Thursday, June 30, 2011

خون فوبیا، چوزہ فوبیا اور بچپن سے لڑکپن کی کچھ یادیں


ہو سکتا ہے کہ یہ کَٹر لکڑی کے ساتھ ساتھ میرا ہاتھ بھی کاٹ دے ، میرے یہ سوچتے سوچتے کَٹر میرے ہاتھ سے پھسلا اور لکڑی کو چیرتا ہوا میری شہادت کی انگلی پر ہلکا سا پِھر گیا ، انگلی سے نکلنے والا قطرہ دیکھ کر میرے منہ پر ناجانے کیوں ہلکی سی مُسکراہٹ آگئی ۔یہ کَٹر میں ویر ہاوس سے ہی لے آیا تھا ، اصل میں اسکو میں واپس آتے وقت اپنی جیب میں ہی بھول گیا تھا ، یہ اُن دنوں کی بات ہے جب گرمیوں کی چھُٹیوں میں مجھے ایک ویر ہاوس پر چند دن کی نوکری ملی تھی ، ڈبے کاٹنے کے لیے استعمال کرنے والا کٹر میں واپسی پر اپنی جیب میں ہی بھول گیا تھا ۔ گھر پہنچ کر دیکھا تو ثانی کا ایم ایس این پر آف لائن میسج تھا کہ کرِیک کے تیسرے پُل کے پاس چھ بجے ملو۔  میں نے جلدی جلدی کھانا کھایا ، میری سِکس پاکٹ بلیک پینٹ، جو اب ویر ہاوس میں کام کرنے کی وجہ سے گرد سے نہ صرف اَٹی ہوی تھی بلکہ اُسکا رنگ بھی بلیک سے براون ہو رہا تھا ۔  میرے بال بھی گرد سے اٹے ہوے تھے ، نیلے رنگ کی شرٹ بھی براونش ہو رہی تھی ، لیکن میرے پاس اِن چیزوں کے بارے میں سوچنے کا وقت نہیں تھا کیونکہ چھ بجنے میں کچھ ہی دیر رہ گئی تھی ۔ کھانے سے فارغ ہو کر میں نے اپنی سائیکل کو نکالا اور مِنی مارٹ کی طرف چل دیا جہاں سے رفلز کی چلی چیز خرید کر میرا ارادہ  کرِیک کی طرف  جانے کا تھا۔
 ابھی میں یہ ہی سوچ رہا تھا کہ کیا کروں  جب میں نے اچانک ایک خالص زنانہ چیخ سُنی ، اور یقیناً یہ ثانیہ کی طرف سے تھی ، میں سوچ رہا تھا کہ شاید وہ اس خرگوش کو دیکھنے میں کامیاب ہو گئی ہے جسکی وجہ سے وہ مجھے بھی اس اُونچی گھاس میں گھُما رہی ہے ۔ میں نے اپنے دائیں طرف دیکھا ثانیہ کی آنکھیں بہت گہری کھُلی ہوئی تھیں، اور اسنے اپنے دونوں ہاتھوں کو منہ پر رکھا ہوا تھا اسی دوران ثانیہ ہلکے ہلکے کانپ بھی رہی تھی ۔ میں نے اُسکی طرف بڑھنے کو قدم اُٹھایا تو اسکی حالت دیکھ کر جیسا تھا ویسے ہی جَم گیا ، میرا ایک پاوں زمین سے اُٹھے کا  اُٹھا ہی رہ گیا ، "کیا کوی سانپ دیکھ لیا کیا ؟ " میں نے اپنے خدشے کو سوالیہ انداز میں دوہرا کر نیچے کی جانب دائیں بائیں اور آگے پیچھے دیکھا لیکن سانپ کے کہیں بھی آثار نہ تھے ۔ اپنی طرف سے اطمینان کرنے کے بعد میں ثانیہ کی طرف بڑھا جو بلکل اُسی طرح کھڑی کانپ رہی تھی ۔جونہی میں اُسکی طرف بڑھا وہ پیچھے کو ہٹی میں نے پریشان ہو کر پھر نیچے اِدھر اُدھر دیکھا، میرا یقین پُختا ہونے لگا کہ پچھلی دفعہ کی طرح اب بھی یہ میرے ساتھ کوی ڈرامہ کر رہی ہے ۔
میں نے تسلی کرنے کے لیے پھر اُس سے پوچھا "ثانیہ کیا ہوا " اُسنے اپنے بائیں ہاتھ کی اُنگلی سے میری اُنگلی کی طرف اِشارہ کیا جس سے ابھی بھی خون کے قطرے گِر رہے تھے ۔ "اوہ یہ ، تم یہ دیکھ کر اتنا  ڈر رہی ہو ؟ ہی ہی ہی کِتنی پھٹُو ہو تم" ۔ ثانیہ کی اس حرکت سے مجھے پاکستان میں اپنے سکول کا وہ لڑکا یاد آگیا جسکو چوزا فوبیا تھا ، یعنی چوزوں سے بہت ڈر لگتا تھا ، اور مجھے چوزے پالنے کا جنون کی حد تک شوق تھا ، میرے ہمسائے مجھے دیکھ کر ہنسا کرتے تھے جب میں اپنے گھر کی چھت پر ایک کونے میں اپنے چوزے کو گود میں لیے اس سے باتیں کیا کرتا تھا ۔ ایک دِن وہ لڑکا میرے گھر آیا اور جب مجھے پتا چلا کہ اُسکو چوزہ فوبیا ہے تو میں نے اپنا چوزہ اسکے آگے کیا وہ پیچھے ہٹا اور مجھے یاد ہے کہ میں کافی دور تک اُسکے پیچھے چوزہ پکڑے بھاگتا رہا تھا ، اور آئندہ اُسنے مجھے کبھی تنگ بھی نہیں کیا تھا ۔ میں نے یہ ہی طریقہ ثانیہ پر آزمانے کا بھی سوچا ، میرا خیال تھا کہ مزا رہے گا جب ثانیہ خون کے قطرے سے ڈرتے ہوے بھاگے گی اور میں اپنی اُنگلی آگے کیے اسکے پیچھے پیچھے بھاگوں گا ، لیکن جیسے ہی میں تھوڑا آگے بڑھا ثانیہ پیچھے ہٹتی ہٹتی نیچے گِر گئی اور گھاس پر ہی پیچھے ہٹنے لگی ۔ تب مجھے خیال آیا کہ شاید یہ فوبیا اُس چوزہ فوبیا سے زیادہ سخت ترین ہے ۔ میں پیچھے ہٹا اور اپنی جیب سے " بینڈیج المعروف بہ سنی پلاس" نکالا ۔
