Saturday, July 23, 2011

احساسِ کمتری اور پاکستانی،مسلمان

ہر وقت یہ رونا رویا جاتا ہے کہ ہم پاکستانی اور مسلمان دنیا میں ترقی کی راہ پر گامزن کیوں نہیں ؟  اس کی بہت سی وجوہات میں ایک بہت بڑی وجہ مسلمانوں کے اندر احساسِ کمتری کا بہت بڑا ہاتھ ہے ۔
آج میں چند دوستوں کے ساتھ ایک دوست کی گاڑی میں جا رہا تھا ، عبداللہ جو ہمیشہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھتا ہے نے ٹیپ کی آواز کم کرنا شروع کر دی جب ابرار الحق کا پنجابی گانا چلا ۔
وجیہ الدین: کیا ہوا ، آواز کیوں کم کر رہا ہے ؟
عبداللہ: بستی ہو گی ۔
یعنی عبداللہ کے نزدیک گورے لوگ یا دیگر پاکستانی انکو "فاب" کا خطاب دے کر بستی کر سکتے ہیں ۔ یہ کوی اکیلا واقعہ نہیں۔ پچھلے دن میں کاونٹر پر کھڑا تھا کہ ایک صاحب آئے جن سے میری انگریزی میں ہونے والی گفتگو کا اردو ترجمہ کچھ ایسے ہے ۔
صاحب: کیا تمہارے پاس حلال پانی ہے ؟
میں: حلال پانی؟
صاحب: ہاں حلال پانی جو پیتے ہیں
میں: پینے کا پانی وہاں فریج میں رکھا ہوا ہے ۔
صاحب گئے اور ایک بوتل اٹھا لائے میں نے انکو قیمت بتلائی
میں: یہ حلال پانی کا کیا چکر ہے ؟
صاحب: ایک دن میں اس دکان میں آیا تو ایک شخص حلال کھلونے کا پوچھ رہا تھا ۔
میں: حلال کھلونا ؟
صاحب: ہاں حلال کھلونا جس سے بچے کھیلتے ہیں
میں نے یہ ہی واقعہ اتنا ہی امی کو سنایا تھا جب امی نے مجھے کہا ہاں صحیح تو کہہ رہا تھا وہ بھلا کھلونے میں بھی حلال حرام ہوتا ہے کچھ ؟
میں: بلکل امی ، ہوتا ہے اگر کوی ایسی گڑیا ہو جس نے آدھے کپڑے پہن رکھے ہوں تو کیا وہ کھلونا حرام نہیں ہو گا ؟؟؟، یا اسی طرح اگر کسی کھلونے کو بنانے میں حرام اشیاء استعمال ہوی ہوں ۔ یا کسی پر الٹی سیدھی تصاویر بنی ہوں ۔
 میرا جملہ سننے کے بعد امی کا چہرہ یہ بتا رہا تھا کہ انہوں نے اس سے پہلے اس نقطے پر غور نہیں کیا ۔  واپس چلتے ہیں صاحب کے پاس ، اس کے بعد صاحب کا لیکچر شروع ہو گیا ۔
صاحب: دیکھو جناب جب ہم اس ملک میں آئے ہیں تو ہمیں یہاں کے اصولوں کے مطابق رہنا پڑےگا ، ہم ہر چیز میں حلال حرام کے چکر میں نہیں پڑ سکتے ، جو چیز جیسے ملتی ہے ہمیں ویسے ہی لینی ہو گی یہ کیا ہر جگہ حلال حرام کی کل کل لگائی ہوتی ہے ۔  
میں: دیکھیں امی یہ ہے وہ وجہ جس کی وجہ سے مسلمان ایسے پس رہے ہیں ، اب بجائے اسکے کہ وہ اس آدمی کی تحسین کرتا اسکی قدر کرتا کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کے بارے میں کتنا فکر مند ہے کہ کھلونوں کے بارے میں بھی پوچھ رہا ہے کہ وہ حلال ہیں یا نہیں آگے سے یہ شخص اسکا مذاق اڑا رہا ہے گو کہ یہ سیلز مین نہیں تھا کہ اسکے اس سوال سے تپتا لیکن پھر بھی اس مضبوط ایمان کے مسلمان کی اس حرکت سے اسکو کتنے عرصہ جلن ہوتی رہی ۔ میں نے تو کوی کافر بھی ایسا نہیں دیکھا جو مسلمان کی اس حرکت سے تپا ہو ۔
مسلمان ایسے جانگلوس ہیں کہ کسی جگہ کھانے جائیں گے تو حلال کا پوچھتے ہوے ایسے ڈریں گے جیسے قتل کر کے قاتل پولیس سے ڈرتا ہے، کیا یہاں سبزی خور نہیں رہتے ؟؟ وہ تو کبھی نہیں ڈرے وہ تو ہمیشہ پوچھتے ہیں ، بلکہ کینیڈا کے قانون کے مطابق آپکو حق ہے یہ جاننے کا کہ جو چیز آپ کھا رہے ہیں اسکا منبع کیا ہے ؟
کافر مسلمان سے اچھا ؟
جس پاکستانی کو دیکھو ہر جگہ یہ ہی جہالت کی بات کر رہا ہو گا کہ ہم سے تو اچھے گورے ہیں ، مسلمانوں سے اچھے تو گورے ہیں  کیوں اچھے ہیں جی ؟ وہ اس لیے کہ وہ صفائی کا خیال رکھتے ہیں ۔
