Saturday, December 3, 2011

یہ پاگل پن یہ بیزاری

کسی نے میرے مخولی (مزاحیہ) روپ کو دیکھ کر پوچھا کہ تم ہر وقت مخولی کیوں رہتے ہو ، میں نے کہا کہ اگر میں سیریس ہوا تو یا میں سر کے بال نوچتا ہوا بھاگ جاوں گا ، یا میرے ارد گرد کے لوگ ۔
یہ نظم بھی انہی لوگوں کے نام ہے جو مجھ میں سنجیدگی تلاشتے ہیں ۔


یہ پاگل پن یہ بیزاری
اس پاگل پن کی بستی میں
راتیں اپنی برباد کرو
ان یادوں کو تم یاد کرو
خاموشی کا شور کہیں
وہ تنہائی کی آوازیں

مزید پڑھنے کے لیے ، میرے نئے بلاگ پر تشریف لائیں 

Monday, October 10, 2011

اور یوں میری شادی ہو گئی

ہمارے ہمسائے میں ایک "آنٹی" رہا کرتی تھیں، وہ روز رات کو اپنے بچوں کو قصص الانبیاء اور حکایاتِ صحابہ پڑھ کر سنایا کرتی تھیں۔ مجھے ہمیشہ حیرانگی رہی کہ بھلا چھوٹے چھوٹے بچوں کو ایسی "بورنگ" کتابیں سنانا کتنا ظلم ہے ۔ میں تو اپنے بچپن میں سونے سے پہلے "سینڈریلا"، "پرنسس فراگ" وغیرہ پڑھا کرتی تھی۔ میں جب چھوٹی تھی تو سوچا کرتی تھی کہ کاش میرے لیے بھی کپڑے چڑیا سئیے ، اور کوئی شہزادہ جوتا پکڑے مجھے بھی ڈھونڈتا ہوا آئے ۔ لیکن ویسے تو میں اس بات پر یقین رکھتی ہوں کہ انسان اپنی قسمت خود بناتا ہے ، لیکن میرے ساتھ پتا نہیں کیوا ہوا کہ دو بچوں کی پیدائش کے بعد میری شادی نومبر دس کو ہو گئی ۔ میں اور میرے شوہر ایک دوسرے کو بچپن سے جانتے تھے ، اور (بلکل بھی بلشنگ نہیں کر رہی میں اس وقت) انہوں نے میٹرک میں مجھے ایک دفعہ پرپوز بھی کیا تھا، لیکن میں نے تو دل میں یہ ہی سوچا تھا کہ " میں تو کبھی اس چپڑ کناتیے سے شادی نہ کروں گی" ۔ جب میں کچھ بڑی ہوئی تو مجھے معلوم ہوا کہ نہ ہی میں سینڈریلا جتنی شکل سے خوبصورت ہوں کہ پرنس مجھے ڈھونڈتے پھریں اور نہ ہی میں دل سے اتنی خوبصورت ہوں کہ چڑیا میرا لباس سیئے ۔

باقی پڑھنے کے لیے یہاں جائیں ۔

Tuesday, September 27, 2011

زندگی کو ڈھونڈتا ہوں زندگی ملتی نہیں

بیچارگی میں رہ کے تو لاچارگی ملتی رہی
زندگی کو ڈھونڈتا ہوں زندگی ملتی نہیں

میری آنکھیں دیکھ کے اِک مردہ تڑپا تھا مگر
مُردہ آنکھیں دیکھ کر تو زندگی ملتی نہیں
میں نے اپنے بلاگ کا انتقال اپنی ہوسٹنگ پر کر لیا ہے اور اسکے لیے ایک الگ ہوسٹنگ بھی خرید لی ہے ، مزید نظم پڑھنے کے لیے یہاں پر کلک کر کے میرے بلاگ پر جائیں ۔
بہت شکریہ  