کباڑیے کا کباڑیہ پن کبھی تو کام آہی جاتا ہے ، بقول امی کے میں ایک کباڑیہ ہوں اور کباڑیے کا خطاب مجھے بچپن ہی سے فضول چیزیں( جنکو اپنی طرف سے میں بڑٰ ی کام کی سمجھتا تھا ) جمع کرنے کی وجہ سے دیا گیا ، جسکو نانی اماں سے لے کر ماموں اور کاشف  ، عبداللہ غرض ہر ایک سے پذیرائی ملی ۔ یہ شوق تو خیر اب کافی حد تک بلکہ تقریباً ختم ہو چکا ہے لیکن اس دوران یہ نہ تو اتنا زیادہ تھا اور نہ ہی اتنا کم ، شاید اس وجہ سے کہ میرے کباڑ خانے کا ایک بڑا حصہ پاکستان رہ گیا تھا ، لیکن پھر بھی اپنی جیب میں دیگر کاٹھ کباڑ کے ساتھ ساتھ پچاس سینٹ (ایمرجنسی میں فون بوتھ استعمالنے کے لیے ) اور مختلف قسم کی بینڈیجز لازمی رکھتا تھا۔ خیر میں نے اپنی اُنگلی صاف کر کے ثانیہ کو دکھائی جو اب اپنے دونوں گھُٹنوں کو سینے کے ساتھ مضبوطی سے جکڑے ان پر اپنی تھوڑی رکھے سِسکیاں لے رہی تھی ۔" دیکھو اب بلکل بھی خون نہیں ہے ،  ثانیہ نے ایسے کیا جیسے اُسکو کچھ نہ تو سُنائی دیا ہے اور نہ ہی دِکھائی اور ویسے ہی بیٹھی سِسکارتی رہی ۔ میں پہلے ہی اُسکے فوبیا کی وجہ سے تھوڑا گھبرایا ہوا تھا ، اُسکے اِس حالت میں جانے کی وجہ سے اور پریشان ہو گیا۔ ایسی حالت میں نہ تو میں ثانی کے قریب جا سکتا تھا اور نہ ہی میرا اُسکو بہلانا اور خون کی غیر موجودگی کے ثبوت دینا کسی کام کا تھا۔
کیوں نہ فلمی ہیرو کی طرح کچھ ایکشن کیا جائے؟ ، میں نے دِل ہی دِل میں اپنے آپ سے پوچھا۔ ایسا سوچ کر ہی میرے رونگٹے خوشی سے کھڑے ہو جاتے، یعنی زور دار تھپڑ اور وہ بھی ثانی کے منہ پر ۔ لیکن کمبخت ایک تو وہ سچویشن ہی ایسی تھی کہ میں چاہتے ہوے بھی خوش نہیں ہو سکتا تھا دوسرا ثانی کے منہ پر تھپڑ ، اور وہ بھی میں ماروں گا ؟؟؟ ایک ایسی لڑکی کے منہ پر تھپڑ مارنا جو ویسے ہی  تھپڑ مار کر کہے کہ مذاق کر رہی تھی ۔ میرے خیال سے انجام کے بارے میں آپ اچھی طرح سوچ سکتے ہیں ۔ میری توجہ اچانک ثانی سے ہٹ کر سامنے چلنے والی گُلہری پر ہو گئی ، براون رنگ والی یہ گُلہری ادھر اُدھر دیکھتے ہوے ثانی کی طرف بڑھ رہی تھی ، آہستہ آہستہ چلنے کے بعد اُسنے اچانک اپنا منہ رفلز کے پیکٹ میں ڈال لیا(جو شاید ثانی سے فوبیا کی حالت میں گِر گیا تھا)  اور چپس کا ایک ٹُکڑا اٹھاے ہوے جس راستے آئی تھی اُسی طرف بھاگنے لگی میں مُسکراتے ہوے اسکی طرف دیکھ رہا تھا جب اچانک ثانیہ ہنسنے لگی ، پتا نہیں کب اُسکی توجہ گُلہری کی طرف ہو گئی تھی اور گُلہری کا چپس چوری کر کے بھاگنا اُسکوبے حد پسند آیا تھا ۔  
اُففففف، میں نے یہ ہی آواز نکالی تھی جب ثانی نے موے تھائی سٹائل  میں ایک فرنٹ کک میرے پیٹ پر ماری ، اور جب میں اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر اُفف کی آواز نکال کر جھُکا تو اُس نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر اپنا سارا وزن اُس پر ڈال دیا اور اگلے ہی لمحے میں منہ کے بل نیچے پڑا تھا ۔ ثانی نے اپنے کپڑے جھاڑنے کے بعد میرا رفلز کا پیک کھولتے ہوے کہا " یہ گُلہری کا منہ مارا ہوا اگر کھانا ہے تو تم ہی کھاو ، میں جانوروں کا جھوٹا نہیں کھاتی" ۔ میں نے گھر آکر گوگل پر بلِڈ فوبیا لکھ کر سرچ کی ، ملنے والی معلومات کو پڑھ کر میرے رونگٹے مزید کھڑے ہو گئے ، سوچتا ہوں کہ اگر اُس دن میں ثانیہ کو اپنے خون سے اُسی طرح ڈراتا جیسے چوزوں سے اُس لڑکے کو ڈرایا تھا تو انجام کیا ہوتا ، وہاں تو پاس کوی فون بوتھ بھی نہ تھا کہ ایک ایمبولینس ہی بُلا لی جاتی ۔ 