چلیں ان کی صفائی کی بھی سنیں، ہمارے یہاں ایک گورا فیملی رہتی تھی ، جنکے بچے بھی اسی سکول میں پڑھتے تھے جس سکول میں میں پڑھتا تھا ، تو ان لوگوں کا ایک گروہ بنا ہوا تھا دوستوں کا جو ہر وقت ساتھ ہی ہوتے تھے ، ان میں یہ گورا فیملی کا بیٹا اور بیٹی بھی شامل تھے ، گو کہ میں ایک الگ تھلگ رہنے والا اور مجمع سے دور رہنے والا انسان ہوں لیکن میرا ایک دوست اس گروہ کا حصہ تھا اسکی وجہ سے مجھے بھی وہ لوگ نہ صرف جانتے تھے بلکہ وہ دوست مجھے بھی اکثر گھسیٹ لیا کرتا تھا ، ایک دن کسی کام کے لیے انکے اپارٹمنٹ جانا پڑا گو کہ میں اندر نہیں گیا تھا لیکن بدبو اتنی زیادہ تھی کے اپارٹمنٹ کے باہر بھی کھڑا ہونا دشوار تھا ، اسکو نہ صرف میں نے بلکہ اس دوست نے بھی شدت سے محسوس کیا ۔
اسی طرح چند دن پہلے میں ، اسلم اور وجیہ الدین صاحب شوارما کھانے گئے ، یہاں زیادہ تر چھوٹی موٹی کھانے کی دکانوں میں سیلف سروس ہوتی ہے یعنی آپ اپنا کھانا خود کاونٹر سے اٹھائیں اور بعد میں اپنا ٹیبل بھی صاف کر کے جائیں ، ہم لوگ اپنا کھانا ایک ٹیبل پر بیٹھ کر کھا رہے تھے ہمارے سامنے والے ٹیبل پر ایک گورا جوڑا بیٹھا تھا ہم لوگ کھانا کھا کر ٹیبل صاف کر کے اٹھے تو دیکھا وہ دنوں غائب تھے اور انکے ٹیبل پر گند ویسے کا ویسے ہی پڑا تھا ، میں نے اسلم کی توجہ اس طرف دلائی اور کھا دیکھو یہ ہیں وہ گورے جنکی ہمیں مثالیں دی جاتی ہیں ۔
کافروں کی صفائی ستھرائی کی کہانیاں بھی عجیب ہیں ، چند دن پہلے ہماری دکان میں ایک کالا بچہ کچھ دن کام کرتا رہا جسکا نام شان تھا ، ایک دن کہنے لگا کہ مجھے واش روم استعمال کرنے کی ضرورت ہے لیکن یہاں کا واش روم ایسا ہے کہ استعمال کرنے کو دل نہیں مانتا ۔
شان: تم تو ویسے ہی ادھر کا کچھ استعمال نہیں کرتے اسی لیے تمہیں کچھ اندازہ نہیں۔
میں: میں گھر کے علاوہ کہیں اور واش روم استعمال کرنے سے حتیٰ الامکان پرہیز کرتا ہوں
شان: تو تم سکول میں بھی نہیں کرتے تھے ؟
میں: مجھے سکول میں کبھی واش روم استعمال کرنا یاد نہیں سواے ایک دو دفعہ کے
شان: ہاں ، میرا بھی یہ ہی مسئلہ ہے وہ بہت گندے اور بدبودار ہوتے ہیں ۔
واش روم سے مجھے ایک اور کہانی یاد آگئی یہاں ہر جگہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے والا فلش سسٹم بنا ہوتا ہے لیکن ہمارے کالج کے ایک واش روم میں وہ بلکل دروازے کے سامنے تھا ، کہ اگر کوی دروزا کھول دے تو آپ دیکھ سکتے تھے ۔ ایک دن کلاس کے بعد ہم جا رہے تھے کہ راستے میں ایک لڑکے نے روک لیا ، تو ہماری کلاس کے بہت سے لڑکے واش روم استعمال کرنے بھی جا رہے تھے ایک لڑکا باہر نکلا تو پیچھے سے کسی نے اسکو آواز دی اور وہ دروازے کے درمیان ہی کھڑا بات کرنے لگ گیا ، اب میری نظر سامنے پڑی تو جو صاحب پیشاب کر رہے تھے انہوں نے فارغ ہو کر اپنی پینٹ کی زپ بند کرنے کے بعد ہاتھ دھونے کی بھی زحمت گوارا نی کی اور ایسے ہی باہر آگئے اس کے بعد سے میں ہر کورین لڑکے سے ہاتھ ملاتے ہوے ہچکچایا ۔
مجھے پاکستانیوں کی یہ بات سمجھ نی آتی کہ وہ کافروں کو کس بنیاد پر مسلمانوں سے اچھا کہہ دیتے ہیں ؟؟؟ یہ کافر لوگ زنا بھی کرتے ہیں ، شراب بھی پیتے ہیں، حرام کی اولاد بھی پیدا کرتے ہیں   اور جہاں کی گندی گندی حرکتیں ہیں جو یہ کرتے ہیں ، اسکے باوجود بھی یہ ایک اہلِ ایمان سے کیسے اچھے ہو سکتے ہیں ؟؟؟؟ آپ خود سوچیں ایک شخص جو اپنی مقررہ سزا پر کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت میں چلا جائے گا اور ہمشیہ ہمیشہ کی کامیابی اسکی منتظر ہو گی وہ کیسے ایک ایسے شخص سے اچھا ہو سکتا ہے جو ہمشیہ ہمیشہ سے ناکام ہو ؟؟؟

16 comments:

  1. بہت خوب ....میرے خیال میں گوروں کی کامیابی کی وجہ اتحاد، قومی سوچ اور کوالٹی لیڈرشپ پر انکا اصرار ہے.

