Tuesday, July 12, 2011

دو ہفتوں بعد جِم جانے کی سرگُزشت قسط نمبر ایک

کینیڈا میں دو نوکریاں ایک ساتھ کرنا آپکو ایک مشین کی طرح مصروف بنا دیتا ہے ، بقول وجیہ الدین صاحب کے زندگی "کھوتے ورگی" ہو جاتی ہے ۔ دو ہفتے مسلسل ایک جاب سے دوسری جاب پر جانے سے میری زندگی بھی جدیدیت کے پیروکاروں کے بقول مشینی اور وجیہ الدین صاحب کے بقول کھوتے ورگی ہو گئی تھی ، ایسی زندگی میں ایک چیز جو مُجھے اور بھی اُداس کرتی تھی وہ جم سے غیر حاضری تھی ۔ میں دو ہفتوں سے مسلسل یہ ہی سوچ رہا تھا کہ اپنا جم کا اکاونٹ فریز کروا دینا چاہیے اور اس انتظار میں تھا کہ موبائل فون خرید کر ہی یہ گناہِ کبیرہ سر انجام دوں گا لیکن موبائل فون ملنے کے بعد بھی میرا دل "گُٹکوں گُٹکوں" کرتا تھا، لہذا اپنی کمزور طبیعت کے باعث میں جم میں فون کرنے کی  ہمت نہ کر سکا۔ پرسوں ایک نوکری سے دو دن کی چھُٹی ملتے ہی میں نے ارادہ کر لیا کہ کل جم جاوں گا لیکن اتوار کی رات میں دو بجے کے بعد ہی سو سکا تھا، مجھے اسکا اندازہ نہ ہوا کہ دن میں سخت نیند آئے گی وہ بھی بھوکے پیٹ ، اسی لیے میں نے اپنی جاب نمبر ایک ختم کرتے ہی عبداللہ کو فون کیا اور پوچھا کہ کھانے میں کیا ہے ؟ عبداللہ نے بریانی کی خوشخبری سنائی اور میں بے فکرا ہو کر صہیب کے گھر چل دیا جہاں سب موجود تھے ۔لیکن یہ دیکھ کر مجھے ہلکا سا غصہ آیا کہ ڈبے میں چار چمچ بریانی کے تھے ۔
میں : یار یہ کیا ہے ؟ اور نہیں ہے کیا ؟
عبداللہ : نہیں اتنی ہی ہے ۔
میں: یار تو مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا میں آتے ہوے لے آتا ، میں نے جم جانا تھا اتنی سی کھا کر جاوں گا ؟؟؟
عبداللہ : آئیں بائیں شائیں
میرا دل اُسی وقت ٹوٹ چُکا تھا اور جب کاشف نے میرے سوالوں کے جواب سے زیادہ ایک بکواس سی گیم کو اہمیت دی تو اُن ٹکڑوں کے بھی ٹوٹے ہو گئے، دِل تو میرا یہ ہی کیا تھا کہ یہ پلے سٹیشن تھری اُٹھا کر اس کے سر میں ماروں ، لیکن بقول فلمی شاعر" دِل تو ہے دِل ، دِل کا اعتبار کیا کیجیے"،  لہذا میں گھر کو چلا گیا ۔ کمپیوٹر پر بیٹھ کر احساس ہوا کہ نیند سخت آرہی ہے ، جبکہ میں کسی بھی صورت سونا نہیں چاہتا تھا، میری یہ عادت ہے کہ اگر دِن میں سو جاوں تو رات میں سونا مشکل ہو جاتا ہے اور ساری ترتیب برباد ہو جاتی ہے ۔ جِم جانے کا ارادہ میں بریانی کا ڈبہ دیکھ کر ہی ختم کر چُکا تھا ، اسکی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ جِم جانے سے کچھ دیر پہلے ہی کھائیں تو آپکا پیٹ بھاری ہوتا ہے اور ورزشیں کرتے وقت پیٹ میں درد ہوتا ہے ۔ دُکھتے ہوے پیٹ کے ساتھ ورزش کرنا کم سے کم میرے دِل گُردے کی بات تو نہیں۔ اسی لیے جِم جانے کی بجائے میں کمپیوٹر پر بور ہو ہو کر نیند مٹانے کے لیے شوارمے کی دُکان کی طرف نکل دیا۔ باہر دھوپ کافی گہری تھی ، شوارمے کی دُکان میں شوارما کھانے کے ساتھ ساتھ میرا دل کرتا تھا کہ ابھی اسکو ٹرے میں رکھ دوں اور ہاتھی اور بندر کی مکس آواز نکالتے ہوے اپنے بال نوچنا شروع کر دوں ، ایسا کرنے کی وجہ میرے پیچھے بیٹھیں ایرانی اور لبنانی آنٹٰیاں تھیں، جو اونچی اونچی آواز میں اپنے اپنے ایکسنٹ اور انگریزی میں باتیں کر رہی تھیں۔ اور اگر میں اپنے بال نوچتے نوچتے مرنے کے قریب ہو جاتا تو ضرور اپنے سر سے نکلنے والے خون سے ایک لائن لکھ کر اس خود کُشی کا قصور وار انہی دونوں کو ٹھہرا دیتا ۔
شوارما ختم کر کے باہر نکلا تو موُسم کافی سُہانا ہو چکا تھاسورج بادلوں کے پیچھے چھُپ چُکا تھا اور ہلکی ہلکی ٹھنڈٰی ہوا چلنے لگی تھی ، ایسے موُسم میں ، میں سائیکل کچھوے کی رفتار چلایا کرتا ہوں اسی لیے سپرائٹ کے کین کے ساتھ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کا مزا بھی صرف محسوس کیا جا سکتا ہے الفاظوں میں بیان کرنا کم سے کم  میرے لیے تو مُشکل ہے ۔
میری پہلی جاب پر حکومت کی طرف سے آنے والا "نیا بچہ" روز مجھ سے پوچھتا تھا کہ تمہاری گرل فرینڈ ہے ؟ کہاں ہے ؟ وغیرہ وغیرہ تو کل میں نے اُسکو تنگ آکر کہہ دیا کہ یار ہے تو کوی نہیں لیکن تم ایک ڈھونڈ دو ، اسنے پُر تجسس لہجے میں پوچھا
شین: بتاو تمہیں کس قسم کی لڑکیاں پسند ہیں؟
میں: یار یہ تو مجھے بھی پتا نہیں
شین: میرا مطلب ہے کہ گوری ، کالی (وہ خود بھی کالا ہے) ، چائنیز ، انڈین ، پاکستانی وغیرہ وغیرہ
میں: (اُسکو تپانے کی غرض سے) کالی
شین: ارے نہیں یار، واقعی ؟
میں: ہاں یار واقعی

