Thursday, July 14, 2011

اِک سیانے فلسفی کے انکل ٹام کو نصائح

دیکھ ٹامے میری ماں نے کہا تھا کہ بیٹا ، پیسے کے پیچھے نہ بھاگ جب تیرے پاس پیسا آنا ہو گا ، تو خود ہی گھر سے باہر نکلے گا۔ اللہ تیرے لیے رستے نکالنا شروع کردے گا تجھے خود سمجھ نہیں آئے گی کہ کہاں کہاں سے کام نکل رہا ہے کہاں کہاں سے پیسا آرہا ہے ۔
تو پاگل ہے ؟ سالے سود کے ڈر سے دو دو نوکریاں کر رہا ہے ؟ قرضہ چڑھا ہے تو چڑھا رہے تو دیتا رہ دو سو ڈالر کی قسط مہانہ ، مجھے دیکھ ہفتے میں تین دن نوکری کرتا ہوں ، چِل مارتا ہوں بچیوں کے ساتھ ڈیٹ پر بھی جاتا ہوں، دس ہزار ڈالر کی گاڑی رکھی ہوی ہے،  بزنس خرید را ہوں ۔ تو کن چکروں میں پڑ گیا ہے ؟
دیکھ ٹامے یہاں کنیڈا میں کوی کسی کو پوچھتا نئی ہے ، کوی راستہ نئی دے گا تجھے ، (انڈیکیٹر کا بٹن دباتے ہوے ) دیکھ جب تو نے سڑک پہ بھی راستہ لینا ہوتا ہے تو خود انڈیکیٹر دے کر دوسری لین میں گھستا ہے کوی تجھے راستہ نی دیتا ۔ یہاں اپنے راستے خود بنا ۔  کسی سیانے نے کہا تھا ( کس سیانے نے ؟) کہ پتھر ہوتا ہے نہ ، وہ ایک جگہ پڑا رہے تو روز نیچے جانا شروع ہو جاتا ہے ، خود سوراخ بنا لیتا ہے اپنے لیے ۔ کنیڈا میں رینا ہے تو پتھر بنو ۔۔۔
ٹامے جس گھر پیسہ نہیں ہوتا وہاں کل بل چلتی رہتی ہے  لڑائی ہر وقت ، "اوے تو نے دو روٹیاں زیادہ کھا لی ؟" ، "پڑے رہتے ہو ، فلمیں ویکھتے رہتے ہو کام دھندا کوی نی ؟" ، جہاں غربت ہے وہاں ایسا ہی ہے ، دیکھ غریبوں کے بچے نئی پڑھتے ، کوی چرس پینے میں لگا وا ، کوی سکولوں سے پھوٹے مار را ۔ تو امیروں کے بچے دیکھ ، سالے پڑھ بھی رہے ، اونچے اونچے کالجوں میں یونیورسٹیوں میں ، اُن کو پتا کہ پیچھے باپ کا پیسا بولے گا ، بزنس کرتے ہیں پتا ہے ڈوب گے تو کوی خطرہ نئی  ، باپ نے ہمارے لیے کمایا آخر ہمیں ای دینا ہے ۔
ہم سالے رسک نی لیتے ، ہزار باتیں سوچتے ، کبھی پار نی ہو سکتے ۔ ابھی جوانی ہے زندگی کے مزے لینا سیکھ ، ابی سے ان چکروں میں پڑ گیا تو زندگی کب انجواے کرنی ؟ جب بڈھا ہو جائے گا ؟؟؟ تیرے بچے چلائیں گے لیمبرگینی ؟؟؟  
چلے گا میرے ساتھ پارٹی پر ؟؟ بچیاں آئی ہونگی ، ابے یار پچھلی بار ایک لڑکی نے "شیلا کی جوانی" پر ڈانس کیا ۔۔۔۔۔
انکل ٹام: (تنگ پڑتے ہوے ) نئی  یار کل جمعہ ہے بعد میں پھر مزدوری پہ جانا ہے ۔
ع
اس لیے غم عزیز رکھتا ہوں
میری خوشیوں کا خون ہے اس میں

4 comments:

  1. چاچا ٹامے آپ اسی میں مست رہیں۔
    ان عیاشیاں ان کو کرنے دیں ۔
    آپ کی عیاشی اسی میں ہے اور آپ تو مہا عیاش ہو۔۔۔۔ہیں جی

    ReplyDelete
  2. خالد حمیدJuly 14, 2011 at 11:46 PM

    کیا۔۔۔۔۔ بات ہے
    زبردست
    ہماری تو عیاشی یہی ہے۔اپنوں کے لئے کچھ کرتے رہنا۔
    یار اس ایک خوشی میں ساری خوشیوں کا لطف ہے۔
    عارضی خوشیوں سے لطف بھی تھوڑی دیر کا اور خرچہ بھی بہت۔
    جبکہ یہ تو دائمی ہے

    ReplyDelete
  3. دیکھ ٹامے میری ماں نے کہا تھا کہ بیٹا ، پیسے کے پیچھے نہ بھاگ جب تیرے پاس پیسا آنا ہو گا ، تو خود ہی گھر سے باہر نکلے گا۔ اللہ تیرے لیے رستے نکالنا شروع کردے گا تجھے خود سمجھ نہیں آئے گی کہ کہاں کہاں سے کام نکل رہا ہے کہاں کہاں سے پیسا آرہا ہے ۔

    _______________________________________________

    کمال کی بات کہی ہے

    ReplyDelete
  4. ايک کائناتی يعنی يونيورسل اصول ہے ۔ جس چيز کی طلب زيادہ ہو اُس کی رسد کم ہو جاتی ہے ۔ اگر آپ دولت پيچھے بھاگيں گے تو دولت آگے آگے بھاگے گی ۔ يہی اصول ميں نے دولت اور لڑکيوں کے بارے ميں اپنايا اور دونوں ميرے پاس منڈلاتے رہے اور ميں اکڑ دکھلاتا رہا

    ReplyDelete

Note: Only a member of this blog may post a comment.