    ReplyDelete
  2. بہت اچھی تحریر ہے ، آپ نے تصویر کا وہ رخ دیکھایا ہے جو ہمارے ہاں کے لوگ عموماََ نہیں دیکھتے ، مگر آخر میں آپ سے تھوڑی چوک ہو گئی ، حضرت علی (رض) کا قول ہے ، معاشرہ کفر پر قائم رہ سکتے ہے ، ناانصافی پر نہیں ، ہمارے اور انکے معاشرے میں فرق صرف انصاف کا ہے ، آپ نے انکی ظاہری حالت تو بیان کی ، مگر یہ بھول گئے کہ وہ لوگ عام طور پر سچ بولتے ہیں ، اور رہی بات شدت پسندی کی تو بھائی ہم سے زیادہ ہیں وہ ، ناروے کا وقعٰی سب کے سامنے ہے
    آپ نے ان مسلمانوں کا ذکر کیا ہے ، جن کی زندگی صرف ڈالروں کے پیچھے گھومتی ہے ، مگر اصل مسلمان وہ ہیں جن کی وجہ سے ان کافر معاشروں میں حلال فوڈ کا بزنس دن بدن ترقی کر رہا ہے ، ابھی پچھلے دنوں کی بات ہے جب ہالینڈ نے ذبیحے پر پابندی لگائی ، اور واپس بھی لی ، وجہ تھی یہودیوں اور مسلمانوں کا احتجاج ۔ ۔ خیر یہ تو تصویر کا ایک اور رُخ ہے ، ویسے ایک بات بالکل عجیب ہے ، جب میں امارات میں تھا میرے ساتھ زیادہ تر غیر مسلم کام کرتے تھے ، اور صرف مجھے اور میرے ایک دوست عمران کو ان سے بو آتی تھی ، جب کہ باقی تمام مسلمانوں کو نہیں آتی تھی ، پہلے سوچا کہ نیا ہے مگر دس سال بعد بھی ایسا ہی رہا ، حتہ کہ وہ لوگ روز نہاتے تھے اور قیمتی پرفیوم بھی استعمال کرتے تھے مگر انکی بدبو نہیں جاتی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر بہت سارے مسلمانوں کو نہیں محسوس ہوتی تھی ۔ ۔ ۔ مگر اتنا اضافہ ضرور کروں گا کہ وہ لوگ جیسے بھی بدبودار تھے ، مگر دل انکے بہت صاف تھے ۔ ۔ ۔ ۔۔ کم سے کم مسلمانوں سے بہت بہتر ۔ ۔ ۔ ۔۔

    ReplyDelete
  3. ہم آپ کی تحریر سے اس حد تک متعفق ہیں کہ انگریزوں میں اخلاقی برائیاں اور اطور میں کمزوریاں ہیں

    ReplyDelete
  4. آپ سے سو فیصد متفق ہوں۔
    لیکن کیا کریں ۔۔۔۔ہم احساس کمتری کے مارے۔
    ہر چمکتی شے کو سونا سمجھتے ہیں۔
    باہر باہر سے ٹیپ ٹاپ
    اندروں خانہ خراب

    ReplyDelete
  5. صرف جواد خان اور اظہر الحق نے صحیح جڑ پکڑی ہے!!!!

    Abdullah

    ReplyDelete
  6. جس بد بو کا اظہر الحق صاحب نے ذکر کیا اُسے ہمارے ایک محترم اُستاد "بُوئے کُفر " کے نام سے پکارا کرتے تھے۔ میں نے بھی بعض کافروں میں یہ بُو محسوس کی۔
    اِسی بُوئے کفر کے حوالے سے ایک مشہور واقعہ بھی بیان کرتا چلوںَ
    تقسیم ہند سے قبل جسٹس شادی لال لاہور ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تھا۔ وہ ایک بڑا متعصب شخص تھا اور اسی نے حضرت علامہ اقبال کو ان کی بے پناہ قانونی قابلیت کے باوجود لاہور ہائیکورٹ کا جج نہ بننے دیا۔
    جب اس جج کا دیہانت ہو گیا تو اسکے فورا بعد اُس کی بیوہ نے اسلام قبول کر لیا۔ اس پر اعلیٰ ہندو حلقوں میں ایک تہلکہ سا مچ گیا۔
    جب اس بی بی سے پوچھا گیا کہ آخر تمھیں اسلام میں کیا خوبیاں نظر آئیں جو اپنا آبائی دھرم چھوڑ کر اسے اختیار کر لیا۔ موصوفہ نے اسلام کی دیگر خوبیوں کے علاوہ مسلمانوں اور کافروں میں ایک خاص فرق کا بھی تذکرہ کیا۔ اس نے کہا کہ آنجہانی شادی لال کے اعلیٰ عہدے کی وجہ سے ہمرے بڑے بڑے راجوں مہاراجوں اور اعلیٰ انگریز افسروں سے بڑے قریبی تعلقات تھے۔ اکثر پارٹیاں ہوتی تھیںَ اس میل جول کے دوران میں میں نے محسوس کیا کہ ان سب کافروں کے بدنوں سے ایک مخصوص بد بُو آتی ہے حالانکہ وہ غسل اشنان وغیرہ کا خاص اہتمام کرتے تھے اور بہترین پرفیومز بھی استعمال کرتے تھے۔ اسکے باوجود یہ بد بُو دور نہ ہوتی تھی۔
    اس کے برعکس جب میں اپنے ہاں کام کرنے والی مسلمان نوکرانیوں اور دیگر ملازموں کا جائزہ لیتی تو کام کاج کی مجبوریوں کی بنا پر بھہت میلا کچیلا ہونے لے باوجود اُن میں سے ایسی کسی بد بو کا احساس نہ ہوتا۔ اس پر اسلام کی حقانیت مجھ پر مزید واضح ہو گئے کہ یقینا یہ کلمے کی برکت ہے جس کی وجہ سے اس چھوٹے طبقے کے مسلمانوں میں سے بھی یہ بد بو نہیں آتی۔
    علی