گو کہ میں ایسی حرکتیں پہلے بھی کر چُکا تھا لیکن کسی کالے کے ساتھ یہ میرا پہلا تجربہ تھا ، میرا خیال تھا کہ وہ اس پر خوب تپے گا ، کالے کا تپنا کیسا ہوتا ہے جو لوگ کالوں کو جانتے ہیں وہ اس سے بخوبی واقف ہوں گے ۔ 

آگے کیا ہوا یہ جاننے کے لیے اگلی قسط کا انتظار کریں۔

Sunday, July 10, 2011

چھ جیبوں والی کالی پینٹ

جب کبھی ہم محبت کا لفظ سنتے ہیں تو ہم میں سے بہت سوں کے ذہن میں ہیر رانجھا ، لیلا مجنوں اور دیگر فلمی کہانیوں کے ہیرو اور ہیروئن یا اصلی زندگی میں ہونے والی اسی قسم کی کہانیایاں یا انکے کردار ذہن میں آجاتے ہیں۔ درحقیقت محبت چند احساسات کا نام ہے جو انسان کے کسی بھی چیز کے ساتھ جُڑے ہو سکتے ہیں اسکے لیے انسان کو ہونا ضروری نہیں، میری کالی پینٹ کے ساتھ جُڑا یہ کوی ایک واقعہ نہیں ہے بلکہ اس کے   ساتھ میری زندگی کے  اور بھی بہت سے واقعات جڑے ہیں جنہوں نے احساسات کی دنیا میں چند ایک کو جنم دیا اسی لیے بھی مجھے اپنی چھ جیبوں والی یہ کالی پینٹ بہت عزیز ہے ۔  مجھے کالے رنگ کے کپڑے پہننے کا شوق ہے لیکن اس پینٹ میں ایک خاص بات تھی جو مجھے ہمیشہ اسے پہننے پر مجبور رکھتی تھی ۔  اب یہ پینٹ میرے پاس نہیں ہے کیونکہ میری امی اس پینٹ سے کافی تنگ پڑ گئی تھیں ، میں اکثر مہینہ مہینہ ایک وہی پینٹ پہنے پھرتا رہتا تھا ، اس کے اوپر دیوار پر کرتے ہوے پینٹ کے دھبے لگ گئے میں  تب بھی اسکو پہننے سے باز نہیں آیا ، حتیٰ کے وہ گھٹنوں کے پاس سے پھٹ گئی میں پھر بھی امی کے ڈانٹنے پر یہ ہی کہا کرتا تھا کہ یہ سٹائل ہے اور فیشن ہے اور آخر کار ایک دن امی نے میری غیر موجودگی میں اُسکو کچرے کو "دان" کر دیا گو کہ ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا تھا لیکن دیگر واقعات کے برعکس  اس دن مجھے بہت افسوس ہوا ۔
کل میں اپنے دوست اسلم کے ساتھ جا کر "وال مارٹ" سے اسی سے ملتی جلتی چھ جیبوں والی کالی پینٹ لے کر آیا تو مجھے اُسکی بہت یاد آئی۔

Tuesday, July 5, 2011

جب بارش برستی ہے مجھے وہ یاد آتی ہے

جب بارش برستی ہے
مجھے وہ یاد آتی ہے

جیسے دھوپ کی کرنیں
اور شبنم مُسکراتی ہے
وہ میری یاد میں زندہ
میں اُسکی بات میں مُردہ

میں زندوں میں ہوں مُردہ
وہ مُجھکو یہ بتاتی ہے
جب ساون کے بادل تھے
وہ میرے ساتھ پھرتی تھی

اب مجھ پر دھوپ گہری ہے
وہ مُجھ سے دُور جاتی ہے
اب انکل ٹام تُم بچنا
کہ یہ دُنیا کمینی ہے

تمہارے ساتھ پھرتی ہے
کہ جب کلیاں مہکتی ہیں
اور جب کانٹے برستے ہیں
یہ تمکو چھوڑ جاتی ہے

عظیم شاعر و ادیب انکل ٹام

Monday, July 4, 2011

وہ ہنس کر ٹال دیتی ہے


میری ناراضگی پر جو مجھے راتوں جگاتی تھی
اپنے نرم ہاتھوں سے مجھے کھانا کھلاتی تھی

میرے گیلے بستر پر بھی اُسکو نیند آتی تھی
میں جب جاگ جاتا تھا وہ خود بھی جاگ جاتی تھی

 میں اُسکی آنکھ کی ٹھنڈک ہوں وہ مجھکو بتاتی تھی
وہ میرے لیے جنت ہے یہ بھی سُناتی تھی

اُسکے پیروں سے لپٹ کر بھی مجھے جو نیند آتی تھی
نہ وہ گدے پہ آتی تھی ، نہ بستر میں بھاتی تھی

مجھے جب چوٹ آتی تھی ، میں اُسکے پاس جاتا تھا
اپنی گود میں لے کر مجھے وہ چُپ کراتی تھی

میرے درد کے درماں کے لیے کہانی سُناتی تھی
جس میں بو بکر و عمر کی شجاعت کی داستانیں تھیں

میں جوش میں آکر پھر اُسکو یہ بتاتا تھا
مجھے بھی حیدرِ قرار جیسا جرار بننا ہے

مجھے فاوق جیسا ہی حکمران بننا ہے
مجھے وہ تھپتھپاتی تھی ، سینے سے لگاتی تھی

میں جب اُسکو ستاتا تھا ، مجھے وہ چپت لگاتی تھی
پھر یوں مُسکراتی تھی کہ میں بھی مُسکراتا تھا