Wednesday, June 29, 2011

دیسی اور غیر دیسی ماں باپ کا فرق


اگر آپ کبھی خریدادی پر جائیں تو ارد گرد کے لوگوں پر نظر رکھنے سے آپ کو بہت سے عجیب تجربات حاصل ہوں گے ، کچھ دن پہلے ایک دُکان پر ایک دیسی انکل اپنے دو بچوں کے ہمراہ دیکھے ، انکا بچہ کوی ایک ڈالر والی چیز اُٹھائے انکے پیچھے پیچھے پِھر رہا تھا اور رو رہا تھا کہ خرید دیں ، لیکن انکل نہ صرف اسکو ڈانٹ رہے تھے بلکہ چیز واپس رکھنے کا بھی کہہ رہے تھے ۔ اگر ایسا غربت کی وجہ سے بھی تھا تو ایک ڈالر سے انکی غربت کو کیا فرق پڑنے والا تھا ؟؟؟
آج اُسی دُکان میں ایک ہی وقت میں دو آنٹیاں آئیں ، دونوں کے ساتھ دو دو بچے تھے ، دیسی آنٹی کی دو بیٹیاں ساتھ تھیں ، جن میں ایک بہت پیاری سی سہمی ہوی صورت والی چھوٹی بچی تھی  اُسنے ایک چھوٹے بھالو پر ہاتھ رکھ دیا کہ یہ خریدنا ہے ، آنٹی نے جھڑکنے والے انداز میں کہا کہ "تمکو تو سب کچھ ہی خریدنا ہوتا ہے " بچی نے ہلکی سی ضد کی تو اسکو وال مارٹ سے بڑے والا خریدنے پر ٹرخا دیا گیا ، میں سوچ رہا تھا کہ جو ماں اپنی بچی کو ایک ڈالر والا بھالو خرید کر نہ دے رہی ہو وہ وال مارٹ سے بڑا اور مہنگا کیسے اور کیونکر خرید کر دے گی ۔
خیر یہ آنٹی تو اپنا سامان خرید کر چلی گئیں ، دوسری آنٹی جو شکل و صورت سے کینیڈین ہی لگتی تھیں لیکن لہجے سے کچھ اور معلموم ہوتی تھیں ، وہ اپنا سامان خرید رہی تھیں کہ انکے چھوٹے بیٹے نے انہی بھالوں میں سے ایک کو پکڑ کر دیکھنا شروع کر دیا ، آنٹٰی نے اس سے پکڑ کر وہ بھی سلیز مین کے آگے کر دیا کہ یہ بھی دے دو ، بچے نے واپس لے کر رکھ دیا کہ مجھے چاہیے نہیں میں تو ویسے ہی دیکھ رہا تھا ۔