    ReplyDelete
  7. ارسلان، ڈاکٹر جواد صاحب اور میرے فیورٹ بلاگر جناب اظہار الحق کے تبصروں کے بعد کچھ کہنے کو نہیں رہ جاتا۔۔۔

    ہم مسلمان بے شک "صفائی کو نصف ایمان" بنائے بیٹھے ہیں لیکن اخلاقی حد تک حد درجہ دیوالیہ ہو چکے ہیں۔۔۔ اگر ہم اپنے اخلاقیات کو پچاس فیصد ہی درست کر لیں تو اللہ نے ہم اتنی عقل ضرور دی ہے کہ انگریزوں کی کامیابی کا مقابلہ کر سکیں۔۔۔

    انگریزوں نے اپنی محنت ظاہری صفائی، اخلاقیات اور کامیابی پر صرف کر دی۔۔۔ گھر کے اندر وہ جو بھی ہیں، ان سے ان کو کوئی زیادہ غرض نہیں۔۔۔ گھر کے باہر انہوں نے پھول بھی سجا رکھے ہیں اور ماحول بھی ستھرا رکھا ہے۔۔۔

    انگریز اپنی ایمانداری اور محنت کی لگن سے آگے نکل گئے اور ہم بیٹھے رہے صفائی کا باجا بجاتے۔۔۔

    ReplyDelete
  8. میری تو سمجھہ یہ بات نہیں آتی کہ ہم اخلاقی طور پر ان سے کیسے بہتر ہیں، جو کام وہ سر عام کرتے ہیں وہ ہی سب کام ہمارے معاشرے میں چوری چھپے ہوتے ہیں اور کئی مسلم ممالک میں تو سر عام ہی ہوتے ہیں، دبئی کی مثال سب کے سامنے ہے، ایک غلط فہمی اور ہے کہ ہم نے اخلاقیات کو محض شراب نوشی اور عریانیت سے وابسطہ کردیا ہے، ارے بھائی قانون پر عمل کرنا بھی اخلاقیات کے زمرے میں ہی آتا ہے، کسی بھی قوم کی اخلاقی حالت جاننے کے لئیے تو اتنا ہی کافی ہے کے اس کے ٹریفک سگنلز پر کھڑے ہوکر مشاہدہ کرلو اندازہ ہو جائے گا کے اس قوم کی اخلاقی پستی کی کیا حالت ہے، ان کے ہاں ہر خاص و عام قانون کا احترام کرتا ہے جبکہ ہمارے ہاں کوئی ایک بھی ایسا پاکستانی نہیں جو کسی نا کسی صورت ہر روز قانون شکنی نہ کر رہا ہو، غریب سے لے کر امیر تک ہر شخص نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق قانون کو رنڈی بنا کے رکھا ہوا ہے، جسکی حیثیت دس روپے کی ہے وہ دس روپے دے کر اس کے ساتھہ زنا بلجبر کر رہا ہے اور جسکی حیثیت دس لاکھہ کی ہے وہ دس لاکھہ دے کر اس کے ساتھہ زنا بلجبر کر رہا ہے۔ رہی بات شراب اور زنا کاری کی تو وہ تو مسلم ممالک میں بھی ہوتے ہیں، کہیں کھلے اور کہیں ڈھکے چھپے، شراب تو سعودیہ عرب میں بھی با آسانی دستیاب ہے۔ وہ لوگ زنا شخصی آذادی کے نام پر کررہے ہیں تو ہم کونسے کم ہیں ان سے، ونی اور کاری ہمارے ہاں کیا جاتا ہے، انتقام لینے کے لئیے عورتوں کے سر عام برہنہ کر کے ہمارے ہاں پھرایا جاتا ہے، پانچ پانچ سال کی معصوم بچیوں کے ساتھہ ہمارے ہاں زنا کاری کی جاتی ہے، شراب، ٹھرا، ادھا پوا، بمباٹ، یہ سب کون پی رہا ہے؟ یہ کون لوگ ہیں جو زہریلی شراب پی کر آئے دن مرے پڑے ہوتے ہیں؟۔ اخلاقیات کا بے کار کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ہی کر رہے ہیں یہ سب۔ وہ پھر بھی ہم سے بہتر ہیں کے جو کر رہے ہیں سر عام کر رہے ہیں دنیا سے چھپ کر نہیں کر رہے، ہم تو منافق ہیں کے کام سارے وہ ہی کر رہے ہیں مگر چھپ کر اور دنیا کے آگے پارسہ بنتے ہیں، نہ صرف عوام بلکے مسلم ممالک کے حکمران تک ایک نمبر کے عیاش ہیں، یہ سولہ سترہ سال کی معصوم لڑکیاں عرب ممالک سے شیخ کیا انہیں حچ کروانے کے لئیے لے کر جاتے ہیں ؟ کونسا ایسا عرب حکمران ہے جسکے حرم میں سو دو سو بیویوں نہیں ہیں۔ نکاح نامے کو زنا کا سرٹیفکٹ بنا کے رکھا ہوا ہے ان لوگوں نے، پھر بھی یہ بہیودہ پروپگنڈا کے ہم سب سے عظیم ہیں ہم جنت کے حقدار ہیں، کسے جنت میں جانا ہے اور کسے جہنم میں یہ اللہ کا کام ہے اللہ پر ہی چھوڑ دو بھائی، اور دوسروں کی اخلاقیات پر انگلیاں اٹھانے سے پہلے اپنے گریبانوں میں جھانک لو کے ہم مسلمان کیا کر رہے ہیں۔

