف وہاں برا ہو گا بلکہ یہاں بھی برا ہی ہے ۔ 

9 comments:

  1. زبردست بھئی۔
    بہت خوب
    آپ کی یہ پوسٹ کھب کے پڑھی۔
    اگر برائیاں گنوانے شروع ہو جائیں تو
    بیر کا ایک ڈبہ پہلےاور ایک بعد میں دو۔۔۔کی درخواست کرنے والی جسم فروش بھی انہیں نظر نہیں آئی گی۔۔۔

    ReplyDelete
  2. ہا ہا ہا۔۔۔ آ گیا تے چھا گیا۔۔۔

    ReplyDelete
  3. خالد حمیدJuly 27, 2011 at 3:01 AM

    واہ شہزادے واہ
    بہت بہت بہترین۔۔۔۔۔
    بہت اچھا لکھا۔۔۔۔۔
    اور اتنا کھلا تو کوئی اور لکھ بھی نہی سکتا۔۔۔
    یار ویسے ان سب کی آنکھوں پہ پٹی بندھی ہے جو مغرب کی تعریف کرتے ہیں۔
    وہ اس میں بھی کوئی نہ کوئی عذر لنگ تلاش لیں گے۔۔

    ReplyDelete
  4. بہت خوب کاکے، کیا بات ہے، میں نے پچھلی پوسٹ میں ٹانگ نہیں آڑائی۔ خواہ مخواہ کی وہی گھسی پٹی باتیں جسے موصوف ہر مسئلے میں گھسیٹ لاتے ہیں اور لگتے ہیں دین و ملت کو مطعون کرنے۔ حالانکہ دسیوں بار انہیں انکے تفصیلی جوابات مختلف فورم پر دیے گئے لیکن مرغے کی وہی ایک ٹانگ۔۔۔ میں نے تو پورے تبصرے پڑھے بھی نہیں، انہیں گھسی پٹی باتوں پر مبنی لمبے لمبے تبصرے اب بھلا کون پڑھے۔ بحرحال زبردست پوسٹ لکھی ہے۔

    ویسے ہجرت کرکے آنے والے سب ہی کلیم حاصل کرنے نہیں آئے تھے۔ لوگوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں اس ملک کے لیے۔ اور یہ قربانیاں کلیم حاصل کرنے کے لیے نہیں تھیں۔ ان کی قربانیوں کو یوں ڈی گریڈ نہ کریں۔

    ReplyDelete
  5. بہت دل چسپ ۔ بڑا مزا آیا پڑھ کے۔ اللہ کرے زور کلک اور زیادہ
    محمد سعید پالن پوری

    ReplyDelete
  6. بندے تو دو چیریں نہ چاہتے ہوئے بھی اچھی لگتی ایک اپنی تعریف اور دوسرا دشمن کی برائی!!!
    اس مین غیر محسوس انداز مین دونوں اجزاء ہیں کیا کریں!!! قدامت پرست دیسیون کو پسند آنی ہی ہے اور آپ تو جانتے ہیں میں قدامت پرست ہوں!!! اور دیسی بھی۔۔

    ReplyDelete
  7. اور ہاں وقار اعظم کے تبصرے کے دوسرے پیراگراف کو ہمارے تبصرے کا بھی حصہ جانا جائے!! یعنی ہم انہیں سیکنڈ کرتے ہیں

    ReplyDelete
  8. شعیب صفدر بھائی ،تعریف وغیرہ کے معاملے میں ، میں کوی تبصرہ نی کرتا جسکو جو سمجھنا سمجھے ۔ میں نے یہ پوسٹ میں صرف احساس کمتری کا رد کیا ہے اور اس کے لیے اپنے مثبت نکات بتانے کی ضرورت تھی ۔ دوسرا یہ کہ میں نے اس میں گوروں کو دنیا کی گندی مخلوق بھی ثابت کرنے کی کوشش نی کی بلکہ یہ ہی بتانا چاہا ہے کہ جن برائیوں کی وجہ سے ہمیں لتاڑا جاتا ہے وہ ان لوگوں میں بھی موجود ہیں ۔

    دوسری بات میں نے کلیم کر کے ہجرت کرنے پر بھی ہر مہاجر کو نی لتاڑا میں نے خود اپنے دادا کے ہجرت کرنے کی بات لکھی ہے ۔ میں نے صرف ان لوگوں پر یہ الزام لگایا ہے جو پاکستان کے بننے کے بعد اسکی ایک مخصوص انداز میں مخالفت کرتے ہیں ۔پاکستان کے وجود پر ایک نظریاتی بحث تھی جو اسکے بننے سے پہلے کی تھی جیسے مولانا حسین احمد مدنی قابلِ ذکر ہیں ، لیکن پاکستان بننے کے بعد مولانا حسین احمد مدنیؒ کی یہ بات بھی مشہور ہے جو انہوں نے کہا تھا کہ " مسجد کے بننے میں اختلاف ہو جاتا ہے کہ یہاں نہیں یہاں بننی چاہیے ، لیکن جب مسجد بن جاتی ہے تو اسکی حفاظت کرنا ہر مسلمان پر فرض ہو جاتا ہے ۔" امید ہے میری بات کو غلط رخ میں استعمال نہیں کیا جائے گا ۔

    ReplyDelete
  9. بہت تفصیلی پوسٹ لکھی آپ نے۔ واقعی دہرے معیار کے رویوں کی بہتات ہے تقریبا ہر معاشرے میں۔ ایک چیز اپنے لیے جائز قرار دے دی جاتی ہے اور دوسرے کے لیے ناجائز۔

    ReplyDelete

Note: Only a member of this blog may post a comment.