Monday, June 27, 2011

دوغلہ پن اور اسکا علاج

دوغلہ پن اور اسکا علاج
مجھے اس حرکت سے سخت چڑ ہے ، بلکہ جتنی چڑ مجھے اس سے شاید ہی کسی اور چیز سے ہو گی ۔ جب میں اپنے معاشرے میں یہ ہوتا دیکھتا ہوں تو دل کرتا ہے بندہ لا لئے لِتر تے ایناں دی آہو آہو سیک چھڈے ۔ بس جی لیکن ایسا نہیں کیا جا سکتا ۔
آجکل ہماری بلاگی دنیا میں بھی دوغلہ پن عروج کو پہنچا ہوا ہے  مثال کے طور پر مجاہدین کو بنیاد بنا کر مخصوص مذہبی فرقوں کو لتاڑنا تو عام ہو چکا ہے ۔ اسکے لیے گالیوں والی سرکار فکرِ پاکستان صاحب کی بھی چند پوسٹیں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں اسکے علاوہ آجکل میں ایک نئی سرکار نے ایسی ہی پوسٹ ماری ہے ۔
دوغلہ پن جو دوسرا ہے وہ یہ کہ آپ مخصوص اشخاص کا نام لے کر مخصوص سوچ کو لتاڑیں، جیسا کہ ضیاء الحق کا نام لے کر اپ کسی بھی داڑھی والے کو لتاڑ سکھتے ہیں ، چاہے وہ خود ضیاء الحق کو غلط سمجھتا ہو ۔ اب میری ہی مثال لے لیں ، مجھے ضیاء الحق کے بارے میں اس سے زیادہ پتا نہیں کہ وہ ایک جرنیل تھا جسنے دیگر کی طرح حکومت پر قبضہ کر کے ایک نااہل حکمران کو ہٹا دیا ، وہ خود اہل تھا یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے ۔ لیکن میری داڑھی دیکھ کر مجھے بھی اسکا نام لے کر خوب لتاڑا جاتا ہے ۔  
ایک قسم دوغلے پن کی یہ ہے کہ ہم کریں تو ناچ وہ کریں تو مجرا ، جی ہاں یعنی اگر آپ اپنے موقف پر ڈٹ جائیں اور وہ دینی لحاظ سے جائز ہو تو آپ شدت پسند ہو جائیں گے ، لیکن اگر وہ اپنے موقف پر اڑ جائیں جو کنجر پنے پر ہو تو اسکو براڈ مائینڈنیس اور روشن خیالی کہا جائے گا ۔ یہ بھی ایک دوغلہ پن ہے اور اس میں عموماً نئے نئے امیر جو ڈیفینس میں بنگلہ خریدتے ہیں یا پھر احساس کمتری کے مارے ہوے غریب غربا شامل ہوتے ہیں ۔
دوغلے پن کی ایک اور قسم یہ بھی ہے کہ اگر کوی گالیاں دے رہا ہے کسی ایسے شخص کو جس سے آپ کی عزت پر کوی فرق نہیں پڑتا تو خوب سنیں اور اسکو آزادی اظہار راے کا نام دیں لیکن اگر کوی آپ کی ماں بہن کو گالی دے تو آپ اسکو گالی دیں  ۔
علاج
اسکا علاج مجھے خود پتا کونی تھا ، ایک دن میں بور ہو رہا تھا کسی نے کہا اوے شانے کلَا ہے ، میں نے کہا کیا ؟؟؟ کالا نہیں ہوں یار سانولہ ہوں ، اس نے کہا نہیں میرا مطبل تھا تو اکیلا ہے ۔ میں نے کہا ہاں ، اسنے کہا کوی لڑکی پھسا لے چیٹ روم میں جا کر ۔
میں نے اسکے مشورے کو سراہا اور ایک چیٹ روم مین چلا گیا ۔ لیکن کمبخت وہ مسلمانوں کا نکلا وہاں چل رہی تھی لڑائی جیسا کہ کسی بھی پاکستانی گروپ میں ہوتی ہے ۔ اور لڑائی ہو اور میں وہاں بیٹھ کر چسکے نہ لوں ، یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ تو جی میں بیٹھ گیا وہاں ، اور دیکھنے لگا ۔
ایک شخص دوسرے کے بارے میں کہتا تھا کہ یہ صحابہ کو گالیاں بکتا ہے ، تمہیں پتا نہین صحابہ کون تھے ، کیا تھے ۔ اور ہو گیا فضائل بتانے ۔ دوسرے نے کہا اگر بکتا ہے تو کیا تجھے کیا تکلیف اسکو خود گناہ ملے گا تجھے کیا۔
وہاں جی ایک میرے جیسا بھی بیٹھا تھا جو صرف سن رہا تھا ۔ اسنے چھال ماری اور جو کہتا تھا کہ تمہیں کیا ، اسکی ماں بہن ایک کر دی جی ۔ جواب میں اس نے اسکی ماں بہن ایک کر دی ۔ پھر وہ چھال مارنے والے نے دوسری چھال ماری اور کہا جب وہ اس ماں کو گالیاں دیتا تھا جسکو قرآن نے ماں کہا (یعنی حضرت عائشہؓ ) تو تیری بولتی بند تھی ، تو قیامت والے دن حساب کی بات بتاتا تھا ۔ جب میں نے تیری اس ماں کو گالی دی جسکو تیرے باپ نے تیری ماں کہا تھا تب تیرے سے رہا کیوں نہیں گیا ؟؟؟؟
بس اس دن میں سمجھ گیا کہ دوغلے پن کا یہ ہی علاج ہے ۔

اور مجھے پتا ادھر کوی کمنٹے گا نہیں ، وجہ علاج والے پیرا میں ہے ، اور یہ بھی ایک دوغلہ پن ہے ۔ 
پس ثابت ہوا کہ یہ دنیا دوغلے لوگوں سے بھری پڑی  

Sunday, June 26, 2011

پاکستان میں حکمرانی

پرانی روایت ایک طاقتور خاندان دوسرے طاقت ور خاندان سے مزید طاقت حاصل کرنے کے لیے رشتہ جوڑتا ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک دوست کو بتایا تھا کہ پاکستان مین چاہے مارشل لا لگے یا کوی بھی حکومت آیے جو لوگ حکومت میں ہوتے ہیں انکو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچتا اور جو وجہ میں نے اسکو بتائی تھی وہ آپ مندرجہ ذیل تصویر مین دیکھ سکتے ہیں ۔

 مسلم لیگ (ن) کے ایم این اے ملک ریاض کی بیٹی اور پیپلز پارٹی کے رہنما ملک سہیل کے بیٹے کی شادی کے موقع پر حمزہ شہباز اور جہانگیر بدر ایک دوسرے سے مسکراتے ہوے مصافحہ کر رہے ہیں