    ReplyDelete
  9. میرا کاشف یحییٰ صاحب (فکرِ پاکستان) سے ایک سوال ہے۔
    فی الحال تو ہم لوگ نہ پوری طرح اسلام پر ہیں نہ ہی انگریزوں جیسے۔
    ہمارے سامنے یہ دو، اور کئی دوسرے ممکنہ راستے بھی موجود ہیں۔
    تو ایسے میں ہمیں کس راستے کا انتخاب کرنا چاہیے؟ کس میں ہمارا زیادہ فائدہ ہے؟
    اسلام میں؟
    مغربیت میں؟
    کمیونزم میں؟
    یا کسی اور نظام میں؟
    براہِ مہربانی واضح جواب دیجیے گا تاکہ مجھے اندازہ ہو کہ آپ کے دماغ میں آخر چل کیا رہا ہے۔
    شکریہ ویری مچ۔

    ReplyDelete
  10. کاشف یحییٰ صاحب یہ بھی بتاتے جائیں کہ یہ جن بڑے بڑے قانون شکنوں، شراب نوشوں، بدکاروں، اور وغیرہ وغیرہ لوگوں کا انہوں نے ذکر کیا ہے، ان کے خیال میں ان کی فی صد شرح کیا ہوگی۔ اور کیا انہیں عام مسلمان عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں یا نفرت سے؟ اور کیا ان کے خیال میں یہ لوگ مسلمان ہونے کی وجہ سے ایسے ہیں یا مسلمانی کو چھوڑ دینے کی وجہ سے؟
    براہِ مہربانی واضح جوابات دیجیے گا تاکہ میرے اس کنفیوژن کا کوئی حل نکلے کہ آپ کے اصل خیالات کیا ہیں۔ کیونکہ جو بھی آپ کی لڑائیاں آج تک دیکھی ہیں (اگرچہ زیادہ تر سے بچ بچا کر گزر جاتا ہوں)، ان میں یہ اندازہ لگانا بہت مشکل ہوتا ہے کہ آپ بنیادی طور پر کیا ذہن میں رکھتے ہوئے یہ سب کچھ لکھتے ہیں۔

    ایک ہیہ بھی گزارش کروں گا کہ ہر ایک کو اپنا دشمن سمجھنا چھوڑ دیں۔ ورنہ آپ اپنی بات ٹھیک سے سمجھا نہیں پائیں گے۔
    شکریہ ویری مچ۔

    ReplyDelete
  11. خالد حمیدJuly 24, 2011 at 10:51 PM

    مسلمان کچھ بھی کرلے لیکن میں نے ایک بات دیکھی ہے کہ اسے یہ ضرور خیال رہتا ہے کہ یار یہ جو میں نے کیا ہے گناہ ہے اور اس پر مجھے ضرور بالضرور سزا بھی ملے گی۔
    شاید یہی وجہ ہو کہ آج کا مسلمان ان کے مقابلے میں اچھا ہے۔
    اور یہ بات تو واقعی کہنے والی ہے کہ معاشرہ صرف انصاف کی بنیاد مضبوط ہونے سے ہی اچھا بن سکتا ہے۔ اور مغرب میں یہی موجود ہے۔