وہ آج بھی اپنے مصلے پر ہی بیٹھی ہے
میں جب اسکو یہ بتاتا ہوں کہ میں اسکو ستاتا ہوں

وہ ہنس کر ٹال دیتی ہے ، وہ ہنس کر ٹال دیتی ہے


عظیم شاعر و ادیب انکل ٹام

Sunday, July 3, 2011

خیالِ یار کی بات نہ کر

پچھلے دن عمران بھای کی وال پر کمنٹو کمنٹی میں یار دوست مل کر بار بار خیالِ یار کا لفظ استمال رہے تھے ، یہ الفاظ میرے دماغ میں ایسے اٹکے کہ میں نے ان پر بونگی مار دی ۔ مُلاحظہ فرمائیں۔
خیالِ یار کی بات نہ کر،خیالِ یار نے تنگ کیا
اُسکے اقرار کی بات نہ کر ، جسکے پیار نے تنگ کیا
میں تو انتظار ہی کرتا رہا خیالِ یار میں بیٹھ کر
اُس یار کی بات نہ کر جسکے انتظار نے تنگ کیا
عظیم شاعر و ادیب انکل ٹام

Thursday, June 30, 2011

خون فوبیا، چوزہ فوبیا اور بچپن سے لڑکپن کی کچھ یادیں


ہو سکتا ہے کہ یہ کَٹر لکڑی کے ساتھ ساتھ میرا ہاتھ بھی کاٹ دے ، میرے یہ سوچتے سوچتے کَٹر میرے ہاتھ سے پھسلا اور لکڑی کو چیرتا ہوا میری شہادت کی انگلی پر ہلکا سا پِھر گیا ، انگلی سے نکلنے والا قطرہ دیکھ کر میرے منہ پر ناجانے کیوں ہلکی سی مُسکراہٹ آگئی ۔یہ کَٹر میں ویر ہاوس سے ہی لے آیا تھا ، اصل میں اسکو میں واپس آتے وقت اپنی جیب میں ہی بھول گیا تھا ، یہ اُن دنوں کی بات ہے جب گرمیوں کی چھُٹیوں میں مجھے ایک ویر ہاوس پر چند دن کی نوکری ملی تھی ، ڈبے کاٹنے کے لیے استعمال کرنے والا کٹر میں واپسی پر اپنی جیب میں ہی بھول گیا تھا ۔ گھر پہنچ کر دیکھا تو ثانی کا ایم ایس این پر آف لائن میسج تھا کہ کرِیک کے تیسرے پُل کے پاس چھ بجے ملو۔  میں نے جلدی جلدی کھانا کھایا ، میری سِکس پاکٹ بلیک پینٹ، جو اب ویر ہاوس میں کام کرنے کی وجہ سے گرد سے نہ صرف اَٹی ہوی تھی بلکہ اُسکا رنگ بھی بلیک سے براون ہو رہا تھا ۔  میرے بال بھی گرد سے اٹے ہوے تھے ، نیلے رنگ کی شرٹ بھی براونش ہو رہی تھی ، لیکن میرے پاس اِن چیزوں کے بارے میں سوچنے کا وقت نہیں تھا کیونکہ چھ بجنے میں کچھ ہی دیر رہ گئی تھی ۔ کھانے سے فارغ ہو کر میں نے اپنی سائیکل کو نکالا اور مِنی مارٹ کی طرف چل دیا جہاں سے رفلز کی چلی چیز خرید کر میرا ارادہ  کرِیک کی طرف  جانے کا تھا۔
 ابھی میں یہ ہی سوچ رہا تھا کہ کیا کروں  جب میں نے اچانک ایک خالص زنانہ چیخ سُنی ، اور یقیناً یہ ثانیہ کی طرف سے تھی ، میں سوچ رہا تھا کہ شاید وہ اس خرگوش کو دیکھنے میں کامیاب ہو گئی ہے جسکی وجہ سے وہ مجھے بھی اس اُونچی گھاس میں گھُما رہی ہے ۔ میں نے اپنے دائیں طرف دیکھا ثانیہ کی آنکھیں بہت گہری کھُلی ہوئی تھیں، اور اسنے اپنے دونوں ہاتھوں کو منہ پر رکھا ہوا تھا اسی دوران ثانیہ ہلکے ہلکے کانپ بھی رہی تھی ۔ میں نے اُسکی طرف بڑھنے کو قدم اُٹھایا تو اسکی حالت دیکھ کر جیسا تھا ویسے ہی جَم گیا ، میرا ایک پاوں زمین سے اُٹھے کا  اُٹھا ہی رہ گیا ، "کیا کوی سانپ دیکھ لیا کیا ؟ " میں نے اپنے خدشے کو سوالیہ انداز میں دوہرا کر نیچے کی جانب دائیں بائیں اور آگے پیچھے دیکھا لیکن سانپ کے کہیں بھی آثار نہ تھے ۔ اپنی طرف سے اطمینان کرنے کے بعد میں ثانیہ کی طرف بڑھا جو بلکل اُسی طرح کھڑی کانپ رہی تھی ۔جونہی میں اُسکی طرف بڑھا وہ پیچھے کو ہٹی میں نے پریشان ہو کر پھر نیچے اِدھر اُدھر دیکھا، میرا یقین پُختا ہونے لگا کہ پچھلی دفعہ کی طرح اب بھی یہ میرے ساتھ کوی ڈرامہ کر رہی ہے ۔
میں نے تسلی کرنے کے لیے پھر اُس سے پوچھا "ثانیہ کیا ہوا " اُسنے اپنے بائیں ہاتھ کی اُنگلی سے میری اُنگلی کی طرف اِشارہ کیا جس سے ابھی بھی خون کے قطرے گِر رہے تھے ۔ "اوہ یہ ، تم یہ دیکھ کر اتنا  ڈر رہی ہو ؟ ہی ہی ہی کِتنی پھٹُو ہو تم" ۔ ثانیہ کی اس حرکت سے مجھے پاکستان میں اپنے سکول کا وہ لڑکا یاد آگیا جسکو چوزا فوبیا تھا ، یعنی چوزوں سے بہت ڈر لگتا تھا ، اور مجھے چوزے پالنے کا جنون کی حد تک شوق تھا ، میرے ہمسائے مجھے دیکھ کر ہنسا کرتے تھے جب میں اپنے گھر کی چھت پر ایک کونے میں اپنے چوزے کو گود میں لیے اس سے باتیں کیا کرتا تھا ۔ ایک دِن وہ لڑکا میرے گھر آیا اور جب مجھے پتا چلا کہ اُسکو چوزہ فوبیا ہے تو میں نے اپنا چوزہ اسکے آگے کیا وہ پیچھے ہٹا اور مجھے یاد ہے کہ میں کافی دور تک اُسکے پیچھے چوزہ پکڑے بھاگتا رہا تھا ، اور آئندہ اُسنے مجھے کبھی تنگ بھی نہیں کیا تھا ۔ میں نے یہ ہی طریقہ ثانیہ پر آزمانے کا بھی سوچا ، میرا خیال تھا کہ مزا رہے گا جب ثانیہ خون کے قطرے سے ڈرتے ہوے بھاگے گی اور میں اپنی اُنگلی آگے کیے اسکے پیچھے پیچھے بھاگوں گا ، لیکن جیسے ہی میں تھوڑا آگے بڑھا ثانیہ پیچھے ہٹتی ہٹتی نیچے گِر گئی اور گھاس پر ہی پیچھے ہٹنے لگی ۔ تب مجھے خیال آیا کہ شاید یہ فوبیا اُس چوزہ فوبیا سے زیادہ سخت ترین ہے ۔ میں پیچھے ہٹا اور اپنی جیب سے " بینڈیج المعروف بہ سنی پلاس" نکالا ۔
کباڑیے کا کباڑیہ پن کبھی تو کام آہی جاتا ہے ، بقول امی کے میں ایک کباڑیہ ہوں اور کباڑیے کا خطاب مجھے بچپن ہی سے فضول چیزیں( جنکو اپنی طرف سے میں بڑٰ ی کام کی سمجھتا تھا ) جمع کرنے کی وجہ سے دیا گیا ، جسکو نانی اماں سے لے کر ماموں اور کاشف  ، عبداللہ غرض ہر ایک سے پذیرائی ملی ۔ یہ شوق تو خیر اب کافی حد تک بلکہ تقریباً ختم ہو چکا ہے لیکن اس دوران یہ نہ تو اتنا زیادہ تھا اور نہ ہی اتنا کم ، شاید اس وجہ سے کہ میرے کباڑ خانے کا ایک بڑا حصہ پاکستان رہ گیا تھا ، لیکن پھر بھی اپنی جیب میں دیگر کاٹھ کباڑ کے ساتھ ساتھ پچاس سینٹ (ایمرجنسی میں فون بوتھ استعمالنے کے لیے ) اور مختلف قسم کی بینڈیجز لازمی رکھتا تھا۔ خیر میں نے اپنی اُنگلی صاف کر کے ثانیہ کو دکھائی جو اب اپنے دونوں گھُٹنوں کو سینے کے ساتھ مضبوطی سے جکڑے ان پر اپنی تھوڑی رکھے سِسکیاں لے رہی تھی ۔" دیکھو اب بلکل بھی خون نہیں ہے ،  ثانیہ نے ایسے کیا جیسے اُسکو کچھ نہ تو سُنائی دیا ہے اور نہ ہی دِکھائی اور ویسے ہی بیٹھی سِسکارتی رہی ۔ میں پہلے ہی اُسکے فوبیا کی وجہ سے تھوڑا گھبرایا ہوا تھا ، اُسکے اِس حالت میں جانے کی وجہ سے اور پریشان ہو گیا۔ ایسی حالت میں نہ تو میں ثانی کے قریب جا سکتا تھا اور نہ ہی میرا اُسکو بہلانا اور خون کی غیر موجودگی کے ثبوت دینا کسی کام کا تھا۔
کیوں نہ فلمی ہیرو کی طرح کچھ ایکشن کیا جائے؟ ، میں نے دِل ہی دِل میں اپنے آپ سے پوچھا۔ ایسا سوچ کر ہی میرے رونگٹے خوشی سے کھڑے ہو جاتے، یعنی زور دار تھپڑ اور وہ بھی ثانی کے منہ پر ۔ لیکن کمبخت ایک تو وہ سچویشن ہی ایسی تھی کہ میں چاہتے ہوے بھی خوش نہیں ہو سکتا تھا دوسرا ثانی کے منہ پر تھپڑ ، اور وہ بھی میں ماروں گا ؟؟؟ ایک ایسی لڑکی کے منہ پر تھپڑ مارنا جو ویسے ہی  تھپڑ مار کر کہے کہ مذاق کر رہی تھی ۔ میرے خیال سے انجام کے بارے میں آپ اچھی طرح سوچ سکتے ہیں ۔ میری توجہ اچانک ثانی سے ہٹ کر سامنے چلنے والی گُلہری پر ہو گئی ، براون رنگ والی یہ گُلہری ادھر اُدھر دیکھتے ہوے ثانی کی طرف بڑھ رہی تھی ، آہستہ آہستہ چلنے کے بعد اُسنے اچانک اپنا منہ رفلز کے پیکٹ میں ڈال لیا(جو شاید ثانی سے فوبیا کی حالت میں گِر گیا تھا)  اور چپس کا ایک ٹُکڑا اٹھاے ہوے جس راستے آئی تھی اُسی طرف بھاگنے لگی میں مُسکراتے ہوے اسکی طرف دیکھ رہا تھا جب اچانک ثانیہ ہنسنے لگی ، پتا نہیں کب اُسکی توجہ گُلہری کی طرف ہو گئی تھی اور گُلہری کا چپس چوری کر کے بھاگنا اُسکوبے حد پسند آیا تھا ۔  
اُففففف، میں نے یہ ہی آواز نکالی تھی جب ثانی نے موے تھائی سٹائل  میں ایک فرنٹ کک میرے پیٹ پر ماری ، اور جب میں اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر اُفف کی آواز نکال کر جھُکا تو اُس نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر اپنا سارا وزن اُس پر ڈال دیا اور اگلے ہی لمحے میں منہ کے بل نیچے پڑا تھا ۔ ثانی نے اپنے کپڑے جھاڑنے کے بعد میرا رفلز کا پیک کھولتے ہوے کہا " یہ گُلہری کا منہ مارا ہوا اگر کھانا ہے تو تم ہی کھاو ، میں جانوروں کا جھوٹا نہیں کھاتی" ۔ میں نے گھر آکر گوگل پر بلِڈ فوبیا لکھ کر سرچ کی ، ملنے والی معلومات کو پڑھ کر میرے رونگٹے مزید کھڑے ہو گئے ، سوچتا ہوں کہ اگر اُس دن میں ثانیہ کو اپنے خون سے اُسی طرح ڈراتا جیسے چوزوں سے اُس لڑکے کو ڈرایا تھا تو انجام کیا ہوتا ، وہاں تو پاس کوی فون بوتھ بھی نہ تھا کہ ایک ایمبولینس ہی بُلا لی جاتی ۔ 