Friday, June 24, 2011

اسلام وہ جو من چاہے من بھائے


ہمارے ایک دوست ہیں انکے ابا کا انکے گھر والوں کے ساتھ رویہ کچھ اچھا نہ تھا ، اور حقوق بھی مکمل طور پر پورے نہیں کیے جا رہے تھے ۔ میرے خیال سے انکے ابا اپنے خاندان یعنی بھائی بہن وغیرہ کے ہاتھوں استعمال ہو رہے تھے اور انکی باتوں میں آکر اپنے گھر والوں کے حقوق میں کمی کر رہے تھے ۔ بالآخر انکے بھائی بہن کو کامیابی ہوی اور انکے ابا نے دوسری شادی کر لی ۔ ہمارے یہ دوست اپنے ابا کی حرکتوں پر پہلے ہی اچھی طرح تپے ہوے تھے ، دوسری شادی پر اور بھی تپ گئے مجھ سے پوچھنے لگے کہ کیا اسلام میں مرد پہلی بیوی  سے پوچھے بغیر دوسری شادی کر سکتا ہے ، میں نے کہا کہیں پڑھا تو نہیں لیکن پوچھ کر بتا سکتا ہوں ۔ کچھ دن بعد میں نے انکو بتایا کہ مرد اپنی پہلی بیوی سے پوچھے بغیر دوسری شادی کر سکتا ہے، اور تو انہوں نے جو کچھ کہا سب تو مجھے یاد نہیں ، ہاں انکی ایک بات ضرور یاد ہے کہ انہوں نے زرا تیز لہجے میں کہا کہ "یار پھر تو ہمارا مذہب ہی غلط ہوا نہ"۔
لیں جی ایک شخص کے عمل کی وجہ سے پورا مذہب غلط ہو گیا ، یہ صرف ایک شخص کی بات نہیں ہے ہمارا پورا معاشرہ اس طرف زور لگانے پر تُلا ہوا ہے کہ اسلام ہماری مرضی کے مطابق ہو ، یعنی انکو اللہ کے بناے ہوے پر عمل نہ کرنا پڑے بلکہ جو انکا عمل ہو اسکو اسلام کا نام دے دیا جائے ۔
اسی طرح ایک اور صاحب ہیں ، ان کو بچپن میں گھر والوں کی طرف سے کوی دینی تعلیم دینے کا اہتمام نہیں کیا گیا ، صرف ناظرہ قرآن اور وہ بھی مسجد کے مولوی صاحب سے اسکے بعد انڈیا پڑھنے چلے گئے اور بعد میں کینیڈا میں وارد ہو گئے ۔ جب تک بنگلہ دیش میں تھے اسلامیات کے امتحان بھی بقول انکے نقل مار مار کر پاس کرتے رہے ۔ اس سے آپ انکی سوچ کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کتنی اسلام موافق ہو گی ، بات چلی تھی گستاخ رسول کی سزا موت ہے کہ حوالے سے ، صاحب کہنے لگے کہ ایسا نہیں ہو گا اسلام میں ایسی سزا نہیں ہو گی کیونکہ انکی عقل نہیں مانتی ۔ میں نے کہا صاحب آپکی عقل اسلام میں حجت کب سے ادھر تو دلائل و براہین پر جانچا اور پرکھا جاتاہ ے ۔ نیز بتلانا مقصود یہ ہے کہ لوگ اپنی عقلوں کو بنیاد بنا لیتے ہیں ۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ عقل و فہم انسان کے علم  اور فن میں مہارت پر مبنی ہوتا ہے ، اس سے یہ مراد نہین کہ آپ اپنی عقل کو استعمال نہیں کر سکتے بلکل کر سکتے ہیں ۔ لیکن آپ اپنی عقل کو اسلامی اور شرعی مسائل کو جج کرنے کے لیے استعمال نہیں کر سکتے اسکی وجہ صرف اتنی ہی ہے  کہ آپ کے پاس نہ تو اس فن کا علم ہے نہ ہی آپ اس فن میں کسی قسم کی مہارت رکھتے ہیں ۔ بلکل ایسے ہی جیسے ایک موچی کسی ٹاپ سرجن کو مشورہ نہیں دے سکتا کہ آپ ٹانکے صحیح نہیں لگاتے میں جوتوں کو دس سال سے سی رہا ہوں مجھے زیادہ تجربہ ہے لہذا مریض کو ٹانکے لگانے کے معاملے میں آپ سے بہتر میں جانوں گا ۔ تو اس موچی کو سکیورٹی والے لاتیں مار کر باہر نکال دیں گے کہ صاحب آپ موچی ہیں یہ بات آپ کسی موچی سے جا کر کر سکتے ہیں سرجن پر اعتراض سرجن ہی کرے گا ۔ بلکل اسی طرح چاہے آپ نے لینکس یا ونڈوز کے اردو ترجمے کر دیے یا پھر کیمیسٹری یا بیالوجی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لے لی ، آپ کی مہارت اسی فن میں ہے   لہذا آپ اپنی چولیاں اسی فن میں ماریں ، اس فن کے ماہر موجود ہیں لہذا اگر اس فن میں کوی غلطی پر ہے تو اسکو ٹوکنے کا حق بھی اسی فن کے ماہر کو ہے ۔
کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ کیمسٹری کے معاملے میں ایک مولوی آپکو ٹوکتا پھرے جو کیمیسٹری کی الف بے تک نہیں جانتا ؟؟؟ بلکل بھی نہیں بس یوں ہی سمجھ لیں کہ مولوی بھی نہیں چاہتا کہ آپ شرعی معملات میں انکو ٹوکیں جنکے اصول و ضوابط کی بھی الف بے آپ نہیں جانتے ۔ بلاگی دنیا میں ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ بھئی کیمسٹری سے میری آنے والی زندگی کو کوی فرق نہیں پڑتا لیکن اسلامی معملات سے پڑتا ہے لہذا مجھے حق ہے کہ میں ان معملات میں اپنی راے کا اظہار کروں ۔
ٹھیک ہے بھائی آپ کی زندگی پر اثر پڑتا ہے ، لیکن اگر آپ کو ہم ایک موچی تسلیم کر لیتے ہیں ، اب آپ کی بیٹی کو آپریشن ہے تو کیا آپ شور مچائین گے کہ ٹانکے لگانے کی اجازت آپ کو دی جائے کیونکہ آپ اپنی بیٹی سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں اور ڈاکٹر پر محبت کی بنا عدم اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔
پرسوں اسلم سے گفتگو ہو رہی تھی اور گفتگو کا موضوع وہی تھا کیا شادی سے پہلے بیوی کی اجازت ضروری ہے یا نہیں ، چونکہ میں اس حوالے سے پہلے معلومات حاصل کر چکا تھا لہذا میں نے اسکو واضح انداز میں کہہ دیا کہ اجازت کی کوی ضرورت نہیں ہاں اگر وہ اخلاقی طور پر لینا چاہے تو بہت اچھی بات ہے ۔ اسلم صاحب تھوڑے سے اڑیل انسان ہیں ، وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو اور کانفیڈینس کا شکار ہوتے ہیں ۔ انہوں نے برے زبردست انداز میں کہا کہ میں علماء اور مفتیوں کو جانتا ہوں جو تمہارے مخالف بات کہتے ہیں ،
 میں: ٹھیک ہے مجھے بتاو کون کہتا ہے
اسلم: میں نے سُنا اور پڑھا ہے
میں: بھائی کس سے سنا ہے اور کہاں پڑھا ہے زرا علماء اور کتابوں کے نام بتاو میرے علم بھی اضافہ ہو
اسلم: بھای میں نے ٹی وی کے کسی پروگرام میں سُنا تھا ایک علامہ صاحب سے اور وہ فلاں ڈائجسٹ کا پتا ہے تمہیں اس میں پڑھا تھا ۔
اب ایسے میں ، میرے پاس واہ واہ کرنے کے علاوہ کوی چارہ نہیں تھا میں اس وقت گہری سوچ میں ڈوب کر یہ سوچنے لگا کہ جس شخص کو یہ ہی نہ پتا ہو کہ مسائل کا حل ٹی وی اور ڈائجسٹ کی بجاے مفتیان اور کتب فتاویٰ سے نکالنا ہے اس سے اب میں کیا بحث کروں ۔ لہذا میں نے بات ختم کرتے ہوے کہا کہ تم مجھے اہلسنت کے کسی ایک عالم کا حوالہ یا کتاب کا نام دے دینا میں دیکھ لوں گا ۔ اگلے روز اسلم صاحب سے بات چیت ہوی ، وہ اس مسئلے کو مفتی گوگل سے پہلے ہی پوچھ چکے تھے ۔
میں: یہ دیکھو یہ فتاویٰ ہے جامعہ اشرفیہ لاہور کا مشہور اور بڑا مدرسہ ہے انکا فتویٰ ہے
اسلم: ہاں تمہاری بات ٹھیک تھی کہیں اور سے بھی تصدیق ہو گئی تھی
میں: کہاں سے ہو گئی تھی ؟
اسلم: وہ فلانے عالم ہیں نہ (جنکی ایک سائٹ ہے) وہ بھی کہتے ہیں جو تم کہتے ہو
میں: یار وہ تو تمہارے نزدیک چند مسائل میں گمراہ نہیں ؟؟؟
اسلم : ہاہاہاہاہاہا
لو جی یہ ان لوگوں کا دماغ ہے اپنی عقلی یبلی کو ثابت کرنے کے لیے مفتی گوگل کے پاس جائین گے اور مفتی گوگل اگر کسی للو پنجو کے پاس بھی پہنچا دیں گے تو اسکی بات پر آنکھیں بند کر کے یقین کر کے سمجھیں گے کہ ہم امام ابو حنیفہؒ، امام شافعیؒ ، امام احمد بن حنبل اور امام مالکؒ کے درجہ کے محقق ہو گئے ۔ 