    ReplyDelete
  12. ًمحمد سعد صاحب، یہ جواب میں نے اپنے بلاگ پر کئے گئے تبصرے کے جواب میں دیا ہے پہلے تو آپ اسے پڑھہ لیں۔ غلام علی مرتضیٰ صاحب، تفصیلی تجزئیے کا بہت بہت شکریہ میرے نزیک آپکا شمار بھی ان لوگوں میں ہے جنکے تجزئیے سے مجھے بہت کچھہ سیکھنے کو ملتا ہے۔ ممکن ہے آپ جہاں سے دیکھہ رہے ہیں وہاں سے یہ سب ایسا ہی ہو جیسا آپ نے فرمایا۔ ہر شخص کا اپنا زاویہ نظر ہوتا ہے۔ آپ نے مغرب کی جس تنگ نظری کا ذکر کیا ہے ان میں زیادہ تر کا تعلق مسلمان اور کفار کے درمیان ازل سے چلی آرہی دشمنی کا سے ہے، اسلئیے میں اکژ کہتا ہوں کے محبت میں جنگ ہوتی ہے لیکن جنگ میں محبت نہیں ہوتی۔ دنیا میں جنگ کے کوئی اصول نہیں ہوتے مگر واحد مذہب اسلام ہے جو جنگ تک کے اصول وضع کرتا ہے، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے کے، جنگ کے دوران بچوں کو عورتوں کو نہیں مارو کے معزورں کو نہیں مارو گے، کھیت میں کام کرتے لوگوں کو نقصان نہیں پہنچاو گے، درختوں اور جانوروں کے نقصان نہیں پہنچاو گے۔ یہ الگ بات ہے کے آج کے پاکستانی مسلمان جہادی یہ ہی سب کچھہ الٹا مسلمانوں کے ساتھہ ہی کر رہے ہیں۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کے یہ اصول کفار نے نہیں اپنائے انہوں نے اسلام سے بہت کچھہ لیا لیکن صرف اور صرف اپنے مفاد کے لئیے، معاملہ یہ ہے کے آج مغرب اور امریکہ دنیا بھر میں جو بھی بدمعاشی مچا رہے ہیں میں اسے اسطرح دیکھتا ہوں کے وہ اپنی ازلی دشمنی نباہ رہے ہیں تو وہ اپنی قوم اور اپنے وطن کے لئیے ٹھیک کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کے ہم اسکے جواب میں کیا کر رہے ہیں؟ وہ ہمارے ہی لوگ خرید کر ہم پر ہی خود کش حملے کروا رہے ہیں، کبھی ایسا کیوں نہیں ہوا کے کسی مسلم ملک نے کسی اسرائیلی یہودی کو خرید کر اسرائیل پر ہی خود کش حملہ کروایا ہو؟ ظاہر ہے سادہ سا جواب ہے کے وہ لوگ اپنے وطن سے غداری نہیں کرتے وہ لوگ بکتے نہیں ہیں، پیسے کے لئیے بکنے کا کام ہم لوگوں نے سنبھالہ ہوا ہے۔ اگر وہ اپنی دشمنی نبھانے کے لئیے علم ٹیکنالوجی میں آگے جارہے ہیں تو یہ کام ہم کیوں نہیں کر رہے؟۔ اسلئیے انہیں برا بھلا کہنے سے کہیں بہتر ہے کے ہم خود کو جہالت سے نکال کر علم کی روشنی کو اپنائیں وہ علم جو کے کبھی ہماری میراث تھی، جسکے لئیے حضور پاک نے فرمایا کے علم مومن کی کھوئی ہوئی میراث ہے جہاں سے ملے لو۔ جس دن ہم انکے برابر آجائیں گے اس دن یہ سارے گلے شکوئے خود بہ خود ہی دم توڑ جائیں گے، پھر کسی کی ہمت نہیں ہوگی مسلم ممالک کو گھنٹا بنانے کی کے جو آیا بجا کے چلا گیا۔ آپ نے جو محمد علی جوہر مرحوم کی مثال دی ہے مجھے اس سے بلکل بھی اختلاف نہیں ہے لیکن معاملہ کچھہ یوں ہے کے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی فرمان موجود ہیں،ان فرمانوں کا مفہوم کچھہ اسطرح سے ہے کہ جو ایسا کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے جو ویسا کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو خود پیٹ پھر کر کھائے اور اسکا پڑوسی بھوکا سو جائے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ جسکا پڑوسی اسکے شر سے محفوظ نہیں وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو کم تولے وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو جھوٹ بولے دغا دے وہ ہم میں سے نہیں ہے، ایسے اور بہت فرمان ہیں جو آپ مجھہ سے یقیناَ بہتر طور پر جانتے ہونگے۔ یہ بھی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی فرمان ہے کے، مومن اپنے عصر سے ہم آہنگ ہوتا ہے، تو آپ خود تجزیہ کر لیجئیے کے آج کا مومن موجودہ عصر سے کس حد تک ہم آہنگ ہے۔ جدید علوم دنیا کو دینا تو بہت دور کی بات ہے ہمیں تو جدید علوم کے نام تک نہیں پتہ آج۔ اب یہ فیصلہ آپ پر چھوڑا کے موجودہ پاکستانیوں کی کارستانیوں کو دیکھتے ہوئے محمد علی جوہر صاحب کی بات مانی جائے یا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانوں کو مانا جائے۔ نیت نہ آپکی غلط ہے نا میری، میرا ماننا بس اتنا سا ہے کے مسلمان آخر کب تک سلطنت عثمانیہ کو روتے رہیں گے پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا ہے وہ ہمارا ماضی تھا ہم کبھی طاقتور تھے ہمارا کبھی علم سے رشتہ تھا، اس وقت ہم دنیا کو لیڈ کر رہے تھے، جب سے ہم نے علم سے رشتہ توڑا اور جہالت کو اپنایا اس وقت سے ہماری یہ حالت ہے اور اس وقت تک رہے گی جب تک دوبارہ علم کی طرف نہیں لوٹیں گے۔ اور یہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک ہم اپنے شاندار ماضی سے نہیں نکلیں گے، آج کے زمینی حقائق کو کھلے دل سے تسلیم نہیں کریں گے، اپنی شکست قبول نہیں کریں گے۔ ہمیں ماننا ہوگا کے ہم اب وہ مسلمان نہیں رہے جو ہمارے اسلاف تھے،جب ہم اپنی خامیوں کو مانیں گے ہی نہیں تو کریکشن کیسے کریں گے؟ جب میں یہ ماننے کو ہی تیار نہیں کے مجھے کوئی مرض ہے تو میں ڈاکڑ کے پاس کیوں جاوں گا؟۔ بحرحال میرا مقصد زمینی حقائق سے آگاہی ہوتا ہے اگر اس حقیقت سے اس ننگے سچ سے کسی کو تکلیف پہنچتی ہے تو میں معزرت خواہ ہوں۔