Wednesday, June 29, 2011

دیسی اور غیر دیسی ماں باپ کا فرق


اگر آپ کبھی خریدادی پر جائیں تو ارد گرد کے لوگوں پر نظر رکھنے سے آپ کو بہت سے عجیب تجربات حاصل ہوں گے ، کچھ دن پہلے ایک دُکان پر ایک دیسی انکل اپنے دو بچوں کے ہمراہ دیکھے ، انکا بچہ کوی ایک ڈالر والی چیز اُٹھائے انکے پیچھے پیچھے پِھر رہا تھا اور رو رہا تھا کہ خرید دیں ، لیکن انکل نہ صرف اسکو ڈانٹ رہے تھے بلکہ چیز واپس رکھنے کا بھی کہہ رہے تھے ۔ اگر ایسا غربت کی وجہ سے بھی تھا تو ایک ڈالر سے انکی غربت کو کیا فرق پڑنے والا تھا ؟؟؟
آج اُسی دُکان میں ایک ہی وقت میں دو آنٹیاں آئیں ، دونوں کے ساتھ دو دو بچے تھے ، دیسی آنٹی کی دو بیٹیاں ساتھ تھیں ، جن میں ایک بہت پیاری سی سہمی ہوی صورت والی چھوٹی بچی تھی  اُسنے ایک چھوٹے بھالو پر ہاتھ رکھ دیا کہ یہ خریدنا ہے ، آنٹی نے جھڑکنے والے انداز میں کہا کہ "تمکو تو سب کچھ ہی خریدنا ہوتا ہے " بچی نے ہلکی سی ضد کی تو اسکو وال مارٹ سے بڑے والا خریدنے پر ٹرخا دیا گیا ، میں سوچ رہا تھا کہ جو ماں اپنی بچی کو ایک ڈالر والا بھالو خرید کر نہ دے رہی ہو وہ وال مارٹ سے بڑا اور مہنگا کیسے اور کیونکر خرید کر دے گی ۔
خیر یہ آنٹی تو اپنا سامان خرید کر چلی گئیں ، دوسری آنٹی جو شکل و صورت سے کینیڈین ہی لگتی تھیں لیکن لہجے سے کچھ اور معلموم ہوتی تھیں ، وہ اپنا سامان خرید رہی تھیں کہ انکے چھوٹے بیٹے نے انہی بھالوں میں سے ایک کو پکڑ کر دیکھنا شروع کر دیا ، آنٹٰی نے اس سے پکڑ کر وہ بھی سلیز مین کے آگے کر دیا کہ یہ بھی دے دو ، بچے نے واپس لے کر رکھ دیا کہ مجھے چاہیے نہیں میں تو ویسے ہی دیکھ رہا تھا ۔