Thursday, June 23, 2011

کراو مَگَا Krav Maga

کراو مَگَا

کراو مَگَا ہاتھوں کو استعمالتے ہوے لڑنے کا ایک طریقہ کار  ہے جسکو اسرائیل میں بنایا گیا ۔ اس میں کُشتی ، گریپلنگ (جسکو جو جوٹسو بھی کہا جاتا ہے ، شاید) اور حملہ کرنے کی تکنیک ین ہیں۔ زیادہ تر یہ اپنے شدید قسم کے  موثر ،سفاکانہ جوابی حملوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے  جیسا کہ اسکو دنیا بھر میں ایلیٹ سپیشل فورسس (پولیس اور فوج کے خاص گروہ)کو سکھایا جاتا ہے ۔ اِمی لِچٹینفیلڈ نے اسکو گلی محلوں میں ہونے والی لڑائیوں سے اخذ کیا ، اسنے اپنی باکسنگ اور کُشتی کی تربیت کو انیس سو تیس کے وسط سے اخیر تک بارٹیسلاوا میں فاشسٹ گروہوں کے خلاف یہودیوں کے بچانے کے طور پر استعمال کیا۔ اخیر انیس سو چالیس میں جب اسنے اسرائیل میں ہجرت کی تو اسنے خالی ہاتھوں سے لڑنے کی اس تکنیک کو  اُس ٹیم کو سکھانا شروع کیا جسکو بعد میں "آی ڈی ایف" بننا تھا۔ اس تکنینک کو ایک عام شہری اور آرمی دونوں کے لیے تیار کیا گیا ہے ۔
کراو مَگَا کے اندر ایک فلسفہ ہے جس میں خطرے کو بے اثر کرنے پر شدید زور دیا گیا ہے ، دفاعی اور جارحانہ مشق کا مرکب، اور غصہ۔  کراو مَگَا آی ڈی ایف سپیشل فورسز یونٹس کی طرف سے استعمال کیا جاتا ہے اور کئی قریبی تعلق رکھنے والی حالتوں کو تیار اور مختلف قانون نافذ کرنے والی تنظیوں کی جانب سے اپنایا گیا ہے جیسا کہ موساد، شِن بیٹ، ایف بی آی ، اے ٹی ایف، ڈی ای اے، آی سی ای، ایس ڈبلیو اے ٹی (المعروف بہ سواٹ) جو کہ این واے پی ڈی (نیو یارک پولیس ڈیپارٹمنٹ) کے دستوں، اور امریکہ کی سپیشل آپریشنز فورسز اور فرنچ آرمی سپیشل فورسز ۔
اہم عناصر
جیسا کہ کراو مَگَا میں کوی اصول نہیں ہیں، کیونکہ یہ ایک دفاعی لڑائی کی تکنیک ہے جسکو ریگیولیٹ نہیں کیا جاتا  یہ ذاتی دفاع کے لیے مثالی ہے ۔ یہ صارف کو محفوظ رکھنے اور مخالف کو کسی بھی قسم کے میسر زرائع سے ناکارہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔اس کو سیکھتے ہوے مردوں اور عورتوں کا یکساں قسم کی مشق سے گزرنا پڑتا ہے ۔ دیگر مارشل آرٹس تکنیکوں (جیسا کہ موے تھائی، تائی کوانڈو، جو جوٹسو وغیرہ) کی طرح اسکو کوی بھی کھیلوں کی تنظیم رگیولیٹ نہیں کرتی لہذا اسکے لیے کوی خاص قسم کے کپڑے اور وردی نہیں ہے (جیسا کہ تای کوانڈو، کُنگ فو اور دیگر میں ضروری ہے ) لیکن مختلف تنظیموں کی طرف سے  درجہ بندی کے لیے بیلٹس، بیج وغیرہ کو استعمال کیا جاتا ہے ۔
عام اصول
۱۔ جوابی حملہ جتنا جلدی ممکن ہو سکے
۲۔ جسم کے خاص اور نازک حصوں پر حملے کرنا ، جیسا کہ آنکھ، جبڑا،گلا، گھٹنا ، کہنی اور سامنی شرمگاہ وغیرہ۔
۳۔ مخالف کو جوابی حملوں کے مسلسل بہاو سے دشمن کو جلد سے جلد غیر موثر بنانا اور اگر ضروری ہو تو نیچے گرانا، جوڑ توڑنا اور اسکا دماغ ہلا دینا (عمومی طور پر دماغ کے اس حصے پر مکا مار کر جو آنکھوں سے ملتا ہے)۔
۴۔ ارد گرد کے بارے میں شعور رکھتے ہوے دشمن سے نمٹنا اور فرار کے راستوں کو تلاش کرنا، مزید حملے کرنا، اور ان چیزوں کو تلاشنا جنکو دفاع اور حملے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
کسی بھی حملے سے پہلے اکثر ممکنہ طور پر اکثر پُر خطر حالات پیدا ہو جاتے ہیں لہذا  تربیت کے دوران اپنے ارد گرد کے حالات کے بارے میں شعور حاصل کرنا بھی شامل ہے ۔یہ ممکنہ  طور پر  پُر تشدد حالات سے نمٹنے کے طریقوں کا احاطہ کرتا ہےا ور سب سے بہتر بات یہ ہے کہ اس میں  زبانی اور جسمانی طریقوں کو استعمالتے ہوے پُر تشدد حالات سے جب بھی ممکن ہو اجتناب کرنے پر زور دیا گیا ہے ۔

کراو ماگا کی تراکیب
کراو ماگا مشرقی یورپ، گلی محلوں میں ہونے والی لڑائیوں، آرمی کی لڑائی، باکسنگ، موے تھای،مغربی کُشتی اور جوجوٹسو  کی تراکیب کو اپنے اندر شامل کرتا ہے ۔
ہاتھ اور بازو کی تکنیک
کراو مگا میں مکوں پر کافی اہمیت دی جاتی ہے اور انکو حملے کا بنیادی حصہ سمجھا جاتا ہے جو کسی بھی صورت حال میں استعمال ہو سکتے ہیں ۔ کراو مگا میں باکسنگ میں مہارت حاصل کرنے کو کافی تعریفی نظروں سے دیکھا جاتا ہے جیسا کہ لِچفیلڈ خود ایک قومی لیول کا باکسر تھا ۔سیدھا مُکا،ہتھیلی کا وار،نچلا مُکا،ہتھوڑا مُکا، ہُک،اپر کٹ، چاپ، اور ہینڈ اور اسکی قسم کے دیگر مُکوں میں سے یہ چند ایک ہیں جو کراو مگا کی  ہاتھ اور بازوں کی تکنیک میں شامل ہوتے ہیں ۔
کِکِس (ٹانگوں) کی تکنیک
کراو مگا ککس کو استعمال کرتا ہے لیکن اصل اہمیت کم خطرے کی حامل ککس کو دی جاتی ہے ، مزید اعلیٰ درجہ اور خطرے کی حامل ککس کو اعلیٰ درجوں میں پڑھایا جاتا ہے لیکن انکے استعمال  کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے ۔انکو بنیادی طور پر اس لیے سکھایا جاتاہ ے کہ تربیت حاصل کرنے والے طلباءایسے شخص سے مقابلے میں استعمال کر سکیں جسکی تای کوانڈو جیسے مارشل آرٹس میں تربیت رہی ہو۔ٹانگوں کی کچھ  تکنیک میں فرنٹ(سامنے سے) کک،سائیڈ کک، بیک کک، ہیل کک، سلیپ کک،ایکسس کک اور اسکی قسم کی گھٹنے کےحملے اور سویپنگ شامل ہے۔