Wednesday, September 21, 2011

یارو مجھ کو معاف کرو امی نے ہے کُٹ لگائی

ہاتھ دکھا کر سیدھا مجھ کو الٹے سے کیوں چماٹ لگائی ؟
یارو مجھ کو معاف کرو امی نے ہے کُٹ لگائی

توڑ کے  ہڈی میری پھر یوں امی نے آواز لگائی
ہائے ہائے ستیا ناس ہو تیرا ، تو نے یہ ہے جان بنائی

مزید پڑھنے کے لیے یہاں جائیں ۔

Sunday, September 4, 2011

کسی کی کامیابی کو دیکھ کر پچھواڑے میں آگ لگنا ، المعروف بہ جیلیسی

خیر سے جی جیلیسی ایک ایسی بھینکر بیماری ہے کہ جس پر ادیبوں نے کتابیں تک لکھ ماری ہیں، انہی میں سے ایک کتاب ہمیں بھی شاید جی گیارہویں میں ماری گئی تھی ، کتاب کا نام "اوتھیلو" ہے اور لکھنے والے کو دنیا شیکسپئیر کے نام سے جانتی ہے ۔ اپنی اس کہانی میں شیکسپئیر نے جیلیسی کے شہکاروں کو جس خوبصورتی کے ساتھ اس ناولٹ میں بیانا ہے قسم نہ لو لیکن میرا نی خیال کہ میں نے کوئی اور کہانی کسی انسان کی لکھ ماری پڑھی ہو جس نے جیلسی کے شاہکار اس خوصورت انداز میں بیان کیے ہوں ۔

ایک جگہ پر خود شیکسپئیر جیلسی کے بارے میں لکھتا ہے 

“O, beware, my lord, of jealousy;
It is the green-eyed monster which doth mock
The meat it feeds on; that cuckold lives in bliss
Who, certain of his fate, loves not his wronger;
But, O, what damned minutes tells he o'er
Who dotes, yet doubts, suspects, yet strongly loves!  (3.3.165-170)”

ہم نے جی دیکھیں کیسا ظلم ہے کہ اتنی چھوٹی سی عمر میں بھی جیلیسی کی بڑی بڑی کہانیاں اپنی آنکھوں تلے دیکھ لیں ، کیسا زمانہ ہے جی کہ بھائی بھائی سے بھی جیلیس ہوتے ہیں ۔ کسی نے گاڑی لی تو جی ہم بجائے خوش ہونے کہ ، کہ اپنے یار نے گاڑی لی ہے آگے سے آنکھیں کھول کر حیران ہو کر پریشان ہو کر پوچھتے ہیں "اوے تم نے بھی گاڑی لے لی اوئے" جناب جی لینی ہی تھی اب کیا کرتے ساری عمر کھوتے پر بیٹھ کر سفر کرتے ؟؟؟ کچھ لوگوں کو ضرورت بھی نی ہوتی گاڑی کی لیکن جی دوسرے نے لے لی تو آگ ایسی شدید لگی کہ ہم بھی گاڑی لیں گے ، اور جی اس بندے کو سڑانے کے لیے اسی رنگ کی لیں گے جس کی اس نے لی ۔ لو دسو جی ، وہ سڑے نہ سڑے آپ اسی رنگ کی گڈی لینے کے چکر میں چاہے مہنگی اور کھٹارا خرید لو ، ہے نہ جہالت ۔