    ReplyDelete
  13. محمد سعد صاحب، آپ نے سوال بہت اچھا کیا ہے بہت خوشی ہوئی مجھے آپ کے سوال سے۔ اس میں تو دو رائے ہو ہی نہیں سکتیں کے مسلمانوں کی نجات اور دائمی کامیابی صرف اور صرف اسلام میں پوشیدہ ہے۔
    جو سوال آپ نے کیا ہے اسکے جواب کے لئیے موضوع سے تھوڑا سا ہٹنا پڑے گا، ممکن ہے آپ نے سلطنت عثمانیہ کے بارے میں تفصیل سے پڑھا ہوگا، کیسے قائم ہوئی تھی مسلمانوں کی اتنی بڑی سلطنت اور پھر کیسے مسلمان دنیا کو لیڈ کر رہے تھے؟ وہ کونسے عوامل تھے جنکی وجہ سے مسلمان ساری دنیا میں اعلیٰ و عرفہ مانے جاتے تھے؟ سائنس کی بنیاد کس نے رکھی؟ دنیا بھر سے لوگ تہذیب اور علم سیکھنے کیونکر اسپین آیا کرتے تھے؟ جب سارا یورپ جہالت کے اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا اس وقت غرناطہ علم و ادب کا مرکز کیونکر تھا؟ اور پھر وہ کیا عوامل تھے جنکی وجہ سے یہ سب کچھہ الٹ کر رہ گیا؟ جس جگہ کل ہم تھے آج وہاں یہ لوگ کیسے آگئے اور ہم ان سے اتنا پیچھے کیوں رہ گئے؟ ان سب کی تفصیل میں جاونگا تو پھر بہت سارے لوگوں کی دم پر پاوں آجائے گا اسلئیے بہتر ہوگا آپ خود ہی تحقیق کرلیں سلطنت عثمانیہ کے زوال کی۔ جب تک مسلمان کا رشتہ علم سے جڑا رہا وہ اپر ہینڈ رہا جس دن ہم نے علم سے اپنا رشتہ توڑا معاملات وہیں سے بگڑنے شروع ہوگئے۔ سلطنت عثمانیہ قائم کرنے والے اور اسے کامیابی سے چلانے والے لوگ وہ لوگ تھے جو قرآن کو اور اسلام کے مغز کو سمجھتے تھے، وہ جانتے تھے کے قرآن سینکڑوں جگہ تدبر، تفکر، تسخیر کائینات، اور غور و فکر پر زور کیوں دے رہا ہے، یہ وہ ہی مسلمان تھے جنہوں نے قرآن کے اس پیغام کو ٹھیک سے سمجھا اور سائنس کی بنیاد ڈالی۔ جب تک مسلمان قرآن کے اس پیغام کو سمجھہ کر چلتے رہے کامیابیاں انکے قدم چومتی رہیں، سطنت عثمانیہ کے زوال کے اسباب میں سب سے بڑا عنصر ہی تحقیق اور علم سے دوری کا تھا، دین کی غلط تشریحات کی گئیں، دین کو محض عبادات تک محدود کردیا گیا، میرا آپ سے ایک سوال ہے، بات کو سمجھنے کی کوشش کیجئیے گا، نماز فرض ہے اس پر کسی مسلمان کو اختلاف نہیں ہوسکتا، اسلام نے اگر نماز کا حکم دیا، روزے کا حکم دیا اور دوسری عبادات کا حکم دیا تو وہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے علم حاصل کرنے کا بھی حکم دیا، وہیں قرآن نے تسخیر کائنات کا بھی حکم دیا، میرا سوال یہ ہے کے ہم نے دین سے نماز روزے اور دوسری عبادات کا حکم تو لے لیا، مگر تسخیر کائینات والے حکم کو کیوں چھوڑ دیا ہم نے ؟ آج جسطرح نماز روزے یا اور دوسری عبادات کی تبلیغ کی جاتی ہے اس ہی طرح تسخیر کائنات کی تبلیغ کیوں نہیں کی جاتی ؟ کیا یہ قرآن کا حکم نہیں ہے؟ اللہ فرما رہے ہیں کے ہم نے ایسی کوئی بیماری نہیں دی جسکا علاج نہ اتارا ہو ڈھونڈو تلاش کرو، تو یہ ڈھونڈنے اور تلاش کرنے کا کام کیا اسلام سے ہٹ کر ہے ؟ میرا ماننا یہ ہے کے اس حکم کی تکمیل کے بغیر قرآن کا پورا پیکچ ہی مکمل نہیں ہوتا، ہم نے سارے آسان کام اپنا لئیے مگر یہ ڈھونڈنے تلاش کرنے تدبر کرنے تفکر کرنے، تسخیر کائینات والے احکامات کو کفار کے لئیے کیوں چھوڑ دیا؟