دفاعی تراکیب
سب سے بہترین دفاع سب سے بہترین حملہ ہے کے اصول کے تحت کراو مگا کے طلباء کو دفاع سے حملہ کی طرف جتنی جلدی ہو سکے جانا سکھایا جاتا ہے ۔حملے کر مسدود کرنے والی زیادہ تر تکنیک جلد سے جلد دفاع سے حملہ کی طرف جانے کی سہولت کے ساتھ بنائی گئی ہیں۔طلباء کو کک اور مکوں کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ ایک زاویے سے کیے گئے حملے کا دفاع بھی سکھایا جاتا ہے ۔
زمینی لڑائی
کراو مگا میں اس پر شدید زور دیا جاتا ہے کہ ہر صورت میں زمین سے بچا جائے لیکن اگر کوی اور صورت نہ ہو تو زمین پر لڑنے کو بھی قبول کیا گیا ہے۔طلباء کو زمین پر لڑنے کے لیے بہترین طریقہ اور زاویہ رکھنے کے ساتھ ساتھ ، کس طرح کچھ ککس کو زمین پر ہوتے ہوے مارنا ، ہاتھوں اور بازوں سے جکڑنا ، تثلیثی  طریقے سے گلا گھونٹنا اور گردن توڑنا سکھایا جاتا ہے۔جکڑے ہوے کس طرح مکوں کا دفاع کرنا ہے، گلا گھونٹنے  اور  گردن کے جکڑے جانے کے ساتھ ساتھ اگر کلائیاں جکڑی جائیں تو ایسے موقع پر کیا کرنا ہے بھی سکھایا جاتا ہے ۔
گرانا اور پھینکنا
کراو مگا میں بہت زیادہ گرانا اور پھینکنے پر زیادہ زور نہیں دیا جاتا کیونکہ یہ طریقہ کار زمین سے دور رہنے پر زیادہ زور دیتا ہے۔کچھ تراکیب  جو اس حوالے سے سکھائی جاتی ہیں ، جیسا کہ رَسٹ لاک (کلای کو جکٹر کر انسان  کو ناقابل عمل بنانا)،ایک ٹانگ یا دونوں کو جکڑ کر نیچے گرانا،ہپِ تھرو اور ایک ہاتھ اور کندھے کو استعمال کرتے ہو ے گرانا۔
بندوق، چاقو  اور چھڑی کا دفاع
کراو مگا تفصیلی طور پر مختلف طریقہ کار کے زریعے خود کو بہت سے عام ہتھیاروں  کے خطرے سے بچانے کے طریقہ کار بتاتا ہے ، جیسا کہ یہ آرمڈ سروسز کے لیے بنایا گیا تھا۔کراو مگا کی ان تراکیب میں شامل ہیں: بندوق کے دفاع کی تراکیب، چاقو کے دفاع کی تراکیب،  اور زیادہ تکلیف پہنچانے والے ہتھیار جیسا کے چھڑی وغیرہ۔



بندوق کے مقابلے میں دفاع کرنے کی تعلیمات پر مبنی
 کروا مگا کی ایک تکنیک کی ویڈیو
یہ مضمون اس مضمون کا ردو ترجمہ ہے ۔



کراو مگا کے بارے میں مزید جاننے کے لیے میں آپکو اس ڈاکیومینٹری کو دیکھنے کا مشورہ دوں گا ۔

Wednesday, June 22, 2011

زندگی مجھے اب یوں ستانے لگی

ویسے میں شاعر نہیں، لیکن  کل  کچھ الفاظوں نے دماغ میں آنکھ مچولی کھیلی تو بستر سے اٹھ کر انکو نزدیکی کاغذ پر پاس پڑی پینسل سے لکھ ڈالا ، اگلے دن شام کو گھر واپس آیا تو وہ کاغذ جہاں ہونا چاہیے تھا وہاں نہ تھا، امی سے پوچھنے پر وہ کہیں اور سے ملا ،امی نے مذاق اڑانے کے واسطے میری شاعری کا مذاق اڑایا ۔ میں نے الفاظوں کے جوڑ توڑ اور اشعار کی صحت کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگیں ، انسان جن حالات میں پُہنچتا ہے ویسی شاعری بھی شُروع کر دیتا ہے ۔ اب میں یہ سوچ رہا ہوں کہ یہ تعریف ہوی یا بستی ، کیونکہ کاشف نے بھی ایک زمانے میں عشقیہ شاعری شروع کی ہوی تھی جی ، اور وہ بھی بڑی زور دار قسم کی ۔ بہر حال اشعار ملاحظہ فرمائیں۔

زندگی مجھے اب یوں ستانے لگی
خواہشوں سے دور لیجانے لگی
فیصلوں سے پختگی بھی جانے لگی
جو ہنساتی تھی مجھکو رُلانے لگی
اور
 میں نے خوابوں کو دیکھنا چھوڑ دیا
جب حسرتیں آنکھوں میں بھر آنے لگی
عظیم شاعر و ادیب انکل ٹام