آج کچھ لڑکوں سے بات ہو رہی تھی ، ایک صاحب کا بڑے زور و شور سے کہنا تھا کہ "کسی دوسرے کو اوپر چڑھتا دیکھ کر پچھواڑےمیں آگ لگنا انسانی فطرت ہے" میں نے کہا بھائی یہ انسانی فطرت نہیں ہے "کچھ ایسے لوگوں کی فطرت ہے جنکو "مولویانہ زبان" میں "چ" کے خطاب سے نوازا جاتا ہے ۔ وہ صاحب مُصر تھے کہ "نہیں جی یہ انسانی فطرت ہی ہے " میں نے کہا دیکھئیے صاحب فطرت اسے کہتے ہیں کہ اگر انسان کو اسکے چھوڑنے پر مجبور کیا جائے تو وہ اس پر ظلم ہو ۔ اب مقدمہ نمبر دو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالم نہیں ہیں، مقدمہ نمبر تین یہ ہوا کہ میرے نزدیک یہ جیلسی ہے جو کہ اسلام میں جائز نہیں (آپکا میرے کو پتا نی ) یعنی اسکو چھوڑنا ضروری ہوا ، اب انسانی فطرت اللہ تعالیٰ نے بنائی اور پھر انسان کو اس کے چھوڑنے پر مجبور بھی کیا یعنی انسان پر ظلم کیا ؟؟؟ لہذا آپکی بات غلط ثابت ہوئی ۔

چلیں یہ بھی چھوڑیں اگر یہ انسانی فطرت ہے تو ہر انسان میں کیوں نہیں ہوتی ؟؟؟ بہرحال جی لگا تو ہمیں ایسا ہی تھا کہ چور کی داڑھی میں تنکا ہے ، ویسے بھی انسان جیسے دوستوں میں رہتا ہے ویسے اثرات اس میں پیدا ہونے لگتے ہیں ، اسی لیے میں نے اپنی شاعری میں صاف لکھ دیا تھا کہ
ع


جس جس کو میں دور چھوڑ را ہوں اسکو چاہیے کہ اپنے گریبان میں اچھی طرح جھانک تانک کرے ، اگر بنیان کے علاوہ بھی کچھ نظر آئے تو اصلاحِ معاشرہ اپنے سے ہی شروع کرے ۔
اور جی یہ نہ سمجھا جائے کہ دنیا کو چھوڑ کر میں نقصان میں پڑا میں نے یہ بھی صاف لکھ دیا کہ
ع
مگر خوشحال بنتا جا رہا ہوں

اور آخر میں جی ایک بات بتانا تو بھول بھی گیا تھا ، کہ شیکسپئیر نے جیلس شخص کو "کتا"بھی بڑی شان کے ساتھ لکھا ہے اپنے ناول میں اور وہ بھی بڑی شان والا کتا۔  آہو 
  

Wednesday, August 31, 2011

ستمبر جب بھی آتا ہے


ستمبر جب بھی آتا ہے ستمگر یاد آتے ہیں
بجائے رہزنوں کے اپنے رہبر یاد آتے ہیں
زمینیں تنگ کر دیں اِک اشارے میں مکینوں پر
شریفوں کے شجر مرجھا گئے اپنی زمینوں پر
مسلسل جی حضوری کے وہ پیکر یاد آتے ہیں
وہ اِک مُلا کے ڈٹ کر رہ گیا اپنے موقف پر
وہ مِسٹر جو سمٹ کر رہ گیا اپنے موقف پر
وہ مُلا یاد آتے ہیں ، وہ مِسٹر یاد آتے ہیں
ستمبر جب بھی آتا ہے ستمگر یاد آتے ہیں
سراسر دین کا سودا کیا دنیا کے بدلے میں
جنہوں نے مانگ لی دنیائے دوں عقبا کے بدلے میں
وہ شاہی بھیس میں راہی گداگر یاد آتے ہیں
ستمبر جب بھی آتا ہے ستمگر یاد آتے ہیں
اُدھر منظر ہی یکسر مختلف تھا ، جان تک دے دی
بس اِک مہمان کے حق میں وطن کی آن تک دے دی
وہ فاقہ مست ، وہ مردِ قلندر یاد آتے ہیں
میری پلکوں پے جگنو اور ستارے جگمگاتے ہیں
میری غیرت جگاتے ہیں ، مجھے پہروں رُلاتے ہیں
وہ جب بحرِ عزیمت کے شناور یاد آتے ہیں
ستمبر جب بھی آتا ہے ستمگر یاد آتے ہیں
وہ فاقہ مست وہ مردِ قلندر یاد آتے ہیں