    ReplyDelete
  14. یا تو کھل کر کہا جائے کے ہم اسے قرآن کا حکم نہیں مانتے تو پھر تو بات ہی ختم ہوجائے گی سارا جھگڑا ہی نمٹ جائے گا۔ المیہ یہ ہے کے مانتے بھی ہیں مگر اسے دنیاوی علم کہہ کر اس پر لعنت بھیج دیتے ہیں، کفار نے قرآن کے اس حکم کو لے لیا اللہ نے قرآن میں فرمایا کے میں رب عالمین ہوں، کفار تحقیق میں لگ گئے کے اس عالم کے علاوہ بھی کئی عالم ہیں اور وہ نکل پڑے دوسرے عالموں کی تلاش میں، یہ کام ہم نے کیوں نہیں کیا؟ اسلام ضابطہ حیات ہے اور آج حیات پر کوئی بات ہی نہیں کرتا، ہر تبلیغ ہر اجتماع ہر واعظ میں ہمیں بعد از مرگ کی زندگی کے بارے میں ہی بتایا جاتا ہے اللہ نے دنیا کو آخرت کی کھیتی بتایا ہے اور ہم دنیا کی بات ہی نہیں کرتے، دنیا کے سارے علوم ہم نے کفار کے لئیے چھوڑ دیئے اور اسلام کو محدود کر دیا صرف اور صرف عبادات تک۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کے تسخیر کائینات تو خود قرآن کا حکم ہے یہ خود ایک بہت بڑی عبادت ہے مگر اس عبادت کا کہیں کوئی ذکر سنا آپ نے؟ کہیں کوئی عمل ہوتے ہوئے دیکھا آپ نے؟ درس نظامی پر پہلے بھی بات ہوچکی ہے پھر وہی بات آجائے گی کے ہم نے اپنے مدرسوں کے نظام میں نماز روزہ حافظ قرآن، احدیث کا علم یہ سب تو رکھا مگر تسخیر کائینات کے والے قرآنی حکم کو اس میں شامل کیوں نہیں کیا؟ کیا یہ دین کا حصہ نہیں ہے؟ کیا قرآن کے اس حکم کی تکمیل عبادت نہیں ہے؟ کیا یہ اسلام کے مکمل پیکچ کا حصہ نہیں ہے؟۔ جو ہم نے چھوڑا وہ کفار نے اپنا لیا تو آج وہ ستاروں پہ کمند ڈال رہے ہیں، جدید علوم ایجاد کر رہے ہیں، نئے نئے عالم تلاش کر رہے ہیں، تسخیر کائینات کر رہے ہیں، غور کریں قرآن کا یہ حکم اپنانے سے وہ کہاں پہنچ گئے اور ہم قرآن کے اس حکم کو چھوڑتے ہی کہاں سے کہاں آگئے۔ یہ اس ہی حکم کی تکمیل کا نتیجہ ہے کے وہ آج پوری دنیا کو ڈکٹیٹ کر رہے ہیں اور ہم جاہلوں کی طرح سے بت بنے اس ترقی کو دیکھہ رہے ہیں اور حیران ہوتے ہیں۔ یہ سب کام ہمارے کرنے کے تھے جو آج وہ کر رہے ہیں اگر ہم نے یہ سب کام کئے ہوتے تو امریکہ کی جگہ آج کوئی مسلم ملک سپر پاور ہوتا اور مسلمان پوری دنیا کو لیڈ کر رہے ہوتے، آج مسلمان پوری دنیا میں پٹ رہا ہے تو اپنی جہالت اور علم سے دوری کی وجہ سے۔ ہمارے پاس وسائل کی کمی کا بہانہ ہے مگر عرب ریاستوں کو کہاں فٹ کریں گے؟ وہ کیا بہانہ بنائیں گے یہ سب نہ کرنے کا انکے پاس تو اللہ نے سب سے زیادہ معدنیات دی ہیں سونے کے پہاڑ تک دئیے ہیں وہ کیوں پیچھے ہیں؟ وہ اسطرف کیوں نہیں آتے؟ کیا قرآن کا یہ حکم صرف کفار کے لئیے ہے؟۔ بحرحال مختصر یہ کہ آج بھی دیر نہیں ہوئی ہے اگر آج بھی ہم مسلمان باقی عبادات پر عمل کرتے ہوئے قرآن کے اس حکم کی طرف آجائیں تو وہ دن دور نہیں جب اللہ ہمیں بھی سپر پاور بنا دیں گے، اللہ فرماتے ہیں کے ہم کسی کے رائی برابر عمل کو بھی ضائع نہیں کرتے، تو میرا اللہ انکے پہاڑ جیسے عمل کو کیسے رد کرسکتا ہے، انہیوں نے محنت کی ہے تو آج اللہ انہیں نواز رہا ہے یہ ہی محنت ہم کریں تو اللہ اس سے کہیں زیادہ نوازیں گے ہمیں یہ میرا ایمان ہے۔ امید ہے آپ تک میری بات کا مغز پہنچ گیا ہوگا۔ ( نوٹ۔ میری یہاں کہی ہوئی ہر بات آپ کسی بھی بڑے سے بڑے عالم کے سامنے رکھہ سکتے ہیں جو بھی عالم آپکی دسترس میں ہو انکے سامنے یہ سب باتیں ضرور رکھئیے گا اور جو بھی جواب ملے مجھے اس سے ضرور آگاہ کیجئیے گا، کیوں کے میں اپنے طور پر یہ سوال عالموں سے کر چکا ہوں اور وہ میری اس بات کو رد نہیں کر سکے مگر بھر بھی عمل ندارد۔

    ReplyDelete
  15. کاشف یحییٰ صاحب، آپ کی باتوں میں صرف ایک چھوٹا سا اضافہ کرنا چاہوں گا کہ جس نوعیت کی طاقت اور ترقی آپ مسلمانوں کے لیے چاہتے ہیں، اس کے راستے میں نہ صرف احساسِ برتری، بلکہ احساسِ کمتری بھی بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ دونوں سے نجات حاصل کر کے اعتدال پر آنا ہوگا۔ آپ احساسِ برتری کی مخالفت کرتے ہیں تو ان صاحب نے احساسِ کمتری کی مخالفت کر دی۔ اب اس میں آپ کو مسئلہ کیا ہے؟

    ReplyDelete

Note: Only a member of this blog may post a comment.