حضرت خالد اقبال تائب صاحب دامت برکاتہم

Monday, August 29, 2011

بدتمیز چوہدری



ایک زمانے میں مجھے اپنے آپ کو بدتمیز کے لقب سے نوازنے کا شوق ہوا تھا ، ہر سائیٹ فورم وغیرہ پر بدتمیز کے نام سے آی ڈی بنانے کا شوق بھی چڑھا ۔ کچھ  دن تو بدتمیز کا لقب چلتا رہا لیکن کچھ ساتھیوں اور بزرگوں نے مجھے سختی سے ایسے نک بنانے سے منع کیا اور میں نے انکی عزت اور خواہش کو مدِنظر رکھتے ہوے میں نے ایسے نک استعمال کرنا بند کر دیے ۔ بلاگی دنیا پر آنکے بعد ایک اور "بدتمیز" کو دیکھ کر اپنا نک ہمیشہ یاد آتا ۔
آج مجھے ابو نے ایک جگہ بلایا ، وہاں پہنچا ، ابو نے مجھے دیکھتے ہی مجھے کچھ خریداری کرنے کے لیے اشیاء کی لسٹ بتانا شروع کر دی ، اس سے پہلے کہ میں کچھ ارد گرد نظر کر کے لوگوں پر دھیان کرتا میرا سارا دھیان ابو کی بات پر مرکوز ہو کر رہ گیا ۔ اچانک بائیں جانب کھڑے چھوٹے قد  کے شریف النفس چوہدری صاحب نہایت مکروہ شکل بنا کر جاہلانہ لہجے میں بولنے لگے " اوئے تہانوں تمیز کِساں نے نی سکھائی؟ تہانو پتا کوی نی کہ جدوں کدھرے جائیدا پہلاں ساریاں نوں سلام کری دا" (اوے تمہیں تمیز کسی نے نہیں سکھائی ؟ تمہیں پتا نہیں جب کہیں جاتے ہیں تو سب سے پہلے سلام کرتے ہیں) چونکہ چوہدری صاحب میرے ابو کے جانن والوں مین سے تھے لہذا میں نے صرف اتنا ہی کہا کہ میرے داخل ہوتے ہی مجھ سے بات کرنی شروع کر دی ۔
ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی تھی چوہدری صاحب نےا پنے تمیز دار ہونے کا عملی ثبوت دیتے ہوے میری بات کاٹ کر گویا ہوئے "جدوں کدھرے وڑی دا اے ، پہلاں سلام کری دا اے ، اونج توں مولوی بنیا پھردا تینوں ایس گل دا نی پتا " ( جہاں کہیں جاتے ہیں سب سے پہلے سلام کرتے ہیں ، ویسے تو مولوی بنا پھرتا ہے تجھے اتنی بات کا نہیں پتا) میں نے ایک دفعہ ابو کی طرف دیکھا پھر چوہدری صاحب کی طرف دیکھا اور خاموش رہا اور جو سامان ابو نے بتایا تھا خریدنے چلا گیا ۔ واپس آیا تو ایک دوسرے صاحب ابو کے پاس کھڑے تھے ، وہ اچانک ابو سے گویا ہوے کہ " سر جی یہ چوہدری صاحب کے ساتھ کیا مسئلہ ہے ؟ سلام دعا ہی نہیں کرتے ۔ میں نے سلام بھی کیا تو انہوں نے جواب دیے بغیر منہ پھیر لیا "  میں نے دل ہی دل میں ہنستے ہوئے سوچا کہ "لو جی ابھی مجھے اخلاقیات کا درس یہ ہی چوہدری صاحب دے رہے تھے " ۔ اب اگر میں کہوں کہ پاکستانی بحثیت قوم دوغلے ہیں تو سارے پاکستانی مجھے لتاڑنا شروع ہو جائیں گے ۔
لتاڑو جی لتاڑو میں تو ہوں ہی بدتمیز اور بدتمیز ہونے کی وجہ سے مجھے بھی چوہدری کا خطاب دو ۔